جمہوریت ،قیادت اور ’’گڈگورننس ‘‘

جمہوریت ،قیادت اور ’’گڈگورننس ‘‘
جمہوریت ،قیادت اور ’’گڈگورننس ‘‘

  

جمہوریت آج کی دنیا میں سب سے بہترین طرز حکومت مانا اور سمجھا جاتا ہے بین الاقوامی مالیاتی ادارے یورپین یونین ورلڈ بینک ، آئی ایم ایف، ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور امداد دینے والے ممالک غیر سرکاری ادارے امداد دینے کے لئے امداد لینے والے ملک کے لئے جمہوریت کی شرط عائد کرتے ہیں ، خاص طورپر جنوبی ایشیا، لاطینی امریکہ اور مشرق یورپ کے لئے، لیکن امداد لینے والے بھی جمہوریت کا ڈرامہ رچاتے ہیں۔ جمہوریت کے لئے امداد دینے والے بھی صرف مدد کرسکتے ہیں، جمہوری اداروں کے لئے امداد سیاسی جماعتوں کے لئے امداد، انتخابات کے لئے امداد لیکن تبدیلی صرف اسی صورت میں آسکتی ہے جب کسی بھی ملک کے ’’عوام‘‘ تبدیلی کا تہیہ کرلیں ، ورنہ اشرافیہ اور حکمران طبقات کی جیبیں بھرتی ہیں اور عوام ’’تھر ‘‘ میں بھوک اور پیاس سے ترستے رہتے ہیں۔ مغربی ممالک میں جمہوریت کا مطلب ہے انتخابات کے ذریعہ عوام اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں ، یعنی عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے عوام کے لئے ، لیکن ہمارے جیسے ممالک تک پہنچتے پہنچتے اس کے معنی تبدیل ہوجاتے ہیں۔ جب تک بچے اچھے رہیں ان کے علاقائی مفادات کے تحفظ کا کھیل کھیلتے رہیں تو ٹھیک ورنہ ان کے اچھے رہنے میں ذرا سا بھی شک ہو اور وہ ان کے مفادات کے تحفظ کی بجائے اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے تحفظ کے بارے میں سوچنا شروع کردیں تو ’’ماں‘‘ کہتی ہے اب کھیل ختم تم لوگ بہت شور کررہے ہو اور اسلامی ممالک کی ’’ماں‘‘ کو سب جانتے اور سمجھتے ہیں۔

ہماری جمہوریت اور ہماری سیاست کی اپنی منزل اور اپنا راستہ ہے ۔ جیسے ہرعمل کا ردعمل ہوتا ہے۔ اسی طرح ہرانقلاب کا جوابی انقلاب بھی ہوتا ہے جیسے مصر میں ہوا ہے اس کا بنیادی پہلو ہے کہ سٹیٹس کو کی قوتیں کبھی بھی تبدیلی کی قوتوں کو حاوی ہونے کی اجازت نہیں دیتی ہیں۔

یہ بات کہہ دینا اور لکھ دینا بہت آسان ہے لیکن اسے سمجھنا بہت ہی مشکل اور سمجھانا بھی کافی مشکل ہے۔ ’’طاقت‘‘ کو اپنے پاس رکھنے کے لئے ہر جائز طریقہ اختیار کیا جاتا ہے، کبھی بنیادی جمہوریت کے نام پر اور کبھی صرف جمہوریت کے نام پر اور جمہوریت کی ’’ماں‘‘ اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے انتخابات کے نام بلکہ ’’صاف اور شفاف ‘‘ انتخابات کے نام پر ان کی مدد بھی کرتی ہے ۔ اس کے لئے بھی ہر قانونی، غیرقانونی رویہ اپنایا جاتا ہے۔ ہر اخلاقی اور غیراخلاقی طرزعمل اختیار کیا جاتا ہے جس میں لفظ ’’غیر‘‘ بہت ہی واضح ہوتا ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے اور یہ کش مکش دونوں گروہوں کے درمیان اس وقت سے جاری ہے، جب سے ہمارے ہاں جمہوریت متعارف ہوئی ہے۔ (تیسری دنیا اور اسلامی ممالک) ایک گروہ جو ہر قیمت پر طاقت اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے دوسرا گروہ جو اپنے ہم وطنوں کے لئے آنے والی نسلوں کے لئے ان کی بہتری کے لئے خوش حالی کے لئے جدوجہد میں مصروف رہتا ہے اور بعض نہیں، اکثر اوقات بہت بھاری قیمت ادا کرتا ہے ، پھانسی پر جھول کر شہادت کے ذریعہ کہ کسی طرح وسائل چند ہاتھوں سے نکل کر عوام کے پاس آجائیں اور ان کے خلاف جمہوریت کو بچانے کے نام پر دوسرے گروہ کو مدد بھی فراہم کی جاتی ہے۔

