” بھگت سنگھ چوک “

” بھگت سنگھ چوک “
” بھگت سنگھ چوک “

  

یقین کریں کہ میں نہیں جانتا کہ ہماری اس بھگت سنگھ کے نام کے ساتھ کیا دشمنی ہے جوپنجاب کا بیٹا تھا،جس نے جلیانوالہ باغ امرتسر اور تحریک عدم تعاون کے خونی واقعات سے گہرا اثر قبول کرتے ہوئے برطانوی راج کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیا، 1921میں سکول چھوڑ دیا بعدازاںنیشنل کالج میں تعلیم شروع کی، 1927 میں لاہور میں دسہرہ بم کیس کے سلسلے میں گرفتار ہوا اور لاہور کے شاہی قلعے میں رکھا گیا۔ ضمانت پر رہائی کے بعد اس نوجوان نے بھارت سبھا بنائی اور پھر انقلاب پسندوں میں شامل ہوگیا۔ دہلی میں عین اس وقت، جب مرکزی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا تھا اس نے اور بی کے دت نے دھماکا پیدا کرنے والا مواد پھینکا،دنوں گرفتار کرلئے گئے،عدالت نے قید کی سزا دی۔1928 میں سائمن کمیشن کی آمد پر لاہور ریلوے سٹیشن پر زبردست احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ پولیس نے لاٹھی چارج کیا جس میں لالہ لاچپت رائے زخمی ہوگئے۔ اس وقت لاہور کے سینئر سپرٹینڈنٹ پولیس مسٹر سکاٹ تھے۔ انقلاب پسندوں نے ان کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا۔ لیکن ایک دن پچھلے پہر جب مسٹر سانڈرس اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ پولیس لاہور اپنے موٹر سائیکل پر دفتر سے نکلے تو راج گرو اور بھگت سنگھ وغیرہ نے ان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ حوالدار جین نے سنگھ کا تعاقب کیاتو انھوں نے اس کو بھی گولی مار دی اور ڈی اے وی کالج ہوسٹل میں کپڑے بدل کر منتشر ہوگئے،آخر خان بہادر شیخ عبدالعزیز نے کشمیر بلڈنگ لاہور سے ایک رات تمام انقلاب پسندوں کو گرفتار کر لیا۔ لاہور کے سینٹرل جیل کے کمرہ عدالت میں ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ بھگت سنگھ اور دت اس سے قبل اسمبلی بم کیس میں سزا پا چکے تھے۔ مقدمہ تین سال تک چلتا رہا۔ حکومت کی طرف سے خان صاحب قلندر علی خان اور ملزمان کی طرف سے لالہ امرد اس سینئر وکیل تھے۔ بھگت سنگھ اور سکھ دیو کو سزائے موت کا حکم دیا گیا اور 23 مارچ 1931 کو ان کو پھانسی دے دی گئی۔ اب سینئر صحافی انور قدوائی کے مطابق یہاں دو روایات ہیں، ایک تو یہ کہ پھانسی فیروز پور کے قریب، دریائے ستلج کے کنارے دی گئی اور ان کی لاشوں کووہیں جلایا گیا اور دوسرے یہ کہ یہ پھانسی لاہورمیں اس مقام پھانسی گھاٹ میں دی گئی جہاں آج شادمان کا فوارہ چوک ہے۔ بہت سارے روشن خیالوں کے ساتھ ساتھ جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمان رمدے کی سربراہی میں لاہور کی خوبصورتی کو بحال کرنے کے لئے بنائی گئی دلکش لاہور کمیٹی بھی یہی چاہتی ہے فوارہ چوک کا نام بھگت سنگھ چوک رکھ دیا جائے، وہ بھگت سنگھ جو 1907میں پیدا ہوا اور 23 مارچ1931کو صرف 23 برس کی عمر میں پھانسی کے تختے پر جھول گیا۔

