شرعی وقانونی تقاضے پورے کیے بغیر جنیدجمشیدکی معافی قابل قبول نہیں،سنی تحریک

شرعی وقانونی تقاضے پورے کیے بغیر جنیدجمشیدکی معافی قابل قبول نہیں،سنی تحریک

لاہور(سٹاف رپورٹر) سربراہ پاکستان سُنی تحریک محمدثروت اعجازقادری اورسربراہ تحریک صراطِ مستقیم پاکستان ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی کی اپیل پر نبی کریم ﷺ اورامّ المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کی شان میںگستاخی کیخلاف جمعہ کوملک گیر” یوم عشقِ رسول ﷺ“ کے طور پر منایا گیا اور فیصل آباد،ملتان،سیالکوٹ، حیدرآباد،سکھر،لاڑکانہ اورمیرپوخاص سمیت کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے اورریلیاں نکالی گئیں جبکہ سُنی تحریک علماءبورڈکے عہدیداروں نے ”عشق رسولﷺ اورشانِ اُمّ المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ“ کے موضوعات پر خطبات ِجمعہ دیے اور جمعہ کے اجتماعات میں جنیدجمشیدکی ہرزہ سرائی کیخلاف مذمتی قراردادیں منظورکیں۔سُنی تحریک علماءبورڈکے اعلامیہ میں کہا گیاگہ شرعی اورقانونی تقاضے پورے کیے بغیر جنیدجمشیدکی معافی قابل قبول نہیں۔نبی کریم ﷺ کی تبلیغ کو ٹارگٹ کرنا،آپ ﷺ کی صحبت کو عامیانہ اندازمیں پیش کرنااور اُمّ المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کی ذاتِ پاک پر بہتان باندھناناوہ سنگین اورناقابل معافی جرائم ہیں جن پرجنیدجمشیدکوشریعت اورقانون کے مطابق سزاملنی چاہئے۔جنیدجمشیدکے معاملے میںقانونی تقاضوں کو پوراکیے بغیرمعافی کی روایت ڈالی گئی تواس کی آڑ میں آیندہ بہت سے گستاخوں کوہرزہ سرائی کا جواز ملے گااورملک کے ہر گلی کوچے سے گستاخ اور بے ادب پیدا ہونے شروع ہوجائیں گے۔

علمائے کرام نے جنیدجمشیدکے معاملے پرجامعہ بنوریہ کراچی کے مہتمم مفتی نعیم کے ویڈیوبیان پرشدید ردِعمل کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺاور اُمّ المومنین سید عائشہ صدیقہ کی گستاخی کوئی معمولی بات نہیں۔مفتی نعیم ہوش کے ناخن لیں کیونکہ گستاخ شخص کی حمایت بھی گستاخی کے زُمرے میں آتی ہے۔ اگرجنیدجمشید دےن سے ناواقف شخص ہے تواس کے حمایتوں کو اُسے قرآن وسنت کی تشریح کرنے سے روکناچاہیے تھا۔جاہل شخص کا دین کے حساس معاملات پر بحث کرنا دین کاکھلا مذاق ہے۔مفتی نعیم کی جانب سے ملک میں مسلکی فتنے کو ہوا دینے کاالزام بے بنیادہے۔اُمہات المومنین جیسی مقدس ہستیوںاور شعائراسلام کامذاق اُڑایاجائے گا توخاموش نہیںبیٹھیں گے۔قانون کا دروازہ کھٹکھٹاناہمارا آئینی حق ہے اس سے کسی صورت دستبردارنہیں ہوں گے۔ ۔توہین ِ شعائراسلام کے مجرم کو معاف کرنے کااختیارکسی کے پاس نہیں۔اس لیے جنیدجمشیدکے معاملے کوشرعی اور قانونی تقاضوں کے مطابق حل کیا جاناچاہئے۔ جنید جمشید جیسے جاہل واعظین کا دین کے حساس معاملات پر بحث کرنا اسلام اورپاکستان دونوں کیلئے بڑافتنہ ہے۔ میڈیاپرنشرہونیوالے دینی پروگراموں میں فنکاروں اور گلوکاراوں کی بجائے جید علمائے کرام کو بلایاجائے کیونکہ دین کا علم رکھنے والے علماءہی قرآن وسنت کی صحیح تشریح کر سکتے ہیں۔یوم عشق رسول ﷺ کے حوالے سے مولانا مجاہد عبدالرسول خان ، علامہ ریاض ہزاروی ، مفتی حسیب عطاری ،علامہ مفتی سلیم نقشبندی ، علامہ رمضان قادری ، مولانا شفا قت ہمدمی، علامہ غفران محمودسیالوی،مفتی قاضی سعیدالرحمن،مفتی لیاقت علی رضوی،صاحبزادہ خالدمحمودضیاءعلامہ عطاءالرحمن دھنیال، علامہ عبداللطیف قادری،علامہ طاہراقبال چشتی، علامہ وسیم عباسی،علامہ ہاشم مجددی اورعلامہ اشتیاق قادری ودیگرنے مختلف اجتماعات سے خطاب کیا۔علاوہ ازیںسربراہ تحریک صراطِ مستقیم پاکستان ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی کی اپیل پربھی جمعة المبارک یوم فضیلت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے طور پر منایا گیا۔جس میں علمائے کرام نے جمعة المبارک میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فضائل و مناقب بیان کیے۔ ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے جمعة المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے امتِ مسلمہ پر بہت زیادہ احسانات ہیں۔ انہوں نے اسلامی تعلیمات کو امت تک پہنچانے میںبھر پور کردار ادا کیا آپ کو اذیت پہنچانا رسول اللہ ﷺ کو اذیت پہنچانا ہے۔ سابق گلو کارکی طرف سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی توہین سے امت مسلمہ کے جذبات بری طرح مجروح ہوتے ہیں۔ حکومت سابق گلو کارکو فوراً گرفتار کرے اور ایف آئی آر کے مطابق اسے سزا دے۔ ضمانت قبل از گرفتاری سے حالات خراب ہو سکتے ہیں ۔جنید جمشید نے صرف حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہی کی توہین نہیں کی بلکہ توہین رسالت اور توہین اسلام کا بھی ارتکاب کیا ہے معافی کی بحث فضول ہے ۔اس معاملے میں سرد مہری کا مظاہرہ کیا اور اس کے رد عمل میں کوئی ممتاز قادری سامنا آگیا تو اس کی تما م تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلوکاری میں نام کمانے والا گلوکار آج خود کو مذہبی فلاسفر ظاہر کرکے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے بارے میں توہین آمیز ریمارکس دے رہا ہے جس سے عالم اسلام کی شدید دل آزاری ہوئی ہے ۔لہٰذا اسے فوری طور پر 295cکے مطابق قانونی کاروائی فوری عمل میں لائی جائے۔

مزید : علاقائی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...