مسلم لیگیں ایک ہو جائیں گی؟

مسلم لیگیں ایک ہو جائیں گی؟
مسلم لیگیں ایک ہو جائیں گی؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پیر علی مردان شاہ پیر پگارو(ہفتم) دینی پیشوا ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی قائد بھی تھے۔ سیاست میں عوامی لیگ کے ذریعے قدم رکھا اور پھر مسلم لیگ کے صدر بن گئے۔ وہ بڑے ذہین اور بات سے بات پیدا کرنے والے تھے۔ اخبار نویسوں سے ان کی دوستی بھی مشہور ہے، لیکن ان میں یہ عادت بھی تھی کہ ہر بڑے شہر میں محدود صحافیوں سے دوستی رکھتے اور ان سے ملتے بھی رہتے تھے، ان میں سے بھی بعض ان کے پسندیدہ ہوتے تھے، ان کے علاوہ دوسرے دوستوں سے ان کی ملاقات کسی تقریب یا پریس کانفرنس میں ہوتی وہ کھل کر بات کرنے کے عادی تھے اور اکثر اشاراتی فقرے استعمال کرتے تھے۔ ان کا یہ فقرہ بہت مشہور ہوا کہ ہم جی ایچ کیو کے آدمی ہیں، اس پر وہ بہت جھنجھلاتے تھے اور ہم سے کہا کہ یہ غلط رپورٹ ہوا ہے۔ مَیں نے کبھی نہیں کہا کہ ہم جی ایچ کیو کے بندے ہیں، جب وضاحت چاہی تو بولے:’’بابا ہم جی ایچ کیو کے بندے نہیں ہیں، مَیں نے تو کہا تھا، ہم جی ایچ کیو کے ساتھ ہیں‘‘۔1977ء سے قبل پیر پگارو جس مسلم لیگ کے صدر تھے اس کو پذیرائی حاصل تھی۔ بھٹو حکومت کے خاتمے میں انہوں نے بہت کردار ادا کیا تھا، بعد ازاں جب بوجوہ مسلم لیگ کے کئی حصے ہو گئے تو پیر پگارو اپنی مسلم لیگ کے صدر رہے جو فنکشنل کہلاتی تھی اس دور میں مسلم لیگ(ق) تو نہیں تھی۔ یہ سب حضرات مسلم لیگ(ن) میں تھے اور پھر مسلم لیگ(جونیجو) بھی تھی جسے چودھری حامد ناصر چٹھہ چلاتے تھے۔

اس زمانے میں بھی مسلم لیگیوں کو متحد کر کے ایک مسلم لیگ بنانے کی کوشش ہوتی رہی تھی۔ پیر پگارو نے کبھی بھی اتحاد سے انکار نہیں کیا اور ہمیشہ یہ کہا کہ مسلم لیگ کو متحد کرنا ہے تو جنرل کونسل بنا لو جو مسلم لیگ کے دستور کے مطابق صدر کا انتخاب کرے اور پھر صدر دستور کے مطابق دوسرے عہدیدار نامزد کر سکے گا۔اس سلسلے میں تین دھڑوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنی، جس کے سربراہ مسلم لیگ(فنکشنل) کے سیکرٹری جنرل رانا محمد اشرف تھے، اس کمیٹی کے کئی اجلاس ہوئے، بہت کچھ طے پا گیا، لیکن بات جنرل کونسل کے اراکین کی فہرست اور پھر صدر کے الیکشن پر آ کر اٹک جاتی تھی، حالانکہ پیر پگارو نے ایک سے زیادہ بار یہ کہا کہ وہ خود امیدوار نہیں ہوں گے، حتیٰ کہ جنرل کونسل کے اجلاس میں بھی نہیں جائیں گے، لیکن ان کی اس یقینی دہانی پر بھی حریفوں کی تسلی نہیں ہوتی تھی۔ شک یہ تھا کہ اگر جنرل کونسل کے اجلاس میں کسی رکن نے پیر پگارو کی بطور صدر تجویز پیش کی اور کسی اور نے تائید بھی کر دی، تو ان کی عدم موجودگی کے باوجود وہ صدر چُن لئے جائیں گے۔ دوسری طرف کمیٹی بنانے اور اسے پورا مینڈیٹ دینے کے باوجود پیر پگارو ہمیں اعتماد میں لے کر یہی بتایا کرتے تھے کہ یہ حضرات جماعت ایک کرنے میں مخلص نہیں ہیں۔ سب کو اپنی اپنی فکر ہے اور ہر کوئی اس جماعت کو اپنے قبضہ میں رکھنا چاہتا ہے۔ وہ کہتے تھے ہماری مسلم لیگ اصلی ہے کہ اسے سپریم کورٹ نے(فنکشنل) کیا، چنانچہ یہ مسئلہ کبھی حل نہ ہوا۔ اس کے بعد تو پلوں کے نیچے سے اور بھی پانی بہہ گیا۔مسلم لیگ(ن) کی حکومت ختم ہوئی تو مسلم لیگ(ق) بھی وجود میں آ گئی، اس کے بعد سے اب تک دو تین مسلم لیگیں اور بن چکی ہیں۔

