عالمی کسا د با زاری پر ایک نظر

عالمی کسا د با زاری پر ایک نظر

عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں حیران کن حد تک کمی غریب ممالک کے صارفین کے لئے ایک اچھی خبر بن کر سامنے آئی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکستان اور اس جیسے کئی ممالک کی حکومتیں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود اپنے عوام کو بنیادی اشیاء ، خوراک اور کرایوں میں کمی کی تاحال کوئی سہولت فراہم کرنے میں نا کام نظر آرہی ہیں۔ دوسری طرف عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی ایک ایسے عالمی معاشی بحران کا بھی عندیہ دے رہی ہے جس کی جڑیں2008ء کی معاشی کساد بازاری میں پیوست ہیں۔اس مرتبہ اس عالمی کساد بازاری سے نہ صرف امریکہ اور یورپ، بلکہ ایشیا کی ایسی معیشتیں بھی متاثر ہوتی نظر آرہی ہیں، جن پر اس سے پہلے2008ء کی معا شی کساد با زاری نے کوئی خاص اثر نہیں ڈالا تھا۔ جہاں تک امریکہ اور یورپی یونین کی موجودہ معا شی صورت حال کا تعلق ہے تو اس پر مغربی سرمایہ داری نظام کے نا قدین ہی نہیں، بلکہ خوداہم مغربی تحقیقاتی ادارے ، تھنک ٹینکس اور اخبا رات بھی تواتر سے یہ لکھ رہے ہیں کہ2008ء کی معاشی کسادبا زاری کے اثرات نہ صرف موجو د ہیں، بلکہ بعض صورتوں میں ان میں شدت بھی آرہی ہے۔

معروف امریکی اخبار ’’دی وال سٹریٹ جرنل‘‘ کی ایک رپوٹ۔۔۔Fresh Signs of a Global Slump Pose a Challenge to U.S. ۔۔۔میںNick Timiraos لکھتے ہیں کہ اس سال بھی امریکی معیشت کی رفتار انتہا ئی سست رہی۔ 2008ء کی طرح 15فیصد امریکی خاندان ابھی بھی غربت کی لکیر سے نیچے ہیں ، جبکہ سرکاری اور نجی شعبے میں کا م کرنے والے افراد کی آمدنیاں اب بھی 2008 ء کی شرح پر ہی ہیں، بیروزگاری کی شرح بھی تاحال 6فیصد کے لگ بھگ ہے۔ اب امریکی معیشت پر تازہ بم تیل کی قیمتوں میں کمی سے پھوٹا ہے۔ امریکہ میں گز شتہ پا نچ سال سے شیل گیس کی دریافت کے بعد اس گیس پر انحصار 70 فیصد کے لگ بھگ ہو چکا ہے۔جب2011ء میں تیل کی قیمت سو ڈالر فی بیرل تک ہوتی تھی، اس وقت امریکہ میں شیل گیس کی قیمت 60سے 70ڈالر فی بیرل تھی ۔ یوں امریکہ میں شیل گیس کی تلاش پر بھرپور سرما یہ کاری کی گئی۔ امریکی بینکو ں نے شیل گیس دریافت کرنے والی کمپنیوں کو اس مد میں بھر پور قرضے جا ری کئے، مگر اب تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بھی کم ہونے سے شیل گیس پر کی جانے والی ساری سرما یہ کا ری اور قرضے سرا سر خسارے کا سودا ثابت ہوئے۔

