چیئرمین واپڈا کا خط اور بجلی کے معاملات

چیئرمین واپڈا کا خط اور بجلی کے معاملات
چیئرمین واپڈا کا خط اور بجلی کے معاملات

  

چیئرمین واپڈا ظفر محمود کی طرف سے ایک خط موصول ہوا ہے، جس میں انہوں نے واپڈا کے حوالے سے ایک خاص نکتے کی نشاندہی کی ہے۔ اس سے پہلے کہ میں کوئی تبصرہ کروں، آپ یہ خط ملاحظہ کیجئے۔’’ اس خط کے توسط سے میں آپ کی توجہ واپڈا کو درپیش ایک اہم مسئلہ کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں۔

اس ضمن میں آپ کا تعاون ہماری مشکلات میں کمی کا باعث بنے گا۔۔۔پن بجلی کے منصوبوں کے لئے خطیر رقم درکار ہوتی ہے چنانچہ ان منصوبوں کی تعمیر کے لئے فنڈز کا بندوبست کرنے کی خاطر واپڈا کو ملکی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ مؤثر شراکت داری کے لئے فیصلہ سازی سے قبل یہ مالیتی ادارے اپنے طور پر واپڈا کے بارے میں تفصیلات حاصل کر کے قرض واپس کرنے کی صلاحیت بارے اندازہ لگاتے ہیں۔ اور ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں اور رپورٹس کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔ یہی واپڈا کو درپیش مسئلہ کا اصل نکتہ ہے۔

پاور سیکٹر میں متعارف کرائی جانے والی اصلاحات اور 2007ء میں پاور ونگ کی تنظیم نو کے بعد واپڈا کی ذمہ داری اب صرف پانی اورپن بجلی کے وسائل کی ترقی تک محدود ہے۔ جبکہ بجلی کے معاملات بشمول لوڈ شیڈنگ، لائن لاسز، بلنگ، ریکوری اور گردشی قرضہ( سرکولر ڈیٹ) سے واپڈا کا قطعاً کوئی تعلق نہیں۔ بجلی کے تمام معاملات اب سرکاری شعبہ میں قائم مختلف کا رپورٹ کمپنیوں کی ذمہ داری ہے۔ یہ کمپنیاں پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی(پیپکو) نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی( این ٹی ڈی سی) جنریشن کمپنیوں ( جینکوز) اور پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کے نام سے اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔ تاہم اس حقیقت کے باوجود ذرائع ابلاغ میں بجلی سے متعلق کم و بیش تمام خبروں اور تبصروں میں نہ صرف واپڈا کا نام لیا جاتا ہے بلکہ پاور سیکٹر کی تمام خرابیوں کا ذمہ دار بھی واپڈا ہی کوٹھہرایا جاتا ہے۔ جن کی بنیاد پر ملکی اور خاص طور پر بین الاقوامی مالیاتی ادارے واپڈا کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت کے بارے میں منفی تاثر قائم کر لیتے ہیں۔

آپ ملک کے نامور کالم نگار ہیں۔ آپ کے قارئین کا حلقہ بہت وسیع ہے اور قومی امور پر آپ کے خیالات کو احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ آپ اپنی تحریروں کے ذریعے واپڈا کے بارے میں اس غلط تاثر کو ختم کرنے میں ہماری مدد فرمائیں۔ آپ کی جانب سے یقیناً یہ ایک قومی خدمت ہو گی۔ کیونکہ آپ کے تعاون کی وجہ سے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور متوقع سرمایہ کاروں کو اصل حقیقت کا ادراک ہو گا اورواپڈا کے منصوبوں میں مالی تعاون کرنے پر مائل ہوں گے۔

یہ خط ملنے پر میرا پہلا تاثر تو یہ تھا کہ چیئرمین واپڈا ظفر محمود ایک غور و فکر کرنے والے آدمی ہیں۔ کیونکہ انہوں نے جو باریک نکتہ اٹھایا ہے۔ وہ اس سے پہلے تعینات رہنے والے کسی چیئرمین کے ذہن میں نہیں آیا۔ یوں کہنا چاہئے کہ انہوں نے ’’کرے کوئی بھرے کوئی‘‘ محاورے کے مصداق واپڈا کے ساتھ ہونے والی ایک بڑی زیادتی کی طرف توجہ دلائی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ آج بھی عوام جب بجلی کی لوڈ شیڈنگ یا مہنگی بجلی کے خلاف علامتی قبریں بناتے ہیں تو ان پر واپڈا لکھا ہوتا ہے۔ حالانکہ اب ان معاملات سے واپڈا کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی کو یہ معلوم ہی نہیں کہ بجلی کے معاملات کتنے محکموں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ واپڈا واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اٹھارٹی کا مخفف ہے۔ ایک دور تھا کہ سبھی کچھ یہی ادارہ کرتا تھا، پھر اس سے بے شمار اختیارات اور ذمہ داریاں واپس لے کر مختلف نئے اداروں میں بانٹ دی گئیں لیکن عوام کا ہدف پھر بھی واپڈا ہی بنتا رہا۔

