گیس کی شدید قلت سے گھر ےلو صارفین پر ےشان ،ایل پی جی اور لکڑیاں مہنگی

گیس کی شدید قلت سے گھر ےلو صارفین پر ےشان ،ایل پی جی اور لکڑیاں مہنگی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور ( خبرنگار) گیس کی شدید قلت سے صارفین کے گھروں کے چھولہے ٹھنڈے ہونا شروع ہوگئے ہیں ۔ ایل پی جی اور لکڑیاں مہنگی قیمت میں ملنے پر صارفین ہوٹلوں، تندروں، بیکریوں سے کھانے پینے کی اشیاءلینے پر مجبور ہیں۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر میں گیس کی شدید ترین قلت نے زور پکڑ لیا ہے اور کھانے پکانے کے اوقات میں گیس کا پریشر چار سے چھ گھنٹے ڈاﺅن ہونا شروع ہو گیا ہے جس سے گیس کی شدید ترین قلت سنگین صورتحال میں تبدیل ہونا شروع ہو گئی ہے ۔ صارفین شدید مشکلات سے دوچار ہو رہے ہیں اور صارفین نے گیس کمپنی کے دفاتر کے چکر لگانا شروع کر دئیے ہیں جس میں صارفین کے رش نے زور پکڑ لیا ہے ۔ گزشتہ روز بھی صارفین گیس کمپنی کے دفاتر میں مارے مارے پھرتے رہے ہیں اور گیس نہ ملنے پر شکایتیں درج کرواتے رہے ہیں۔ لاہور کے جان علاقوں میں گیس کا پریشر چار سے چھ گھنٹے ڈاﺅن رہا ہے اس میں مزنگ ، سمن آباد، ساندہ اور باغبانپورہ اور ہربنس پورہ سمیت غازی آباد ، مغل پورہ میں گیس کا پریشر ڈاﺅن رہا ہے جس پر صارفین سراپا احتجاج بنے رہے ہیں اور گیس نہ ملنے پر صارفین ایل پی جی اور لکڑیاں خریدنے کے لئے مارکیٹوں کے چکر لگاتے رہے ہیں۔ ایل پی جی اور لکڑیاں نہ ملنے پر بازاری کھانے پر مجبور ہیں جس پر تندوروں ، ہوٹلوں اور بیکریوں پر رش بڑھ کر رہ گیا ہے ۔ صارفین گزشتہ روز بھی مجبوراً بازاری کھانے استعمال کرتے رہیں ہیں جس پر صارفین سراپا احتجاج بنے رہے ہیں اور گیس نہ ملنے پر گیس بل ادا نہ کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ دوسری جانب گیس نہ ملنے پر باغبانپورہ کے درجنوں صارفین گیس کمپنی کے دفتر ہربنس پورہ پہنچ گئے اور گیس کمپنی کے دفتر کا مسلسل ایک گھنٹے تک گھیراﺅ کئے رکھا جس پر گیس کمپنی کے سیکیورٹی گارڈوں نے گیس کمنی کے دفتر کے مین گیٹ کو اندر سے تالے لگا لئے جس پر صارفین نے گیس کمپنی کے کسی بھی افسر سے ملاقات نہ ہونے پر شدید احتجاج کیا اور گیس حکام سے مطالبہ کیا کہ گیس کی سپلائی کو بہتر کرنے کے لئے اقدمات کئے جائیں جبکہ گیس حکام کا کہنا ہے کہ گیس کی ڈیمانڈ بڑھ کر 2600 ملین کیوبک فٹ تک پہنچ گئی ہے جس کے باعث گیس کا شارٹ فال 900 ملین کیوبک فٹ سے بھی تجاوز کر گیا ہے ۔ گیس حکام کا کہنا ہے کہ گیس کا کم سے کم استعمال کیا جائے تو سردیوںمیں کھانے پکانے کے لیے گیس حاصل ہو سکتی ہے و سوئی گیس کمپنی کے جی ایم ریحان نواز کا کہنا ہے کہ سردیوں میں گیس کی شدید ترین قلت کا سامنا رہے گا اور 15 دسمبر تا 30 دسمبر سے گیس کی شدید ترین قلت گیس بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے
گیس کی شدید قلت

مزید :

صفحہ آخر -