امریکہ کے بعد دنیا کا سب سے بڑا معا شی بلاک یورپی یونین ہے، جس کا کل معا شی حجم13.2 کھرب ڈالرہے۔ وہاں کے معاشی محا ذ سے بھی راوی چین نہیں لکھ رہا۔صرف اس سال اکتوبر میں مزید60 ہزار افراد بیروزگار ہوئے۔ بیروز گاری کی شرح 12 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔سرما یہ کا ری کی شرح گر کر25 فیصد ہوگئی ہے۔ گزشتہ سوموار کو برطا نوی اخبا ر ’’گارڈین‘‘ میں بر طا نیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا یہ تبصرہ شا ئع ہوا کہ چھ سال پہلے(2008ء) عالمی کساد با زری نے دنیا کو اپنے گھٹنوں پر گرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اب ایک بار پھر عالمی کساد با زاری کے خطرناک اشا رے نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔تیل کی قیمتوں میں حا لیہ کمی کی دیگر کئی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ بھی قرار دی جا رہی ہے کہ تیل کی طلب کے مقابلے میں اس کی سپلا ئی زیا دہ ہے۔ سپلا ئی کے مقابلے میں تیل کی طلب میں اضافہ نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یورپی یونین کی معا شی سست روی بھی ہے۔ 2008ء میں عالمی کساد با زاری کے اثرات سے چین، روس، بھارت اور برا زیل جیسی بڑی معیشتیں کسی حد تک محفوظ رہی تھیں، مگر تازہ ترین اعدادو شما ر ثا بت کر رہے ہیں کہ اب ان ممالک کی معا شی ترقی بھی پہلے کے مقا بلے سست رو ہو چکی ہے۔

روس جو دنیا کی نویں بڑی معیشت ہے، اس کی معیشت کا 60 فیصد تک انحصار تیل کی برآمدات پر ہوتا ہے، مگر اب تیل کی قیمتوں میں 40 فیصد کی کی کمی سے اس کی معیشت شدید متا ثر ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روسی کرنسی روبل آج ڈالر کے مقابلے میں اپنی قوت مزید کھوتا جا رہا ہے۔چین کی معیشت جو چند سال قبل تک 10فیصد کی سالانہ شرح سے ترقی کر رہی تھی، آج خود چینی حکومت کے اعداد وشما ر کے مطا بق اس کی شرح بمشکل7 فیصد سالانہ تک ہو چکی ہے۔خاص طور پر رئیل اسٹیٹ کا شعبہ، جو کبھی چینی معیشت میں سالانہ اربوں کا اضا فہ کرتا تھا، اب سست ہو چکا ہے۔ بھا رت کو بھی مغر بی میڈیا میں مستقبل کی معا شی قوت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ 2003ء سے بھا رتی معیشت سالانہ 8فیصد سے بھی زائد کے اعتبا ر سے ترقی کر رہی تھی،مگر اب گز شتہ چار سال سے یہ شرح گر کر5 فیصد کے لگ بھگ ہو چکی ہے۔ نریندر مودی اس سال معاشی ترقی کا نعرہ لگا کر ہی انتخابات جیتے تھے، مگر چھ ماہ میں مودی حکومت ابھی تک ایسا کچھ بھی نہیں کر پا ئی کہ جس سے یہ عند یہ ملے کہ بھارت معا شی ترقی کی جا نب گا مزن ہو پا ئے گا۔موجودہ عالمی معا شی بحران کا یہ طا ئرانہ جا ئزہ کیا ثا بت کر رہا ہے؟ کیا موجودہ عالمی سر ما یہ داری بحران حل ہونے کی جانب جائے گا یا اس میں مزید ابتری آئے گی؟اس سوال کے جواب کے لئے ہمیں تاریخ سے رجوع کرنا ہو گا۔