خیر کہاں تک سنو گے بات ’’جمہوریت ‘‘ کی ہورہی ہے۔ بیسویں صدی سے یہ طرز حکومت مغرب سے متعارف کرایا گیا لیکن نیک نیتی سے کرایا گیا (اپنے لئے) افراد، طبقات ، تعلیم یافتہ، مختلف پیشوں سے وابستہ اور مذہبی سطح پر بھی اسے سراہا گیا اور اپنایا گیا کیونکہ اس میں سب سے اہم ’’عوام کی رائے ہے ‘‘ جس پر ان کے معاشی، سماجی، تہذیبی ، قانونی اور مذہبی عوامل اثرانداز ہوتے ہیں۔ لیکن جمہوریت کی کامیابی مشروط ہے ، سیاسی اور مذہبی جماعتوں اور ان کی نیک نیتی سے جنہیں ایسے ادارے بنانے اور مضبوط کرنا چاہئیں ۔ ایسا طریقہ کار اختیار کرنا چاہئے جو عام آدمی کی زندگی میں بہتری لانے کے لئے مؤثر ہوں، مستحکم ہوں اور معاشرے کے ہر طبقہ کے لئے ہوں۔

مذہبی اور فرقہ وارانہ منافرت غیر مستحکم معیشت ، غربت ، رشوت ، لاقانونیت ، بنیادی حقوق کا حاصل نہ ہونا، سماجی اور قبائلی تقسیم، لسانی اور صوبائیت اور برادری کی بنیاد پر تقسیم ’’جمہوریت ‘‘ کی سب سے بڑی دشمن اور بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ سب ’’خوبیاں‘‘ موجود ہیں اور مذہبی اور سیاسی قیادت اپنے ’’وسیع تر مفاد‘‘ میں انہیں وقتاً فوقتاً ہوادیتی رہتی ہیں، لیکن ان خوبیوں کے ہوتے ہوئے بھی اگر معیشت مستحکم ہے ، مضبوط ہے، خود انحصاری ہے تو یہ خوبیاں آہستہ آہستہ دم توڑ دیتی ہیں، لیکن اگر ایسا نہیں ہے ملک امداد اور قرضہ کی آکسیجن پر ہے تو پھر یہ اس فضا میں پروان چڑھتی ہیں۔

جمہوریت کی کامیابی کے لئے اس میں انتخابات کا صاف اور شفاف ہونا، قانونی حیثیت حاصل ہونا، مؤثر ہونا، شک وشبہ سے بالاتر ہونا بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ اور یہاں سے قیادت کی ذمہ داری کا آغاز ہوتا ہے پھر جمہوری اداروں کا مضبوط اور بالادست ہونا، معیشت کو قرضہ اور امداد کی لعنت سے چھٹکارا دلانا، خودانحصاری کی طرف قدم کیونکہ غیرمستحکم معیشت ہی بہت سے ناکام اداروں، ناکام پالیسیوں اور سماجی برائیوں کی وجہ بن جاتی ہے۔ صرف اور صرف صاف شفاف انتخابی عمل اور جمہوری اداروں کا مؤثر ہونا ناکامیوں اور خامیوں پر قابو پاسکتے ہیں۔ شاید کچھ ماتھوں پر بل پڑ جائیں لیکن حقیقت ہے کہ جارج واشنگٹن ، جواہر لال نہرو، چارلس ڈی گال کی وجہ سے ہمیں آج کا امریکہ ، آج کا بھارت اور آج کا فرانس نظر آتا ہے۔ مضبوط ، خوشحال ، خودانحصار۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ سب سے اہم ہے کہ جمہوریت کی کامیابی کے لئے قیادت کیسی ہو ، دنیا کے تقریباً تمام فلاسفر اور تاریخ دان متفق ہیں کہ قیادت کے لئے ضروری ہے کہ وہ

1۔مثالی کردار کی مالک ہو، قابل اعتماد ہو، جو کہے اس پر عمل کرے، اس کی دیانت داری شک وشبہ سے بالاتر ہو، رہن سہن عام آدمی کی طرح کا ہو، کیونکہ عزت طاقت سے نہیں اچھے کردار سے حاصل ہوتی ہے بڑھکیں مارنے سے پرہیز کرے، یہ نہ کرسکا تو یہ کروں گا نتیجہ خیز فیصلے اور اقدامات کرے محض ’’آنیاں جانیاں ‘‘ سے پرہیز کرے۔

