کسی فرد واحد یا گروپ کو شہر اور ملک بند کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،پرویز رشید

کسی فرد واحد یا گروپ کو شہر اور ملک بند کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،پرویز ...

                                  کراچی (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے اعلان پر مختلف شہروں اور ملک کو بند کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،کسی فرد واحد یاگروپ کو اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ لوگوں کی معمول کی زندگی میں خلل ڈاؑلے اور انہیں ان کے حقوق سے محروم کرے ، عوام عمران خان کو ملک کی تقدیر کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز آئیڈیاز 2014ءکی سائیڈ لائن کانفرنس (انڈسٹری سمٹ) کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے عمران خان کی جانب سے لاہور، فیصل آباد اور پھر کراچی کو بند کرنے کے اعلان پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان شہروں کو انڈیا نے 1965ءاور 71ءکی جنگوں میں نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تمام مذموم عزائم رکھنے والے ناکام ہوں گے، ملک کی تمام قومی جماعتیں متفق ہیں اورآج بھی پارلیمنٹ چیف الیکشن کمشنر کی نامزدگی کے لئے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان سے مذاکرات کرنا ممکن ہے لیکن وہ اپنی پالیسی کا جائزہ لیں اور ملکی اداروں خصوصاً عدلیہ کا احترام کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات قابل افسوس ہے کہ عمران خان نے معزز شخص جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم کی بھی تضحیک کی ۔ سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق تھا لیکن اس کو بھی پاکستان تحریک انصاف نے متنازعہ بنایا۔ انہوں نے صحافیوں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات میں اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ ملک میں کوئی سیاسی عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ جہاں ملک کا اسٹاک ایکسچینج 30 ہزار سے اوپر جا رہا ہو، کرنسی میں استحکام پیدا ہو رہا ہو اور زرمبادلہ کے ذخائر 15 بلین ڈالرز تک پہنچ رہے ہوں وہاں سیاسی عدم استحکام کیسے پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بجلی کی قلت پر قابو پانے کے لئے کام کر رہی ہے اور اس کے علاوہ بیرونی سرمایہ کاری بھی ملک میں بڑی تیزی کے ساتھ آ رہی ہے جس میں چین کی جانب سے آنے والے 45 بلین ڈالرز شامل ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ عمران خان احتجاج اور دھرنوں کی سیاست نہ کرتا تواب تک نہ صرف عدالتی کمیشن قائم ہوچکا ہوتا بلکہ اس کی رپورٹ بھی آچکی ہوتی۔

مزید : علاقائی