ڈرون بند ہو گئے، تو پھر؟

ڈرون بند ہو گئے، تو پھر؟
ڈرون بند ہو گئے، تو پھر؟

  

امت مسلمہ مےں انتشار نہےں ہونا چاہئے....ےہ ہر مسلمان کی خواہش ہے ۔الحمدللہ ہم اےک خدا کو ماننے والے ہےں، وہ عظےم الشان رب جو اپنی ذات مےں ےکتا ہے، وہ کسی کی اولاد نہےں اور نہ کوئی اس کی اولاد ہے اور کوئی بھی اس کے برابر کا نہےں، وہ مالک بھی ہے، خالق بھی ہے، رازق بھی، ہر شے کا علم رکھنے والا، زمےن اور آسمان مےں جو کچھ ہے اسی کے حکم سے ہے ۔زندگی دےنے والا ہے اور موت کا پروانہ بھی اُسی کے حکم سے آتا ہے۔ عزت اور ذلت اسی کے ہاتھ مےں ہے ۔ جنبش نہےں ہو سکتی اس کی طاقت کے بغےر،تمام تعرےفےں، صرف اُسی کی ذات کے لئے ہےں ۔انتہائی مہربان اور رحم کرنے والا ہے، بحےثےت مسلمان ہمارا اےمان ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہےں ۔ زمےن و آسمان کی وسعتوں مےں عبادت کے پھول جہاں بھی کھلتے ہےں، اس کی خوشبو مےں رب ذوالجلال کی عظمت مہکتی ہے ۔ وہی ہمارا مددگار اور کارساز ہے ۔ مسلمان اللہ تعالیٰ کے واحد ہونے کی پہچان ہے، انہےں مسلمان کا اعزاز اسی وقت ملتا ہے جب وہ اپنے دل و زبان سے ےہ اعلان کرتے ہےں کہ اللہ واحد ہے اور رکوع اور سجود صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے ہےں۔

مسلمان کااےمان جہاں خدا ئے بزرگ و برتر کی وحدانےت کا مرکز ہے، وہاں اس کا دل اللہ تعالیٰ کے آخری پےغمبر حضرت محمد مصطفیﷺ کی محبت سے روشن ہے۔ آقائے دوجہاں پوری انسانےت کے لئے رحمت اللعالمےن ہےں۔آپ© کے عمل اور کردار مےں رہتی دنےا تک انسانوں کے لئے رہنمائی موجود ہے ۔زمےن کے ذرے ذرے مےںاس عظےم الشان ہستی کی رحمت برستی ہے ۔ خود خدا کی ذات آپ پر درود و سلام بھےجتی ہے اور اےمان کامل نہےں ہو سکتا ہے جب تک خدا کی اطاعت کے ساتھ ساتھ حضوراکرمﷺ کی اطاعت نہ کی جائے اور اللہ کی محبت کے ساتھ ساتھ آپ سے محبت نہ کی جائے ۔ہم مسلمانوں کی خوش نصےبی ہے کہ ہماری نسبت اس رسول سے ہے، جو اللہ تعالیٰ کا محبوب بھی ہے اور وجہ تخلےق کائنات ہے :

وہ دانائے سبل ‘ ختم الرسل مولائے کل جس نے

غبار راہ کو بخشا فروغ وادی ِ© ©© سےناِِ

پھر مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی، خاص شفقت ،خاص رحمت قرآن مجےد فرقان حمےد ہے ۔ جو دنےا کی واحد کتاب، جو انسانوں کے دلوں مےں لکھی ہوئی ہے اور قےامت تک اس کے زےر، زبر اور پےش مےں کوئی فرق نہےں آ ئے گا ۔ آخری الہامی کتاب جس مےں کوئی شک نہےں اور جس مےں رشد و ہداےت کے خزانے ہےں، پرہےز گاروں اور متقےوں کے لئے حکمت اور دانائی کی امےن قرآن حکےم خدا کی معتبر اور پاکےزہ کتاب ہے، جو حضور اکرمﷺ کے سےنے مےں اللہ کے حکم سے اتری ہے۔ ہمارے پےارے نبی جن پر ہمارے ماں با پ قربان ، اےک اےک لفظ کے ا مےن ہےں اور جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود خدا ئے واحد نے اپنے ذمے لی ہے ،جس کے بارے مےں خدا کا ارشاد ہے کہ اگر ےہ کلام پہاڑوں پر اتارا جاتا تو وہ رےزہ رےزہ ہو جاتے ۔ ےہ سعادت اور طاقت بھی اللہ تعالیٰ نے فخر موجودات کو دی کہ قرآن کی آےات آپ کے ہونٹوں کوچھو کر مسلمانوں تک پہنچےں۔ ہمارا اےمان ہے کہ قرآن مےں شفا ہے اور ےہ پڑھنے اور سننے والوں پررحمت کی بارش نچھاور کرتی ہے۔ قرآن کا اےک اےک لفظ مسلمانوں کے لئے رحمت و برکت اور ہداےت کا ذرےعہ ہے ۔زندگی کی ہر مشکل مےں ےہ آسانےوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔قرآن پاک مسلمان کا اےک اےسا ساتھی جو اسے کسی لمحے کمزور نہےں ہونے دےتا ۔

