اسلامی ممالک کی مشترکہ کرنسی کیلئے تحریک شروع کی جائے،حافظ سعید

اسلامی ممالک کی مشترکہ کرنسی کیلئے تحریک شروع کی جائے،حافظ سعید

                                لاہور( سٹاف رپورٹر )امیر جماعةالدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ تمام سیاسی ،دینی اور مذہبی جماعتیں اختلافات بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو جا ئیں ۔ وزیراعظم نوازشریف اسلامی ممالک کی کانفرنس بلائیں اوریورپی ممالک کی طر ح اسلامی ممالک کی مشترکہ کرنسی بنانے کی تحریک شروع کی جائے ۔ بھارت افغانستان فوج بھجوا سکتا ہے تو مجاہدین کو بھی مظلوم مسلمانوں کی مدد کیلئے کشمیر جانے کا پور احق حاصل ہے۔مسلمان ملک اپنی کرنسی، اسلامی فوج، مشترکہ دفاع اور بین الاقوامی عدالت انصاف بنائیں۔اگر یورپی یونین بن سکتی ہے تو اسلامی یونین کیوں نہیں؟نواز شریف بھارت سے کھلی بات کریں کہ وہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو پھر مظلوم کشمیریوں کی مدد کرنا حکمرانوں پر فرض ہو جاتا ہے۔ بھارت اور اسرائیل پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو نقصان پہنچانے کی سازشیں کر رہے ہیں۔حکمران کشکول توڑ دیں، سود ختم اور سودی قرضے واپس نہ کرنے کا اعلان کیاجائے‘ ملکی معیشت سنور جائے گی۔ امریکہ، بھارت اور ان کے اتحادی مسلم ملکوں پر قبضے کریں گے تو پھر مسلمانوں کے پاس جہاد کے علاوہ کوئی اور چارہ باقی نہیں رہتا۔انڈیا کی فوج نیٹوفورسز کی جگہ بٹھا کر امریکہ شکست سے نہیں بچ سکتا۔ داعش جیسی تنظیمیں عراق اور شام کی بجائے فلسطین جا کر اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجائیں۔ روس کو شکست سے دوچار کرنے والے بھی کشمیر جاکر غاصب بھارت کے مظالم روکیں۔ مسلم حکومتوں، اداروں اور فوجوں پر کفر کے فتوے لگا کر قتل و غارت گری کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے جماعةالدعوة کے مرکزی اجتماع کے آخری روز مینار پاکستان گراﺅنڈمیں جمعة المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مقامی سیاسی، مذہبی و سماجی شخصیات سمیت تمام مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لاکھوں مردوخواتین نے ان کی امامت میں نماز جمعہ اد اکی۔حافظ محمد سعید نے نماز جمعہ کی دوسری رکعت میں قنوت نازلہ بھی کروائی۔ اس دوران مظلوم کشمیری وفلسطینی مسلمانوں اور پاکستان کی سلامتی و استحکام کیلئے خصوصی دعائیںکرتے ہوئے حافظ محمد سعید آبدیدہ ہو گئے جبکہ لاکھوں شرکاءزاروقطار روتے۔خطبہ جمعہ کے دوران بہت زیادہ رش بڑھ جانے کے باعث پنڈال کے قرب و جوار میں بنائی گئی خیمہ بستیوں کی قناتیں کھول دی گئیں ۔ اس کے باوجود لوگوں کو نماز کی ادائیگی کیلئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔جماعةالدعوة کے سربراہ حافظ محمد سعید نے اپنے خطا ب میں کہاکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوںنے نام نہا ددہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہے مگر اسے اسرائیل کا فلسطین میں اور بھارت کا کشمیر، حیدرا ٓبادگجرات، آسام اور میزورام میں ڈھایا جانے والا ظلم نظر نہیں آتا۔ جہاد کو دہشت گردی قرار دیا جارہا ہے اور دہشت گردی کے نام پر عالمی سازشیں کی جارہی ہیں۔ نائن الیون کے بہانے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستا ن پر حملہ کیا ۔ 13سال جاری رہنے والی اس جنگ میں اسے بدترین شکست کا سامنا ہے۔ ہم پورے مغرب اور صلیب کی شکست ہے۔اس شکست کا داغ دینے کیلئے امریکی فوج نے وہاں ایک سال رہنے کا فیصلہ کیا ہے اور نیٹوفورسز کی جگہ بھارتی فوج کو متعین کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ وہ حالات کا رخ بدلنا چاہتے ہیں مگر انہوںنے ماضی کی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا۔