بھگت سنگھ انقلاب پسند تھا، وہ گاندھی اور کانگریس کی طرف سے اس آزادی کے تصور کے خلاف تھا جس میں برصغیر کے کروڑوں عوام اپنے جیسے کالوں کے غلام ہوجائیں ۔ گاندھی اور نہر و بھی اس کے خلاف تھے مگر وہاں قائد اعظم محمد علی جناحؒ بھگت سنگھ کی جدوجہد اور قربانی کوتسلیم کرتے تھے۔ سینئر صحافی اور اینکر افتخار احمد نے دلکش لاہور کمیٹی کے اجلاس میں قائداعظم ؒکی انہی تقاریر کا مکمل ریفرنس بھی پیش کیا، یہ اس موقعے کی بات ہے جب برطانوی راج اپنے آمرانہ قوانین کو نافذ کرتے ہوئے ملزمان کی عدم موجودگی میں ہی ان پر مقدمہ چلا رہا تھا، جیل میں بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں سے بدسلوکی روا رکھی جا رہی تھی جس پر بھگت سنگھ نے ان بدسلوکیوں اور ناانصافیوں کے خاتمے اور خود کو سیاسی قیدی تسلیم کروانے کے لئے بھوک ہڑتا ل کی۔ قائداعظمؒ نے بارہ اور چودہ ستمبر 1929 کو تقریر کرتے ہوئے حکومتی روئیے کی مذمت کی جبکہ اس موقعے پر کانگرس کے ارکان آزادی کی جدوجہد کرنے والے آزادی کے اس کارکن اور اٹھارہ اپریل 1929 کو اسمبلی میں پھینکے جانے والے دھماکہ خیز مواد کی مذمت کررہے تھے۔ میں اتنا جانتا ہوں کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ جیسا بڑا اور انصاف پسند وکیل بغیر کسی جواز کے بھگت سنگھ کی حمایت نہیں کر سکتا تھا، قائداعظمؒ نے برطانوی رکن کو مخاطب کر کے کہا ۔۔"Do You Wish to Prosecute Them or Persecute Them" ۔۔ بہرحال تاریخی حوالوںسے یہی ثابت ہوتا ہے کہ بھگت سنگھ برطانوی راج کا باغی اور آزادی کی جدوجہدکا سپاہی تھا مگر ہمارے کچھ رہنما جن میں خاص طو رپر قابل احترام امیر حمزہ شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ شادمان کے فوارہ چوک کا نام بھگت سنگھ چوک نہیں رکھا جا سکتا، وہ کہتے ہیں کہ ایک اسلامی ملک اور معاشرے میں مسلمان مشاہیر کے ناموں اور کاموں کو اہمیت دی جانی چاہئے۔ ایک لمحے کے لئے یہ خیال بھی دل میں آتا ہے کہ بھگت سنگھ ایک سکھ ہونے کی حیثیت سے پاکستان کے قیام کا مخالف بھی تو ہوسکتا ہے لیکن ذہن کو معمولی سا منطقی بناتے ہوئے اگر سوچا جائے تووہ نوجوان جو تئیس مارچ 1931 کو یعنی قرارداد لاہور جسے ہندو پریس نے قرارداد پاکستان کا نام دیا، پیش ہونے سے بھی پورے نو برس پہلے پھانسی پر لٹکا دیا گیا، اسے پاکستان کے تصور کا مخالف کیسے کہا اور سمجھا جا سکتا ہے۔