2۔ قائد کو عوام کے لئے انسپائریشن کاذریعہ ہونا چاہئے، دکھائی دے کہ وہ عام آدمی کی زندگی میں آسانی لانے کے لئے، انہیں بنیادی ضروریات فراہم کرنے کے جنون میں مبتلا ہے اور ایک ہی جذبہ اس کی زندگی کا مقصد اور محور ہے ملک اور قوم کی بہتری، ایک اچھی ٹیم منتخب کرنا ایک اچھے قائد کی پہلی خوبی ہے سب کچھ خود کرنا انسان کے بس سے باہر ہے۔ وہ خود ہی آستینیں چڑھائے اور ٹیم بھی اس کی پیروی کرے جزا سزا کا تصور دے سب کچھ خود کرنے کا شوق اخباروں میں تصاویر تو چھپوادیتا ہے لیکن ٹیم میں پہل کاری کا جذبہ ختم ہوجاتا ہے وہ خود ہر جگہ موجود نہ ہو لیکن ہر جگہ اس کی موجودگی کا احساس پایا جائے اور پوری انتظامیہ اس احساس کے ساتھ کام کرے ۔

3۔ اس کی اپنی ذات میں اپنی حیثیت میں خود اعتمادی موجود ہو دکھائی دے جس سے ٹیم میں بھی خوداعتمادی پیدا ہو اور وہ بہتر سے بہتر نتائج دینے کی کوشش کرے۔

4۔ مشکل حالات میں پریقین ، پرامید اور پراعتماد دکھائی دے تاکہ اسے دیکھ کر اس کی ٹیم اور انتظامیہ میں بھی اعتماد پیدا ہو کہ انشا اللہ ہم اس مشکل سے احسن طریقہ سے نکل آئیں گے، لیکن اگر قائد پریشان دکھائی دے تو ماتحتوں کے ہاتھ پاؤں بھی پھول جاتے ہیں اور ممکن بھی ناممکن دکھائی دیتا ہے ۔

5۔ قائدمیں برداشت کا مادہ ہو۔ Calmاور Composedہو ، طوفان بحران آتے ہیں گزرجاتے ہیں۔ اچھا قائد ٹھنڈے دل ودماغ سے ان سے گزر جاتا ہے۔

6۔ ایک اچھا قائد پوری صورت حال کو قدم بقدم حل کرتا ہے ، یکدم کوشش سے افراتفری کا گمان ہوسکتا ہے پھر ٹیم بھی ’’بونگیاں ‘‘ مارنے لگتی ہے۔ قدم بقدم آگے بڑھنے سے صورت حال کی سنگینی کم ہوتی نظر آتی ہے۔ اور حوصلے بڑھ جاتے ہین۔

7۔ قائد Exce IIenceپر یقین رکھتا ہو اور اپنی ٹیم سے بھی یہی توقع رکھتے اور انہیں حوصلہ دلائے کرے ، ان سب خصوصیات میں سے کچھ تو خداداد ہوتی ہیں۔ کچھ محنت توجہ اور لگن سے حاصل کی جاسکتی ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ بہتری لائی جاسکتی ہے جو اسے ایک مثالی لیڈر بناسکتی ہے بنادیتی ہے۔

قائد کو ادراک ہونا چاہئے کہ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ کچھ عرصہ کے بعد تبدیلی چاہتے ہیں چنانچہ بدلتے حالات تقاضوں اور ضروریات کے مطابق نظام کو بھی اور خود کو بھی ڈھال لے اور احتساب کا ایسا نظام ترتیب دے جو خود بخود اور مسلسل تبدیل ہوتا رہے اور ایسی خبریں پڑھنے کو نہ ملیں کہ قابل احترام عدالت عظمیٰ نے محترم وزیر اعظم نے محترم وزیراعلیٰ نے فلاں واقعے کا نوٹس لے لیا جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ پوری انتظامیہ بے کار ہے اور خزانے پر بوجھ ثابت ہورہی ہے ، دنیا بھر میں کسی ملک میں یہ نہیں ہوتا کہ صوبے یا ملک کا سربراہ ، قتل ، ڈاکہ، زیادتی اور Rapeکی تحقیقات کے لئے خود جائے بلکہ جیسا پہلے لکھا گیا ہے اس کی موجودگی کا احساس اور ڈرہراہلکار کے ذہن میں ہونا چاہئے۔