گوربا چوف نے جب1989ء میں سوویت یونین میں چھوٹے پیمانے پر ذاتی صنعت کاری کی اجازت دی تو مغربی میڈیا اور حکمرانوں نے گوربا چوف کے اس عمل سے یہ ثابت کرنا شروع کر دیا کہ کمیونزم ناکام ہو چکا ہے اور سوویت یونین جیسا سوشلزم کا علمبردار ملک بھی اب سرمایہ داری کی جانب آرہا ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر گورباچوف کی اس سرمایہ نوازپالیسی کو کمیونزم کی ناکامی سے کیوں تعبیر کیا گیا؟ دراصل دنیا کے ہر معاشی نظام کے چند بنیادی اصول ہوتے ہیں۔ انہی اصولوں کی بنیاد پر ہی معیشت استوار ہوتی ہے۔ موجودہ عالمی معاشی نظام کے سرخیل امریکہ کے بانیوں نے امریکی دستور و قانون کی تشکیل میں معیشت کو لیزافری نظام پر استوار کرنے کی ضمانت دی۔ اس قانون کے مطابق کسی بھی شخص یا ادارے کو حکومتی مداخلت کے بغیر لامحدود سرمایہ پیدا کرنے کا حق دیا گیا۔ کوئی بھی سرمایہ دار یا ادارہ جتنا بھی سرمایہ و منافع یا قدر زائد حاصل کرنا چاہے، حکومت کو اس میں مداخلت کا کوئی حق نہیں تھا۔ 1979ء میں برطانیہ میں مارگریٹ تھیچر اور 1980ء میں امریکہ میں ریگن کی حکومت میں آنے کے بعد امریکی اور برطانوی معیشت میں ’’شکاگو سکول‘‘ کے اصول پر مبنی اصطلاح متعارف کروائی گئی ۔شکاگو سکول کا فلسفہ امریکی ماہر معیشت ملٹن فرائڈ مین نے متعارف کروایا تھا جس کے مطابق حکومت کو کسی بھی حال میں مارکیٹ (منڈی) میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ اگر کبھی منڈی کا بحران پیدا ہو جائے تو طلب و رسد کو منڈی پر ہی چھوڑ دینا چاہئے، کیونکہ آزاد منڈی ہر بحران سے اپنا راستہ خود بنا لیتی ہے۔

امریکہ اور مغربی یورپ نے اس سرمایہ داری کے اصول کو نہ صرف اپنے ملکوں میں مکمل طور پر رائج کیا، بلکہ امریکہ کے طفیلی اداروں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک تیسری دنیا کے ملکوں کو بھی یہ بارو کرواتے رہے کہ منڈی کو زیادہ سے زیادہ آزاد رکھا جائے، حتیٰ کہ امریکہ اور یہ ادارے غریب ملکوں کو قرضہ دینے سے پہلے فری مارکیٹ کی شرائط کو پورا کرواتے، پھر کوئی قرض جاری کرتے۔ یوں امریکہ پوری دنیا میں فری مارکیٹ اکانومی کا سب سے بڑا علمبردار ٹھہرا۔ پھر 1991ء میں سرد جنگ کے خا تمے کے بعد تقریباً پوری دنیا نے اسی معا شی نظام کو اپنایا۔ اکتوبر 2008ء میں جب معاشی بحران پر قابو پانے کے لئے امریکی حکومت کو 158 سال سے قائم لیومین برادرز، 94سال سے قائم Old Meril Lynch اور 69 سال سے قائم فراڈی میک جیسے بینکوں کو قومیانے کے علاوہ امریکی حکومت کو 700 بلین ڈالر کا بیل آؤٹ دے کر کارپوریٹ سیکٹر کی مدد کرنا پڑی تو یہ امر یقیناًفری مارکیٹ اکانومی کے بنیادی اصول سے انحراف تھا۔ اس اصول کے انحراف سے یقیناًامریکی نظام معیشت کی بھی قطعی ناکامی ثابت ہو ئی۔ بینکو ں کے قومیانے اور 700 بلین ڈالرز کا بیل آؤٹ دینے سے امریکہ کی آزاد منڈی کا نظام ایک حد تک مجروح ہوا ۔ عالمی معیشت کا زوال دراصل تاریخ کا ایک جبرہے،کیونکہ تاریخ کے مطابق کوئی نظام مستقل اور لافانی نہیں ہوتا۔ حرکت اور تبدیلی ہی تاریخ کا سب سے بڑا سبق ہے،حتیٰ کہ کئی دانشوروں کی جانب سے فری مارکیٹ کے نظا م کو دنیا کا غیر فانی نظام قرار دیا جا تا رہا،مگر آزاد منڈی کا پرچار کرنے والے دانشور یہ بھول گئے کہ وہ نظام جس کی بنیاد ہی خود غرضی، لالچ ، منافع کی حرص اور غریب دشمنی پر مبنی ہو، وہ نظام مستقل نہیں ہو سکتا، جس نظام میں تعلیم اور صحت جیسا بنیادی حق پیار، جذبات، دوستی اور رشتوں جیسے احساسات بھی منڈی کے تناظر میں طے کئے جائیں، ایسے غیر انسانی نظام کو زمین بوس ہونا ہی ہوتا ہے۔ *

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...