چیئرمین واپڈا کے اس خط سے یہ اندازہ بھی ہوا کہ غیر ملکی اور ملکی مالیاتی ادارے بھی شاید اس فرق سے آگاہ نہیں جس کی طرف ظفر محمود صاحب نے اشارہ کیا ہے۔ وہ بھی بجلی کے ہر معاملے کو اس حوالے سے چھپنے والی ہر خبر کو واپڈا کی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ میرے نزدیک بڑی حیران کن بات ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں بجلی جیسے اہم ایشو پر آگہی دینے کا غالباً سرے سے کوئی نظام ہی موجود نہیں عام آدمی کا واسطہ تو چونکہ اپنے علاقے میں قائم واپڈا سب ڈویژن سے پڑتا ہے یا پھر ان بلوں سے جو اس کے ہوش اڑا دینے کے لئے کافی ہوتے ہیں۔اس لئے وہ اس باریکی میں نہیں پڑتے کہ کون ان پر نزلہ گرا رہا ہے۔ انہیں تو یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ ان پر جو زائدبلنگ کی جا رہی ہے۔ وہ کتنی ہے اور اس کا ذمہ دار کون ہے ابھی تک اسی معاملے کی تحقیق ہو رہی ہے اور یہ سرا نہیں مل رہا ہے کہ عوام پر جو 70۔ ارب روپے کی اوور بلنگ کی گئی اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ ابھی کل ہی پانی و بجلی کے وزیر مملکت عابد شیر علی نے قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی تحقیقی رپورٹ جلد ایوان میں پیش کی جائے گی اور عوام کے سامنے بھی لائیں گے۔ لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہو گا کیونکہ کوئی اپنے پیٹ سے پردہ نہیں اُٹھاتا۔ عوام کو تو اندھیرے میں رکھا جا سکتا ہے مگر بین الاقوامی ادارے کیسے پاکستان میں بجلی کے نظام اور اس کی ترسیل کے ذمہ داروں سے بے خبر ہیں اور بجلی کے حوالے سے چھپنے والی خبروں پر واپڈا کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ بقول چیئرمین واپڈا ظفر محمود وہ ان خبروں کی بنیاد پر واپڈا کے منصوبوں کو دی جانے والی گرانٹ بھی روک دیتے ہیں۔

میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ واپڈا ایک بہت اہم قومی ادارہ ہے۔ اس کی خدمات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں آج بجلی کی جتنی بھی ترسیلی سہولیات نظر آتی ہیں، وہ واپڈا کی محنتوں اور کاوشوں کا نتیجہ ہیں، اس طرح بجلی کی پیدا وار کے ضمن میں آج تک جتنی پیش رفت ہوئی ہے۔ اس کا کریڈٹ بھی واپڈا کو جاتا ہے۔ واپڈا دیگر محکموں کی نسبت آج تک خسارے میں نہیں گیا بلکہ اس نے ملکی معیشت میں اہم کردار ہی ادا کیا ہے۔ البتہ یہ ادارہ ایک بہت بڑا کریڈٹ حاصل کرنے سے محروم رہا۔ یہ کریڈٹ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے مل سکتا تھا، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ واپڈا اسے سیاسی مسئلہ بننے سے نہ روک سکا۔ اگر آغاز میں ہی اس کے اعداد و شمار اور اثرات کو تکنیکی بنیادوں پر سامنے لایا جاتا اور اس کے نام کو کسی علاقے سے منسلک کرنے کی بجائے اسے کوئی عمومی نام دیا جاتا تو شاید آج ہم اس ڈیم کو بنا چکے ہوتے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ڈیم کی ڈیزائننگ اور تکنیکی پہلوؤں پر واپڈا نے بہت کام کیا، مگر اسے عملی جامہ پہنانے میں نا کام رہا۔ اگر یہ ڈیم واپڈا تک محدود رہتا اور سیاسی حکومتوں کے ہاتھ نہ لگتا تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا تھا، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ آج بھی اس نکتے پر سب متفق ہیں کہ ملک میں سستی بجلی صرف پانی سے بن سکتی ہے۔وگر نہ دیگر تمام ذرائع مہنگی بجلی پیدا کرتے ہیں، جسے ہم اقتصادی طور پر قبول نہیں کر سکتے، یہی وجہ ہے ایک بار پھر سرکولرڈیٹ کھربوں روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اس سلسلے ہیں واپڈا جو کام کر رہا ہے۔ اسے سراہنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اُس کے دم سے ایسے منصوبوں پر کام جاری ہے یا حکومت اُنہیں شروع کرنا چاہتی ہے، جو ملکی معیشت کو انرجی کے بحران سے نجات دلا سکتے ہیں۔ *

مزید : کالم