حسین شہید سہروردی نے تحریک پاکستان میں نمایاں حصہ لیا،عزیر ظفر آزاد

حسین شہید سہروردی نے تحریک پاکستان میں نمایاں حصہ لیا،عزیر ظفر آزاد

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)حسین شہید سہروردی نے تحریک پاکستان میں نمایاں حصہ لیا1946ء کے انتخابات میںآپ نے مسلم لیگ کی انتخابی مہم کو بڑی عمدگی سے منظم کیا ان خیالات کااظہار ممتاز دانشور و کالم نگار عزیز ظفر آزاد نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان میں تحریک پاکستان کے رہنما و سابق وزیراعظم پاکستان حسین شہید سہروردی کی 12ویں برسی کے موقع پر خصوصی لیکچر کے دوران کیا عزیز ظفر آزاد نے کہا کہ سید حسین شہید سہروردی 1893ء میں مدناپور (بنگال) میں پیدا ہوئے۔ سکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کلکتہ کالج میں تعلیم حاصل کی مدراس میں بھی پڑھتے رہے‘ پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے آکسفورڈ چلے گئے وہاں سے ایم اے اور بی سی ایل کی ڈگریاں اعزاز کے ساتھ حاصل کیں ہندوستان واپس آکر وکالت شروع کی اور سیاست میں عملی حصہ لیا کلکتہ کے ڈپٹی مےئر منتخب ہوئے، حسین شہید سہروردی نے تحریک خلافت میں بھی سرگرم حصہ لیا 1937ء میں حسین شہید سہروردی مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اور اسی سال مسلم لیگ کے ٹکٹ پر اسمبلی کی نشست حاصل کی انہوں نے جلد ہی مسلم لیگ کے ایک سرگرم رکن کے طور پر خدمات انجام دینا شروع کردیں اسی دوران وہ بنگال پراونشیل مسلم لیگ کے سیکرٹری بنا دےئے گئے انہیں بنگال کے وزیر اعلیٰ فضل الحق کے ساتھ کام کرنے کا بھی موقع ملا۔ اس کے بعد وہ کئی بار بنگال کابینہ کے رکن بھی مقرر ہوئے ان کے پاس مختلف اوقات میں تجارت‘ لیبر‘ مالیات‘ صحت‘ دیہات سدھار اور خوراک کے محکمے رہے۔1946ء کے انتخابات میں حسین شہید سہروردی نے مسلم لیگ کی انتخابی مہم کو بڑی عمدگی سے منظم کیا اور مسلم لیگ نے دو سو پچاس میں سے ایک سو سترہ نشستیں جیت لی تھیں۔ اس موقع پر حسین شہید سہروردی نے آزاد ارکان کے ساتھ مل کر بنگال میں وزارت قائم کی اور وہ وزیراعلیٰ منتخب ہوئے۔قیام پاکستان کے بعد 20دسمبر 1954ء کو وزیر قانون بنے۔ اگست 1955ء میں جب مسلم لیگ اور متحدہ محاذ کی مشترکہ وزارت قائم ہوئی تو سہروردی حزب اختلاف کے لیڈر منتخب ہوئے۔ 12دسمبر 1956ء کو ری پبلکن پارٹی کے تعاون سے مرکز میں وزارت بنائی خود وزیراعظم بنے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...