کپاس اور گنے کے کاشتکاروں کے مسائل!

کپاس اور گنے کے کاشتکاروں کے مسائل!

گنے کے کاشتکار اپنی جگہ پریشان ہیں تو اب کپاس والوں کو بھی دکھوں نے گھیر لیا ہے۔ خبر یہ ہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر نے کپاس کی خریداری بند کر دی، پھٹی کے نرخ4800سے بھی نیچے آ گئے، لیکن گاہک نہیں اور کاشتکار فصل گھر میں رکھے سوچ میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ زیادہ دیر تک یوں ہی پڑی رہے تو خراب ہو جاتی ہے، ٹیکسٹائل سیکٹر کا عذر لوڈ شیڈنگ اورگیس کا نہ ملنا ہے۔ مل مالکان کہتے ہیں کہ پھٹی لے کر اسے دھاگہ اور دھاگے سے کپڑا بنانے تک توانائی کی ضرورت ہے، جو مل نہیں رہی۔ بجلی نہ ہونے سے ملیں اپنے اوقات کے مطابق چل نہیں پاتیں، تو کپاس خرید کر کیا کریں؟ مل مالکان کی طرف سے یہ اس کے باوجود کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے صنعتوں کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دے کر شہریوں کے لئے لوڈشیڈنگ بڑھا دی ہوئی ہے۔کاشتکاروں کے بقول یہی صورت حال رہی تو مجبوراً زمیندار ایسی فصلوں کی طرف رجوع کریں گے جو نقد آور ہوں، پھر کپاس کی قلت پیدا ہو گی تو درآمد کرنا پڑے گی۔ یوں زرمبادلہ کے ذخائر بھی متاثر ہوں گے۔

یہ حالات کپاس کے ہیں تو گنے کے کاشتکار بھی اپنی جگہ دُکھی ہیں، ان کو پوری قیمت نہیں ملتی اور پھر ملوں کو گنا دیں تو ادائیگی میں تاخیر کی جاتی ہے جو ناروا ہوتی ہے۔ اب تو سندھ حکومت نے گنے کی امدادی قیمت مقرر کر دی جو پنجاب سے کم ہے۔ پنجاب کی شوگر ملوں کے مالکان نے مطالبہ شروع کر دیا ہے کہ یہاں بھی گنے کی قیمت کم کی جائے۔ یوں ان دو شعبوں میں بحران کا خدشہ موجود ہے اس سے عوام براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔یہ بحران ہر سال اور بار بار پیدا ہوتے ہیں اس کی وجہ بحران کا مستقل حل نہ ہونا ہے، حکومت کے متعلقہ محکمے تساہل سے کام لیتے یا پھر زبردستوں کی حمایت کرتے ہیں، حالانکہ ان کی ذمہ داری مستقل نوعیت کی پالیسیاں بنانے اور حالات پر گہری نظر رکھنا ہے کہ کسی فریق کی حق تلفی نہ ہو، حکومت ان محکموں کے حکام پر کیوں نظر نہیں رکھتی اور اہل افسر کیوں متعین نہیں کئے جا سکتے جو بروقت کارروائی کرنے کے اہل ہوں؟

مزید : اداریہ