*۔۔۔یہاں سے گڈگورننس کا آغازہوجاتا ہے، گورننس طرز حکمرانی ہے، یعنی ایسا معاشی ، سیاسی اور انتظامی فریم ورک ترتیب دیا جائے جس میں ہر سطح پر عوام اپنے جائز حقوق بنیادی ضروریات رشوت اور سفارش کے بغیر حاصل کرسکیں اور یہ فریم ورک خود احتسابی کا حامل ہو، شفاف ہو اور اس کے ذریعہ عام آدمی کو حکومتی معاملات میں شمولیت کا احساس پیدا کرے بلاتفریق رنگ نسل قانون کی حکمرانی ہونہ کہ حکمرانوں کا قانون۔ سیاسی ، سماجی اور معاشی ترجیحات عوام کے مفاد میں طے پائیں نہ کہ کسی خاص جماعت یا طبقہ کے لئے، غریب کی آواز سنی جائے اور فیصلہ سازی میں اس کا حصہ ہو، پالیسیاں عام آدمی کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے ترتیب دی جائیں ، مندرجہ ذیل خصوصیات سے گڈگورننس جنم لیتی ہے ۔

*۔۔۔ عوام میں احساس شمولیت :ہرخاص وعام کو احساس ہو محض خواص کو نہ ہو کہ پالیساں ترتیب دیتے وقت فیصلے کرتے وقت، ان کی آواز سنی جاتی ہے، ان کی بنیادی ضروریات پیش نظر رکھی جاتی ہیں۔ بلاواسطہ بھی اور بالواسطہ بھی یعنی جائز طورپر منتخب نمائندوں کے ذریعہ بھی دھاندلی کی پیداوار کے ذریعہ نہیں، اس سے غربت ، بے روزگاری ،لاقانونیت ، رشوت ختم کرنے میں مددملتی ہے کیونکہ یہ عوام کے مسائل ہیں، خواص کے نہیں ہیں ، اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ سرکاری فیصلوں تک عوام کی رسائی ہو، پالیسیاں مرتب کرنے کے ذمہ دار اداروں تک ان کی رسائی ہو، عدالتی اور انتظامی امورتک ان کی رسائی ہو، یعنی انصاف تک ان کی رسائی ہو اور انصاف ان کی پہنچ میں ہو، لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں عدلیہ وکیل کا نام دیکھتی ہے اور وکیل اپنے مسائل کی جیب ، یہ انصاف نہیں ، انصاف کا قتل ہے۔ انسانی لحاظ سے عوام کا حق Right to Knowقانونی اور اخلاقی لحاظ سے عوام انتظامیہ ، متفقہ عدلیہ پر لازم ہے کہ مشترکہ کوششوں کے ذریعہ بہتر انداز حکمرانی یعنی گڈ گورننس قائم کی جاسکے۔

*۔۔۔قانون کی حکمرانی:قوانین، ضابطے ، غیرجانبداری سے نافذ العمل ہوں، اسی لئے تو انصاف کی آنکھوں پر پٹی باندھی ہوتی ہے کہ وہ اپنا پرایا نہ دیکھ سکے لیکن شائد ہمارے ہاں اس پٹی میں سوراخ ہوتے ہیں کہ بڑا چھوٹا ، اپنا پرایا دکھائی دے ، قوانین اور ضابطے تبدیل بھی ہوتے ہیں، ہونے چاہئیں لیکن مصلحتوں کے تحت نہیں ماضی کے تجربات کی روشنی میں انہیں مستقبل میں بہتر بنانے کے لئے بڑی گورننس میں غریب کی قسمت کی قیمت پر زور والوں کے مفادات کا تحفظ کیا جاتا ہے اور عدلیہ بھی اس سے بری الذمہ نہیں ہے۔

*۔۔۔شفافیت: سوائے حساس نوعیت کے فیصلوں کے حکومت کے ہرفیصلہ ، عمل ، اداروں سے متعلقہ اطلاعات انہیں میسر ہوں جن کے مستقبل پر وہ اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ شفافیت کا نہ ہونا، احتساب کے نہ ہونے کو جنم دیتا ہے عوام کو جواب دہ ہونے کا احساس نہیں رہتا اور حکومت کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔ رشوت پھیلتی پھولتی ہے جیسے ہمارے ہاں ہورہا ہے۔ غریب غریب سے غریب تر اور امیر امیر سے امیر تر ہوتا جارہا ہے۔ حکومت رشوت خور بن جاتی ہے ، حکومتی اہلکار بھی رشوت خور بن جاتے ہیں کیونکہ وہ شفافیت نہ ہونے کی وجہ سے قوانین اور ضابطوں کو اپنے لئے اور اپنوں کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