اللہ، رسول اور قرآن پاک کو ماننے والے جنوبی ایشیا کے مسلمان پچھلے کئی سال سے عجیب و غریب انتشار کا شکار ہیں۔ کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ فساد کا سرا کہاں ہے۔ مسلمان ایک دوسرے سے دست و گریبان ہےں اور میڈیا انتشار کی اس آگ پر تیل چھڑک رہا ہے۔ قوم عجےب بحث مےں اُلجھ گئی ہے ۔وطن کی حفاظت کے لئے پاک فوج اور پاکستانی عوام کی شہادتےں اور قربانےاں کسی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہےں، ان پر غےرضروری بحث کرکے وقت ضائع نہ کےا جائے۔ افغان بارڈر پر آگ کے شعلے نکل رہے ہےں اور امرےکہ کی طرف سے ڈرون حملوں نے صورت حال کو گھمبےر بنا دےا ہے، جب بھی مسلمانوں کے درمےان مذاکرات شروع ہونے کی باتےں ہوتی ہےں تو ڈرون حملہ ہو جاتا ہے۔ مذاکرات ہوتے ہوتے رک جاتے ہےں ۔ سوال ےہ ہے کہ کےا مسلمانوں کو آپس مےں اکٹھا کرنے اور اےک مےز پر مکالمے کے لئے پہلے ڈرون حملوں کو روکنا ضروری ہے ۔

ڈرون حملوں کے حوالے سے ہمارے اےک دوست کی رائے بڑی معتبر لگتی ہے، کےونکہ وہ سےدھے سادے مسلمان ہےں !! تعلےم و تدرےس سے وابستہ ہےں، تلاوتِ کلام پاک سے خصوصی شغف رکھتے ہیں۔ ان کے سامنے مَےں نے ےہی سوال رکھا توکہنے لگے کہ فرض کرو امرےکہ ڈرون حملے بند کر دے ۔ تو کےا اس خطے کے مسلمان اکٹھے ہو جائےں گے؟ اپنے مسائل کو بات چےت سے حل کر لےں گے ؟مَےں نے کہا کےوں نہےں، پارلےمنٹ کے اندر اور باہر ہر طرف شور ہے کہ امرےکہ ڈرون حملے بند کرے تاکہ مذاکرات شروع ہو ںاور اگر اتنے بڑے لےڈر اور اقتدار کے مالک لوگ ڈرون حملوں کو مذاکرات مےں رکاوٹ سمجھتے ہےں تو ےقےنا ان کا مو¿قف مضبوط ہے ۔کہنے لگے بالکل نہےں،امرےکہ ڈرون حملے بند کر دے تو ےہ پھر بھی اکٹھے نہےں ہوں گے ۔ امرےکی ڈرون حملے ان کو مذاکرات سے نہےں روک سکتے، ان کے اندر کی کمزوری ان کو مذاکرات سے روک رہی ہے ۔ان کو اپنی طاقت کا علم نہےں، خدا ئے واحد پر اےمان، رحمت اللعالمےن سے محبت اور قرآن کے نور سے منور مسلمانوں کو اپنی صلاحےتوں کا پتا ہی نہےں ؟ وہ بہانے بنا رہے ہے، انہےں اپنی نےتےں ٹھےک کرنے کی ضرورت ہے ،ہاں اگر ےہ مسلمان غےر مشروط طور پر اکٹھے بےٹھ جائےں ، دےنی رشتے اور دنےاوی وضع داری کے ساتھ مکالمہ کرےں،اللہ رسول اور قرآن کی معرفت سے رہنمائی حاصل کرےں،یکجا ہونے میں کوئی وقت ضائع نہ کرےں، اپنے فےصلے خود کرےں، اےک دوسرے کی سنےں اور مانےں ،اغےار کی باتوں پر ےقےن نہ کرےں،تو اس خطے مےں امن قائم ہوگا اور جہاں امن ہو گا، وہاں ڈرون حملے خود بخود رک جائےں گے ۔ مسلمانوں کے اےمان کی قوت اتحاد ہے اور غےر مسلموں کے ساتھ تعلقات مےں اسلام کی واضح ہداےات ہےں، کےونکہ جب قوموں مےں اتحاد نہ رہے تو وہ دوسروں کے لئے تر نوالہ بن جاتی ہےں ۔مسلمان مل کر اللہ اکبر کا نعرہ لگائےںتو فضائےں امن کی ہواﺅں سے سرشار ہو جائےں گی، پھر کوئی ڈرون حملہ ان فضاﺅں مےں نہےں ہو سکے گا۔ مسئلہ ڈرون حملوں کا نہےں،مسئلہ مسلمانوں کے سےنوں مےں روشن اےمان کے ےقےن کا ہے:

ےقےن افراد کا سرماےہ تعمےر ملت ہے

ےہی قوت ہے جو صورت گر تقدےر ملت ہے

مزید :

کالم -