پروفیسر سیّد علی عباس جلالپوری کی یاد میں

پروفیسر سیّد علی عباس جلالپوری کی یاد میں
پروفیسر سیّد علی عباس جلالپوری کی یاد میں

  

پروفیسر سیّد علی عباس جلالپوری روشن خیالی کی تحریک کے ایک نمائندہ دانشور تھے۔ ان کی علمی تگ وتاز کا میدان فلسفہ تھا۔ تدریس کے پیشے سے وابستہ تھے، لیکن زیادہ وقت مطالعہ اور غورو فکر میں گزرتا رہا۔ سماجیات، عمرانیات، ادبیات اور تاریخ و سیاست کے وسیع مطالعہ نے انہیں صاحب الرائے بنا دیا تھا۔ وہ جو کچھ سوچتے اور جن نتائج تک ان کا ذہن پہنچتا، اسے قلم کی نوک پر لے آتے۔ انہیں اپنے ماحول کے جمود کا شدید احساس تھا اور انہیں یہ بھی بخوبی علم تھا کہ یہاں روائتی اپروچ سے ہٹ کر رائے کے اظہار کے ضمن میں بعض اوقات کتنی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، لیکن وہ نہایت بے باکی سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے۔ انہیں اپنی زندگی ہی میں مقبولیت ملنا شروع ہو گئی اور آج بھی ان کی کتابیں بڑے ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔

سید علی عباس جلالپوری کی16کتابیں ٹھیٹھ علمی کام ہے، ان میں سے روایات فلسفہ، مقامات وارث شاہ اور اقبال کا علم الکلام کو زیادہ شہرت ملی۔ ان کی بہت بڑی علمی خدمت یہ ہے کہ انہوں نے فلسفہ جیسے ادق مضمون کو کافی حد تک عام فہم بنا دیا۔ وہ بڑی صاف شفاف اور رواں نثر لکھتے تھے۔ روایات فلسفہ ایک اعتبار سے فلسفہ کی تاریخ ہے۔ انہوں نے مختلف فلسفیوں کے نتائج فکر کو بے مثال جامعیت اور شستگی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ مجھے یاد ہے جب مشہور فرانسیسی دانشور ژاں پال سارتر کا انتقال ہو گیا، تو مَیں نے سیّد صاحب لکھا تھا کہ سارتر کے فلسفہ وجودیت کو مَیں نے پہلی بار آپ کی تصنیف ”روایات فلسفہ“ کے ذریعے ہی سمجھا تھا، اس لئے مجھے تعزیت کے لئے آپ سے زیادہ موزوں آدمی اور کوئی نظر نہیں آتا۔ انہوں نے جواب میں جو خط لکھا تھا وہ چند سطور پر مشتمل تھا، لیکن ہر جملہ ان کی علمیت اور دانش کا عکاس تھا۔

حال ہی میں اُن کے خطوط کو اُن کی لخت جگر پروفیسر لالہ رُخ بخاری نے ترتیب دے کر ”مکاتیب سید علی عباس جلالپوری“ کے عنوان سے شائع کیا ہے۔ اسے ادارہ ” تخلیقات“ نے اعلیٰ گیٹ اَپ پر شائع کر کے پبلشنگ کی دنیا میں مزید نیک نامی حاصل کی ہے۔101میں سے زیادہ خطوط تو لالہ رُخ بخاری کے نام ہیں، باقی جن شخصیات کے نام ہیں ان میں جگتار سنگھ، احمد ندیم قاسمی، سید سبط الحسن ضیغم، پروفیسر ظفر علی خان، آغا امیر حسین اور سید محمد کاظم کے اسمائے گرامی نمایاں ہیں۔ ان خطوط سے سید صاحب کی خانگی اور علمی زندگی کے کئے گوشے نمایاں ہوئے ہیں۔ مثلاً وہ اپنے گھریلو امور میں پوری پوری دلچسپی رکھتے تھے، بچوں کی تربیت پر توجہ دیتے تھے حتیٰ کہ گھریلو ملازمین کے دُکھ سُکھ سے بھی باخبر رہتے تھے۔ زندگی کے آخری سالوں میں انہوں نے فالج کا بڑے حوصلے اور صبر کے ساتھ مقابلہ کیا۔ کئی خطوط میں اس معذوری کا ذکر ملتا ہے۔ لاہور میں منیر بھٹی نامی ایک صاحب سے مکان کرایہ پر لے رکھا تھا، انہیں لکھتے ہیں: ”یہ معلوم کر کے دُکھ ہوا کہ آپ بھی میری طرح موذی مرض میں مبتلا ہیں۔ خدا رحم کرے۔ مَیں دو سال سے زیادہ کا عرصہ ہوا فالج میں مبتلا رہا۔ خدا کی مہربانی سے مجھے بچے سعادت مند ملے ہیں۔ ان کی شبانہ روز خدمت نے مجھے چلنے پھرنے کے قابل بنا دیا ہے۔ اب چھڑی کے سہارے گھر کے اندر تھوڑا بہت چل لیتا ہوں۔ اس مرض سے دماغ بھی متاثر ہوتا ہے اس لئے حافظہ کمزور ہو گیا ہے اور کسی علمی مسئلے پر غور کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ بہرحال ہلکی پھلکی چیزیں پڑھ لیتا ہوں۔ فلسفے کے مطالعے نے مجھے اپنی قسمت پر شاکر رہنا سکھا دیا ہے۔ کبھی کبھار افسردگی کا احساس ہوتا ہے، لیکن پھر طبیعت خودبخود سنبھل جاتی ہے۔ اس دھوپ چھاﺅں میں زندگی گزر رہی ہے۔ اقبال نے کیا خوب کہا تھا:

کبھی حیرت کبھی مستی کبھی آہِ سحر گاہی

بدلتا ہے ہزاروں رنگ میرا درد مہجوری

سید صاحب اپنی تحریروں کی ایک قاریہ نبیلہ کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں:” اس بات کی خوشی ہے کہ آپ میری تحریریں شوق سے پڑھتی ہیں۔ ایک سال گزرا مجھ پر فالج گرا تھا۔ ابھی تک اس موذی مرض کا مقابلہ کر رہا ہوں۔ لوگ کہتے ہیں کہ بڑھاپے کا فالج علاج پذیر نہیں ہوتا، لیکن ناامید ہونا اور ہراساں ہونا میرے مسلک کے خلاف ہے اور آپ جانتی ہیں کہ ہم لوگ جہالت، تعصب اور رجعت پسندی کے اتھاہ اندھیروں میں روشن خیالی اور عقلیت پسندی کی شمع جلائے جاتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ موت کو ایک دن آنا ہی ہے۔ کیوں نہ زندگی کو ایک اعلیٰ نصب العین کے لئے وقف کر دیا جائے مجھے اگر افسوس ہے تو یہی ہے کہ داہنے ہاتھ میں رعشہ ہو جانے کے باعث مَیں لکھنے سے معذور ہو گیا ہوں۔ یہ خط بھی اپنی بیٹی عزیزہ لالہ رُخ سے لکھوا رہا ہوں، زمین دوز تاریکیوں میں کھو جانے سے پہلے ہم اپنا پرچم آپ جیسی نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کو دیے جائیں گے، جو اُسے کبھی سر نگوں نہیں ہونے دیں گے۔ آپ اُس صبح ِ بہار کو ضرور دیکھیں گی، جس کے لئے ہم لوگ خزاں کے تھپیڑے سہتے رہے ہیں اور کشمکش کرتے رہے ہیں۔ جاپان کے خلاف لڑتے ہوئے لانگ مارچ کا کوئی سپاہی گولی کھا کر گرتا تو وہ اپنی سرخ ٹوپی اپنے کسی ساتھی کو دے کر کہتا:” لو بھئی ہم تو چلے، تم اِس کی لاج رکھنا“۔ یہی حالت ہماری ہے۔ ہمیں اِس بات کا یقین ہے کہ مرنے سے پہلے جو مشعل ہم آپ کو دے کر جائیں گے اُسے آپ زندگی بھر فروزاں رکھیں گی“۔

سیّد صاحب علامہ اقبال ؒ کو فلسفی نہیں، متکلم سمجھتے تھے۔ انہوں نے ”اقبال کا علم کلام“ میں یہی نقطہ ¿ نظر تفصیل سے پیش کیا ہے، اس پر معروف ماہر اقبالیات بشیر احمد ڈار اور سید صاحب کے درمیان ایک قلمی بحث ماہنامہ ”فنون“ میں کئی اقساط کی صورت میں شائع ہوئی تھی۔ یہ بحث دونوں ہستیوں کے تعمق فکر کی عکاسی کرتی ہے۔ کاش کوئی صاحب اسے مرتب کر دے۔

سید صاحب کو پنجابی زبان و ادب سے بھی گہری دلچسپی تھی، چنانچہ زیر نظر کتاب میں دو تین خطوط پنجابی میں بھی ملتے ہیں۔ ”مقامات وارث شاہ“ ان کی پنجابی ادب سے دلچسپی ہی کے نتیجے میں منظر عام پر آئی تھی۔ وارث کے علم و فضل اور فنکارانہ حُسن پر آج بھی اس سے بہتر کوئی کتاب نہیں ملتی۔

سید صاحب کارل مارکس اور اس کی اشتراکی تحریک سے بہت متاثر تھے۔ ان کی کتاب ”تاریخ کا نیا موڑ“ ان کے خیالات کی بہترین ترجمان ہے، لیکن خطوط سے پہلی بار سید صاحب کے مذہبی احساسات سے واقفیت ملتی ہے۔ اصل میں سید صاحب صدیوں کے ذہنی جمود کو توڑنا اور مسلمانوں کو جدید مسائل حیات کی تفہیم دینا چاہتے تھے۔ ”مقامات وارث شاہ“ شائع ہوئی تو حکومت انہیں ایوارڈ وغیرہ دینا چاہتی تھی، لیکن سید صاحب نے انکار کر دیا۔ البتہ وہ بے نظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں ایوارڈ لینے پر رضا مند ہو گئے۔

سیّد صاحب6دسمبر1998ءکو چوراسی برس کی عمر میں داعی ¿ اجل کو لبیک کہہ گئے۔ ان کے خطوط کا مجموعہ اُن کی فکر اور عملی زندگی کے کئی ایسے زاویے سامنے لاتا ہے، جن سے علمی دُنیا ابھی تک ناآشنا تھی!  ٭

مزید : کالم