حساس اور قومی معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنا

معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان اختلاف ختم کرکے اتفاق رائے قائم کرنا۔2۔ جہاں حساس قومی معاملات پر مختلف جماعتوں گروہوں کے درمیان اختلاف ہو، وہاں بات چیت کے ذریعہ اتفاق رائے قائم کرنا یا کم ازکم ان کے تحفظات دور کرنا ممکن نہ ہو تو کم سے کم کرنا ضروری ہے چونکہ مقصد ان کا ہی قومی مفادات کا تحفظ ہی ہوتا ہے۔ اقلیتوں کے تحفظات دور کرنا اور ان کا تحفظ بھی ’’گڈگورننس‘‘ کا لازمی جزو ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں بعض افسوسناک واقعات ہوئے ہیں ایسے معاملات پر علما کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے اور یہ کانفرنسیں منعقد کرنے سے یا صرف بیان بازی سے ادا نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا فرض ہے کہ وہ موقعہ واردات پر خود جائیں اور حکومت انہیں تمام سہولیات مہیا کرے، ’’پولیو‘‘ ورکرز پر حملوں کی جگہ، مولانا فضل الرحمن ، مولانا طاہر اشرفی صاحب، حافظ سعید صاحب کی قیادت میں ایک وفد ورکرز کے ساتھ چلے تاکہ عوام کو معذور بچے پیدا کرنے سے معذور بچے کی تعداد نہ بڑھنے کو یقینی بنایا جاسکے۔

حکومت ادارے ، حکومتی اہلکار حکومت کی مدد سے چلنے والے ادارے اور منتخب نمائندے جمہوری ادارے اپنے آپ کو نہ صرف جواب دہ سمجھیں بلکہ جواب دہ بنائیں اور عام آدمی کے سوالات اختلاف رائے اور احتجاج کو توہین نہ سمجھیں ۔

حکومت کی کارکردگی مؤثر ہو اور موثر دکھائی دے

قیادت کا مؤثر کنٹرول اور اداروں کی مؤثر کارکردگی ’’گڈگورننس ‘‘ ہے ، سول سروس کے اہل کار اپنے آپ کو خدائی مخلوق سمجھنے کی بجائے Public Servantسمجھیں عوام جن کے ٹیکس کا ایک ایک روپیہ اکٹھا کرکے ان کی تنخواہ اور موج میلہ کا وسیلہ بنتا ہے سروس ڈیلیوری پر سب سے زیادہ رشوت اثرانداز ہوتی ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ قیادت صرف فوٹو سیشن میں دلچسپی رکھتی ہے عوام کے دکھ دور کرنے میں نہیں ورنہ آہنی ہاتھ سے عوام کو اس لعنت سے چھٹکارا دلایا جاسکتا ہے سلیکشن ، اپوائٹمنٹ ، پروموشن سب کچھ ان کے اپنے ہاتھ میں ہی ہوتا ہے۔ عوام یا عوامی نمائندوں کا اس کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا جو کہ ہونا چاہئے جس کی وجہ سے وہ عوام پر حاکم اور مشیر ہوتے ہیں اور حکمرانوں کے سامنے بھیگی بلی ۔۔۔۔ معیار میرٹ اور صرف میرٹ ہونا چاہئے صاحب بہادر کی خوشنودی نہیں۔

*۔۔۔احتساب : فیصلے کرنے والے پالیسیاں ترتیب دینے والے حتیٰ کہ پرائیویٹ سیکٹر (قیمت بڑھانے کم کرنے ) اور سول سوسائٹی کا احتساب بہت ضروری ہے جزااور سزا کے بغیر کوئی معاشرہ پنپ نہیں سکتا، کوئی مذہب اس تصور کے بغیر مکمل نہیں ہے۔

*۔۔۔مستقبل کی حکمت عملی :قیادت اور عوام دونوں میں ایک سوچ یکساں ہو کہ آنے والے کل میں کیا تبدیلیاں ہوسکتی ہیں اور وہ تبدیلیاں ہم پر کس انداز میں اثرانداز ہوسکتی ہیں اور ہم نے مل کر آنے والی نسل کے لئے ان تبدیلیوں سے مثبت اثرات کیسے اخذ کرنے ہیں۔۔۔ارسطو نے کہا تھا کہ ایک یقینی عملی تصور ہو، ایک مقصد ہو ایک منزل ہو، اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اس منزل تک پہنچنے کے لئے ضروری چیزیں ،عقل درویش ، سرمایہ سازو سامان اور واضح طریقہ کار اور ان سب کو ملا کر ہی مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے، یہ ہے گڈگورننس ۔ *

مزید : کالم