پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے اتحادکا پہلا امتحان ناکامی پر منتج ہوا

پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے اتحادکا پہلا امتحان ناکامی پر منتج ہوا
پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے اتحادکا پہلا امتحان ناکامی پر منتج ہوا

  

عام انتخابات کے بڑے معرکے سے قبل ایک منی انتخاب نے حکمران اتحاد کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، خصوصاً پیپلزپارٹی کے لئے لمحہ فکریہ ہے جو گزشتہ ساڑھے چار سال سے اقتدار میں ہے اور آئندہ بھی انتخابات جیت کر اقتدار میں آنے کی دعویدار ہے۔ پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کے نئے صدر میاں منظور احمد وٹو کا دعویٰ ہے کہ وہ پنجاب سے مسلم لیگ (ن) کا صفایا کردیں گے لیکن یہاں صورت حال بالکل واضح ہو گئی جب پنجاب سے مسلم لیگ (ن) نے ضمنی انتخابات میں قومی اسمبلی کی دونوں نشستیں جیت لیں اور پانچ صوبائی حلقوں پر بھی کامیابی حاصل کی جبکہ ایک آزاد امیدوار چودھری خادم حسین جیت کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گئے ہیں۔ ان ضمنی انتخابات میں جو بڑے عام انتخابات کا ایک ٹریلر تھا، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے اتحاد کو صوبائی اسمبلی کی ایک نشست ملی ہے، سندھ سے بھی پیپلز پارٹی کے امیدوار بڑی مشکل سے جیتے ہیں۔ یوں مجموعی طور پر مسلم لیگ (ن) کی برتری ثابت ہو گئی۔ حتیٰ کہ ساہیوال میں جو آزاد امیدوار تحریک انصاف کی حمایت حاصل کئے ہوئے تھے وہ بھی ہار گئے اور عمران خان کہتے ہیں کہ ضمنی انتخابات مقبولیت کا پیمانہ نہیں ہوسکتے۔

جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے تو ان کی تحریک انصاف بنیادی طور پر عام انتخابات کی تیاری کر رہی ہے اور عمران خان کے بقول ان کا سونامی سب کو بہا کر لے جائے گا۔ یہ مان لیں تو پھر اصل مقابلہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان رہ جاتا ہے ۔ پیپلزپارٹی کے ساتھ مسلم لیگ (ق) بھی شامل ہے اور اس اتحاد نے کامیابی کا دعویٰ کیا لیکن ضمنی انتخابات کے ٹریلر نے تو کچھ اور ہی ثابت کیا ہے۔ عام اندازے اور تجزیئے بھی یہی ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت بڑھی اور پیپلزپارٹی کی کم ہوئی ہے۔

جہاں تک پیپلزپارٹی کا تعلق ہے تو یہ ایک بڑی پارٹی ہے، اس میں جان بھی بہت ہے اور کارکنوں کی بھی کمی نہیں، ووٹ بنک بھی ہے لیکن حکومت بنانے سے لے کر اب تک اس کو جن مسائل اور چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا یہ اس سے عہدہ برآ نہیں ہو پائی۔ جماعتی اور حکومتی کمزوریوں کی نشاندہی مسلسل کی جاتی رہی ہے لیکن کسی نے توجہ نہیں دی کہ اقتدار کا نشہ بہت بڑا ہوتا ہے۔ ویسے بھی جب پیپلزپارٹی اپنے اصول اور نظریات کی قربانی دے کر مفاہمتی اور مصالحتی سیاست کے نام پر بلیک میل ہو تو صاف الزام آتا ہے کہ یہ سب اقتدار کے لئے کیا جا رہا ہے۔ تمام تر دعوﺅں کے باوجود یہ جماعت اپنے کارکنوں اور حامی رائے دہندگان کو متحرک نہیں کرسکی، اب تو ناکامی واضح ہو گئی ہے۔

پارٹی کے اندر جو اختلافات بنے، ان کو درخور اعتنا نہیں جانا گیا اور ناراض لوگوں کو منانے کے اعلان جھوٹے دعوے ثابت ہوئے۔ مہنگائی، لوڈشیڈنگ اور بدامنی نے پیچھا نہیں چھوڑا، جبکہ شروع دن سے کرپشن کا الزام اور شدید پروپیگنڈہ بھی عوامی ذہن کو متاثر کرتا رہا، پیپلز پارٹی میڈیا کے میدان میں بھی روایتی نکمی ثابت ہوئی کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں اس سے پہلے بھی ہوتا رہا ہے، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اپنوں کی جگہ مخالفوں پر اعتماد کیا اور اب تک یہی ہو رہا ہے ۔نتیجہ صاف ظاہر ہے۔

جمعرات کو لاہور میں ناہید خان اور ڈاکٹر صفدر عباسی بھی ایک بڑا شو کرنے کی کوشش کریں گے، ضمنی انتخابات کے نتائج نے ان کو تقویت دی اور وہ زیادہ اعتماد سے پارٹی قیادت پر حملہ آور ہوں گے۔ کیا پیپلزپارٹی کی قیادت اس ضمنی ٹریلر کا صحیح تجزیہ کر سکے گی؟

پاکستان الیکشن کمیشن کے لئے یہ ضمنی انتخابات عام انتخابات کے لئے ریہرسل کی حیثیت رکھتے تھے۔ اچھے انتظامات کئے گئے۔ ریٹرننگ افسر اور زیادہ عملہ عدلیہ سے لیا گیا۔ پولیس کے علاوہ رینجرز کا تعاون حاصل کیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے اس سے پہلے ایک ضابطہ اخلاق بھی تیار کیا تھا جس کے لئے تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت بھی کی گئی۔ ضمنی انتخابات میں اس ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اُڑ گئیں۔ امیدواروں کے حامی کھلے بندوں اسلحہ لئے پھرتے رہے، پھر ہوائی فائرنگ بھی ہوئی۔ ایسا انتخابی عمل کے دوران اور اس کے بعد جیت کی خوشی میں بھی ہوا۔ انتظامیہ نے کوئی کارروائی نہیں کی حالانکہ اسلحہ لانے اور نمائش کرنے پر بھی پابندی ہے۔ اب صوبائی الیکشن کمشنر نے یہ جواز پیش کیا کہ اسلحہ کی نمائش اور فائرنگ پولنگ سٹیشنوں پر نہیں ہوئی، بعد میں فائرنگ کی گئی اس پر پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی یہ ذمہ داری انتظامیہ کی تھی۔ وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے نوٹس لیا ہے۔ یقیناً رپورٹ مثبت ہوگی یا شاید ایک آدھ رپورٹ درج کر لی جائے۔ بہرحال الیکشن کمیشن کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے یہ تو سات حلقوں کے ضمنی انتخابات تھے آئندہ پورے ملک میں انتخابات ہوں گے۔ کیا اس وقت بھی یہی کچھ ہو گا تو پھر پُرامن انتخابات کا خواب کیسے شرمندہ تعبیر ہو گا، ہارنے والوں نے دھاندلی اور پولیس کی مداخلت کے الزام لگائے ہیں حتیٰ کہ سیالکوٹ میں تو الیکشن کا بائیکاٹ بھی کیا گیا۔

عام انتخابات کا ٹریلر

مزید :

تجزیہ -