 مولانا امیر حمزہ جو کہ بائیس مختلف جماعتوں کی حرمت رسول کمیٹی کے چئیرمین بھی ہیں،وہ فوارہ چوک کا نام بھگت سنگھ چوک رکھنے کو بھارت کی ہندو ثقافت اور تجارت کو پاکستان میں بالادست کرنے کی سازش کی کڑی قرار دیتے اور اس چوک کانام حرمت رسول چوک رکھنے کا اعلان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اس چوک کا نام پاکستان کا نام تجویز کرنے والے چودھری رحمت علی کے نام سے موسوم تھا اور یہی بات شادمان ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر زاہد بٹ کرتے ہیں مگر میں نے ڈی سی او لاہور نور الامین مینگل سے اس بارے پوچھا تو انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ فوارہ چوک کا نام چودھری رحمت علی چوک رکھنے کا نوٹیفیکیشن کبھی جاری ہی نہیں ہوا۔ زاہد بٹ جذباتی ہو کے کہتے ہیں کہ اگر کسی کو بھگت سنگھ سے بہت محبت ہے تو وہ جائے، ایک پلاٹ خریدے اور وہاںپربھگت سنگھ کی یادگار تعمیر کر لے، مولانا امیر حمزہ کا بھی کہنا ہے کہ سکھوں کو چاہئے کہ وہ اپنی جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچاتے ہوئے خالصتان بنائیں، وہاںدارالحکومت کا نام وہ بھگت سنگھ رکھ دیں مگر یہاں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ ممکن نہیں ہے۔ میری مولانا سے درخواست ہے کہ ایک ایسا چھوٹا سا چوک جس کے قریب ہی گندا نالہ گزر اور بدبو بکھیر رہا ہے، اسے دنیا کی سب سے خوبصورت اور خوشبودار شخصیت کے نام اور حرمت سے منسوب نہیں کیا جانا چاہئے ۔جسبیر سنگھ جسی ایک سکھ گلوکار ہے ۔ اس نے مولانا امیر حمزہ کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ وہ ہندوستان پر لعنت بھیجتا ہے اور ابھی تک خالصتان کا وجود کہیں بھی نہیں، وہ پاکستانی ہے اوراس نے پاکستان کے لئے ترانے بھی گائے ہیں، ایک سکھ کے نام سے یہ چوک منسوب کر دیا جائے تاکہ وہ بھارت میں بسنے والے ہندوو¿ں کو بتا سکے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہے، مولانا جواب میں فرماتے ہیں کہ وہ خود ننکانہ صاحب میں باباگورونانک سکول کے پڑھے ہوئے ہیں، ننکانہ صاحب سے رنجیت سنگھ کی مڑھی تک سکھوں کے تمام مقدس مقامات محفوظ ہیں اور یہی اقلیتوں کے ساتھ سب سے اچھا اور بہتر سلوک ہے مگر پاکستان میں کہیں بھی ، کسی بھی جگہ کا انہیں نیا نام رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ میںان کی بات سن کے سوچنے لگا کہ اگرمتحدہ ہندوستان میں ہندو اسی قسم کا رویہ نہ اپناتے، مسلمانوں کا متحدہ ہندوستان پر حق تسلیم کیاجاتا تو ہمیں پاکستان بنانے کی ضرورت پیش نہ آتی ، کیا ہمیں اکثریت میں ہو کے وہی کردار اپنانا چاہئے جو متحدہ ہندوستان کی اکثریت کا تھا۔ مجھے سینئر صحافی محترم جواد نظیر نے کہا کہ ہم جیل روڈ،ڈیوس روڈ اور ٹمپل روڈ جیسی کتنی ہی سڑکوں کے نام تبدیل کر چکے ہیں مگرنئے ناموں سے ان سڑکوں کو کوئی نہیں پکارتا تو ایسے میں اگر فوارہ چوک شادمان کا نام بھگت سنگھ چوک رکھ بھی دیا جائے تو یہ کون سا اسلامی معاشرے میں غیر اسلامی انقلاب برپا کر دے گا۔ میں نے ان کی بات سے اتفاق کیا، میرا خیال بھی یہی ہے کہ ہمیں اپنے دلوں کو کچھ کشادہ کرنا ہوگا،قرآن کے دئیے ہوئے اس راستے کو اپنانا ہوگا کہ جو قومیں ہمارے ساتھ حالت جنگ میں نہیں ہیں، ان کے جان و مال ہی نہیں عزت و وقار کا تحفظ کیا جائے ۔۔۔ یہی حق اقلیتوں کو ہمارا آئین دیتا ہے۔

مزید :

کالم -