یہ سب اسی لئے یاد آیا کہ مسلم لیگ(ن) ہی کے محترم بزرگ سردار ذوالفقار علی کھوسہ قائدین سے ناراض ہیں اور فارورڈ بلاک کھیلنے میں کچھ زیادہ کامیابی کی امید نہ ہونے کی وجہ سے سندھ جا پہنچے۔ وہاں سے سید غوث علی شاہ کو ساتھ لیا اور ارباب عبدالرحیم کے گھر ایک اجلاس منعقد کر لیا اس میں لیاقت جتوئی بھی آئے تو پیر علی مردان شاہ کے جانشین پیر صبغت اللہ راشدی پیر پگارو (ہشتم) سے رابطہ کیا تو انہوں نے اپنے بھائی راجہ سائیں کو بھیج دیا، ان بزرگوں نے پھر سے پرانی الف لیلیٰ دہرائی کہ مسلم لیگوں کو ایک کریں گے۔ یہ نہ بتا سکے کہ یہ کس فارمولے کے تحت، کب اور کیسے ہوں گی۔ خواہش سب کی ہے لیکن اقتدار اور کرسی صدارت کا مسئلہ کیسے حل ہو گا۔ یوں بھی اگر یہ حضرات مل کر یہ اعلان کریں کہ مسلم لیگیں اکٹھی ہو گئیں تو کون تسلی کرے گا کہ مسلم لیگ(ن) تو بہرحال موجود ہے اور جنرل(ر) پرویز مشرف کیسے کسی کی قیادت تسلیم کر لیں گے، اس لئے بقول پیر پگارو اور علی مردان شاہ یہ سب فضول’’ایکسر سائیز‘‘ ہے وہ ہمیشہ یہی کہتے تھے، ان کے بقول اخلاص ختم ہو چکا، اعتبار اُٹھ گیا ہے۔

جہاں تک مسلم لیگ(ق) کا تعلق ہے ہے تو یہ چودھریوں کی باندی ہے اور چودھری برادران حق بجانب بھی ہیں کہ ان کے پاس نمائندگی بھی ہے، جو حضرات یہ مشن لے کر چلے ان کے پاس کیا ہے؟ اسی لئے تو پیر صبغت اللہ راشدی خود گفتگو میں شریک نہیں ہوئے کہ وہ بھی والد کی طرح اکثر کھری بات کرتے ہیں۔ ان کے پاس بھی نمائندگی ہے اور مسلم لیگ(ن) کے حلیف بھی تو ہیں۔رہ گیا مسلم لیگ(ق) کا مسئلہ تو چودھری برادران کو اپنا وزن آپ اٹھانے کی عادت ہو گئی ہے۔ چودھری شجاعت حسین سے پیر علی مردان شاہ ناراض تھے، پھر مان گئے اور ان کے درمیان دو تین ملاقاتیں ہوئیں، بات نہ بنی کہ پیر علی مردان شاہ کے بقول کوئی مخلص ہی نہیں۔ ویسے2013ء کے انتخابات سے قبل ایک کوشش تو ہوئی تھی کہ چودھری برادران اور شریف برادران کے تعلقات استوار ہو جائیں۔ کہتے ہیں کہ50فیصد کام ہوا۔ایک فریق نے عندیہ دے دیا، لیکن دوسرے فریق کو قبول نہ ہوا، بات ختم ہوگئی، پھر اب سردار ذوالفقار کھوسہ کیا کر لیں گے؟ *

مزید : کالم