محبت اور عدم محبت

محبت اور عدم محبت

مَیں جماعت اسلامی سے محبت کرسکتا ہوں، جو کبھی عدم محبت میں بدل جاتی ہے ،لیکن مَیں اس سے نفرت نہیں کرسکتا۔ میری محبت جوش میں آئے یا شکایات بڑھنے لگیں تو مَیں اظہار کے لئے شہباز خان کو ڈھونڈنے لگتا ہوں ناراضی کا زور ہوتو مَیں ان سے کہتا ہوں : ’’میرے پیارے شہباز خان صاحب !مَیں آج آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ منور حسن کے بیانات سن سن کر مَیں اتنا تنگ آگیا ہوں کہ مجھے لگتا ہے کہ اب میری جماعت اسلامی سے محبت ختم ہوگئی ہے ‘‘۔ وہ ایسے موقع پر میرے غم وغصے کو نظرانداز کرتے ہوئے بڑے ٹھنڈے ٹھار طریقے سے مسکرا کر کہتے ہیں: ’’میاں صاحب !یہ تو کبھی نہیں ہوسکتا ۔ کوئی اور بات کرنی ہے تو کرو ‘‘۔

شہباز خان ہم سے تھوڑا شمال کی طرف بالٹی مور میں رہتے ہیں ،لیکن واشنگٹن ڈی سی کے جس نواحی ٹاؤن لارل میں میری رہائش ہے، وہاں ان کا بزنس ہے۔ میرے بہت اچھے دوست ہیں۔ ہم دونوں کا ماضی کسی نہ کسی شکل میں جماعت اسلامی سے جڑاہوا ہے ،اس لئے ہماری پسند کے مشترکہ موضوعات میں جماعت اسلامی بھی شامل ہے۔ وہ کسی زمانے میں ماڈل ٹاؤن لاہور میں جماعت کے باقاعدہ رکن اور شہری عہدیدار تھے۔ پھر سعودی عرب چلے گئے اور وہاں سے امریکہ آگئے۔ میرا اپنا نہیں ،لیکن میرے والدین کا جماعت اسلامی سے گہرا تعلق تھا، اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ اس جماعت سے محبت مجھے وراثت میں ملی ہے۔ سید مودودی کو ہمارے گھرانے میں بہت بلند مقام حاصل تھا۔ ان کی تفسیر ’’تفہیم القرآن‘‘ کے ذریعے ہی میرا قران پاک سے پہلا تعارف ہوا۔

جماعت اسلامی اور وہابیت مَیں نے اپنے گھر سے حاصل کی،تاہم بعد کی زندگی میں نہ جماعت اسلامی کا پیرو کار بنا اور نہ ہی وہابی بنا، البتہ نظریاتی اعتبار سے ان کے کچھ بنیادی اصول ضرور اپنائے ،لیکن تنگ نظری سے شدید پرہیز کرتے ہوئے سیدھے سادے مسلمان کی طرح زندگی گزارنے کی کوشش کی۔ امریکی حکومت میں ایڈوائزری حیثیت میں شمولیت سے زندگی میں ایک توازن اور ڈسپلن آگیا ،ورنہ اس سے پہلے عملی صحافت کے دور میں بے ترتیبی کا عادی ہوچکا تھا۔

لاہور کے سب عیاش، آوارہ گرد ،شرابی کبابی اور جوئے باز صحافیوں سے دوستی ،بلکہ گہری دوستی تھی۔ صرف ان کی مجلسوں میں دل لگتا تھا ،لیکن ان کے اصرار کے باوجود نہ کبھی سگریٹ پیا، نہ شراب پی اور نہ جواء کھیلا۔ لڑکپن میں جو کچھ گھر سے سیکھا تھا، شاید یہ اس کا اثر تھا۔ ایک بار ایک دوست نے جو میرے پس منظر سے واقف تھا، مجھے ڈرایا کہ اگر اوکاڑہ میں میرے والد صاحب کو پتہ چل گیا کہ مَیں کس طرح کی صحبت میں بیٹھتا ہوں، میری شامت آجائے گی۔ مجھے جو ش چڑھا کہ مَیں اپنی دوستیوں پر نظرثانی کرکے نمازی پرہیز گار قسم کے لوگوں سے صحبت حاصل کروں۔ مَیں نے جب اپنی جان پہچان کے وسیع حلقے پر نظر دوڑائی تو دیکھا سبھی شرابی کبابی لوگ انتہا درجے کے دیانت دار اور مخلص ، الاماشاء اللہ سب نمازی پرہیز گار بددیانت، غیرمخلص اور جڑیں کاٹنے والے۔ مَیں نے فیصلہ کیا کہ مَیں اپنی مجلس نہیں بدلوں گا۔ بزرگوں تک بات پہنچی تو مَیں انہیں سمجھا لوں گا۔ اس طرح جماعت اسلامی کو پسند کرنے کے باوجود ’’اسلامی‘‘ قسم کے لوگوں سے دور دور ہی رہا۔

بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ مینار پاکستان پر جماعت اسلامی کے اجتماع پر بات کرنی تھی ۔ یہاں اس کے امیر سراج الحق نے جو کچھ کہا ،سبھی اچھا تھا۔ قاضی حسین احمد اور منور حسن کے دور میں جوکچھ بدمزگی ہوئی اس کی کافی تلافی موجودہ امیر نے کردی ہے، لیکن اس پلیٹ فارم پر منور حسن نے جوکچھ کہا ،وہ برداشت سے باہر ہوگیا۔ انہوں نے اپنی امارت کے دور میں ڈرون حملوں سے ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کو شہید کہہ کر جماعت اسلامی کے حلقوں میں خاصی خفت پیدا کی اور بالآخر ان کی اسی سوچ کی بناء پر انہیں دوبارہ امیر منتخب نہیں کیا گیا، لیکن اب انہوں نے امیر نہ ہوتے ہوئے بھی جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے ایسی ایسی باتیں کیں، جنہیں ہضم کرنا بہت مشکل تھا۔

سب سے پہلے تو انہوں نے مسلمانوں کو اللہ کے نام پر قتل کرنے اور تلوار کے ذریعے جہاد کرنے کی تلقین کی۔ دہشت گردوں کے لئے ان کے دل میں جو محبت تھی، وہ اسے چھپانے میں ناکام رہے۔ اس وقت پاکستانی فوج اپنے ملک کے اندر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو ختم کرنے کے لئے جس ضرب عضب میں مصروف ہے، قوم بالآخر قومی دفاع کی اس جنگ میں فوج کے پیچھے کھڑی ہے۔ موصوف کہتے ہیں کہ ضرب عضب کا ڈرامہ ختم کرو۔ وہ کہتے ہیں کہ جس طرح سوات کے آپریشن سے ملک کو نقصان پہنچا تھا ،اسی طرح ضرب عضب سے ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اب سمجھ میں بات آئی۔ چاہے سوات ہو یا شمالی وزیرستان، دہشت گردوں کا نقصان ان کے لئے ملک کا نقصان ہے۔

مجھے یقین نہیں آیا کہ پاکستان میں رہتے ہوئے کوئی شخص دہشت گردوں کی مدافعت میں اس حدتک جاسکتا ہے جو پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں اور قتل وغارت میں ملوث ہیں۔ مَیں نے جماعت اسلامی کی ویب سائٹ پر جاکر دوبارہ منورحسن کی تقریر کا متن پڑھا۔ جو کچھ اخباروں میں چھپا وہ حرف بحرف درست تھا۔ مَیں نے شہباز خان کو آواز دی۔ ان سے پوچھا منور حسن کی یہ سوچ کیا اسلام سے مطابقت رکھتی ہے ۔ کیا جماعت اسلامی کی بھی یہی پالیسی ہے؟ اگر جماعت اسلامی کی یہ پالیسی نہیں ہے تو انہیں یہ پلیٹ فارم کیوں فراہم کیا گیا؟ چلو ان کی تقریر بھی ہوگئی بعد میں جماعت اسلامی کے کسی رہنما نے ان سے اختلاف کیوں نہیں کیا۔

مَیں نے شہباز خان کو اتنے سوالات کرتے ہوئے دھمکی دی کہ منور حسن کی باتوں کی وجہ سے میری جماعت اسلامی سے محبت عدم محبت میں بدلتی جارہی ہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ منور حسن کی سوچ غلط ہے، یہ جماعت اسلامی کی سوچ نہیں ہے ،لیکن وہاں پبلک میں اختلاف کرنے کا کلچر نہیں ہے۔ رسول کریم ؐ کے دور میں اسلام کی تبلیغ کے لئے جہاد بھی ایک ذریعہ تھا، جس کا اختیار آخری پیغمبرؐ کے پاس ضرورتھا۔ آج کے دور میں ہرکوئی اٹھ کر یہ اختیار استعمال نہیں کرسکتا۔ شہباز خان کہنے لگے، کچھ بھی ہو جائے نفرت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ محبت عدم محبت میں بھی تبدیل نہیں ہوسکتی۔ مجھے پتہ ہے آپ نے اپنا غبار نکالنا تھا سو نکال لیا۔ اب چھوڑو ، کوئی اور بات کرو۔ *

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...