انڈیا شکست خوردہ امریکہ کو نہیں بچا سکتا۔ داعش جیسی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ عراق اور شام کی بجائے فلسطین جا کر اسرائیل کے خلا ف لڑیں اور ا سکی اینٹ سے اینٹ بجائیں۔ انہوںنے کہاکہ افغانستان فوج بھیجنے والا بھارت کس منہ سے کشمیریوں کی مدد کیلئے جانے والوں کو روکنے کی باتیںکرتا ہے؟ اگر وہ امریکیوں کی مدد کیلئے افغانستان فوج بھیج سکتا ہے تو مجاہدین کو بھی کشمیر جانے کا پورا حق حاصل ہے۔ حافظ محمد سعید نے کہاکہ وزیر اعظم نواز شریف نے جنرل اسمبلی اور مظفر آباد میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی بات کی جو خوش آئند امر ہے مگر ہم صاف طورپر کہتے ہیں کہ انڈیا ایک جارح اور غاصب ملک ہے اس کو پیار کی زبان سمجھ میں نہیں آتی۔آپ انڈیا سے کھلی بات کریں کہ وہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پر مسئلہ کشمیر حل کرے اور اگر وہ اس بات پر عمل نہیں کرتا تو پھر حکومت کا فرض ہے کہ وہ قرآن کے حکم پر عمل درآمدکرتے ہوئے مظلو م کشمیریوں کو غاصب بھارت سے آزادی دلوائے۔ انہوںنے کہاکہ مسلم حکمران اپنی ذمہ داری ادا کریں۔ کفار کی کاسہ لیسی ترک کر دیں اور اپنے قدموں پر کھڑے ہوں۔ کشکول توڑ دیں ۔ سود ختم کریں‘ اور سود پر لیا گیا قرض واپس نہ کرنے کا اعلان کریں۔ ملک میں اللہ کا دین نافذ کیاجائے۔ سود سے جان چھوٹے گی تو ملک کی معیشت بھی سنور جائے گی۔ ہم نے مذہبی و سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملا کر کلمہ طیبہ کی بنیاد پرحاصل کئے گئے اس ملک کو اسلامی پاکستان بنانا ہے۔نظریہ پاکستان کی بنیا دپر سب متحد ہیں۔ ہم نے بلوچستان اور سندھ کے وڈیروں سے بھی ملاقاتیں کی ہیں وہ بھی ملک میں اسلام چاہتے ہیں۔میں ضمانت دیتا ہوں کہ سب سیاسی جماعتیں عہد کریں کہ ہم نے اس ملک کو اسلامی بنانا ہے پھر نہ کنٹینروں کی سیاست ہو گی اور نہ دھرنے ہوں گے۔ علاقائی مفادات کی بنیاد پر مسلمان اکٹھے ہو سکتے ہیں اور نہ ہی صوبائی اور علاقائی جھگڑے ختم ہو سکتے ہیں۔ صرف اللہ کا دین ہی مسلمانوںکو متحد کر سکتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ حکومت 60مسلم ممالک کے حکمرانوں کو اسلام آباد بلائیں۔ اسلام کی بنیاد پر اتحادقائم کریں۔او آئی سی کا ایجنڈا بدلیں۔نظریہ پاکستان پر عمل پیرا ہوں۔ ہم کرسیوں کے سودے کرنے والے نہیں قرآن و سنت کی بنیاد پر حکمرانوں کو دعوت دیتے ہیں۔ سود ختم اور غیر اسلامی شقیں ختم کی جائیں۔آئین اسلامی بنائیں۔ قرآن و سنت کو سپریم لاءتسلیم کریں اور عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کو منہجی طور پر تبدیل کریں۔ انہوںنے کہاکہ مسلمان امریکہ، بھارت یا کسی اور سے خود نہیں لڑنا چاہتے لیکن اگر وہ مسلم ملکوں پر قبضے کریں گے ، نہتے مسلمانوں کی آزادیاں و حقوق غصب کریں گے تو پھر مسلمانوں کے پاس جہاد کے علاوہ کوئی اور چارہ باقی نہیں رہتا۔ امریکہ بتائے اس نے کس حق کے تحت سات لاکھ افغان مسلمانوں کو شہید کیا۔ وہ کس منہ سے دہشت گردی کی باتیں کرتے ہیں؟ وہ امریکہ جا کر بیٹھیں‘ وہ اپنی مشنریاں بھیجیں مسلمان اپنے دعوت دینے والے بھیجیں گے جو حق ہو گا دنیا قبول کرے گی۔ انہوںنے کہاکہ ہندوﺅں اور مسلمانوں کے مابین کوئی قدر مشترک نہیں ہے۔ بھارت کے مظالم سے نجات دلوانے کیلئے غوری اور غزنوی کا راستہ اختیار کرنا ہو گا۔ ہم نے مشرقی پاکستان کا انتقام لینا ہے۔ نظریہ پاکستان کے تحفظ کیلئے پورے ملک میں تحریک چلانی ہے۔ جماعةالدعوة تشدد کی سیاست کی قائل نہیں ہے۔ خودکش حملوںکی اسلامی معاشروںمیں کوئی گنجائش نہیں۔ ہم ملک میں ریلیف کے نیٹ ورک کوتحصیل کی سطح پر منظم کریں گے۔ انہوںنے کہاکہ ہم جلد احیائے نظریہ پاکستان مہم کے سلسلہ میں ایک رابطہ کونسل تشکیل دے رہے ہیں۔اس کی بنیاد پر سب جماعتوں کو اکٹھا کریں گے۔ اسلام اور جہاد کے خلاف پروپیگنڈا کا توڑکرنا ہے۔ انہوںنے کہاکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ نیا پاکستان بنانا ہے مگرہم کہتے ہیں کہ نیا پاکستان بنانے کی ضرورت نہیں ہم نے اس ملک کو مدینہ کی طرز پر اسلامی پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔ مسلمان اللہ سے تعلق کو مضبوط کریں، سادہ طرز زندگی اختیا ر کریں اور گھروں و خاندانوں کو اسلامی بنائیں۔مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین اور جید علماءکرام نے جماعةالدعوة کے مرکزی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اسلام کو بیرونی دشمنوں سے زیادہ اندرونی فتنوں سے نقصان پہنچا ہے۔مسلمانوں کو کافر قرار دیکر واجب القتل قرار دینا اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی ہے۔باہمی قتل و غارت گری سے عالم اسلام کمزور ہو رہا ہے۔ مسلمانوں کو کافر قرار دیکر فتنہ خارجیت ہے جسے ختم کرنے کیلئے آج بھی صلف صالحین کے طرز عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔ امریکہ افغانستان سے بدترین شکست سے دوچار ہوا ہے اب انڈیا کو جلد کشمیر سے نکلنا پڑے گا۔ پاکستان کے اندر پیدا ہونے والے فتنے امریکہ کی جانب سے اپنی شکست کا انتقام لینے کی کوشش ہے۔بھارت مذاکرات کی زبان نہیں سمجھتا اسے غوری اور غزنوی کی زبان سمجھانے کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار جماعةالدعوة کے مرکزی رہنما حافظ عبدالسلام بن محمد ، پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، شاہ اویس نورانی،مولانا امیر حمزہ،مولانا محمد سلفی، انجینئر نوید قمر، حافظ محمد مسعود،حافظ طلحہ سعید،کرنل (ر)نذیر احمد، انجینئر محمد حارث،مولانا نصر جاوید،عبدالحمید بھٹہ ودیگر نے اجتماع کے دوسرے دن لاکھوں شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر شرکاءمیں زبردست جو ش و خروش دیکھنے میں آیا۔ جماعةالدعوة کا اجتماع مینار پاکستان کے تاریخی گراﺅنڈ میں مختلف جماعتوں کے اب تک ہونےو الے اجتماعات میں سے سب سے بڑا تھا جس میں پانچوں صوبوں و آزاد کشمیر سے لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ جماعةالدعوة کے مرکزی رہنما حافظ عبدالسلام بن محمد نے اپنے خطاب میں کہاکہ مسلمانوں کا قتل عام کرنے سے اسلام نافذ نہیں ہو تا۔ باہمی قتل و غارت گری سے عالم اسلام کمزور ہو رہا ہے اور اسلام کے وہ دشمن جو مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتے مضبو ط ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کے اتحاد اور اسلام کی سربلندی کیلئے فتنوں کی سرکوبی بہت ضروری ہے۔انہوںنے کہاکہ اسلام کو بیرونی دشمنوں کی بجائے اندرونی فتنوں نے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ مسلمانوں کو کافر قرار دیکر قتل کرنا فتنہ خوارج ہے اور فتنہ خارجیت کو ختم کرنے کیلئے آج بھی صلف صالحین کے طرز عمل کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ مسلمان اپنے اندر پیدا ہونے والے فتنوں سے بچنے کیلئے قرآنی تعلیمات کا مطالعہ کریں۔جماعةالدعوة سیاسی امور کے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے کہاکہ امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان پر حملہ کی اپنی تاریخی غلطی تسلیم کر چکے ہیں۔ پاکستان کے اندر پیدا ہونے والے فتنے امریکہ کی جانب سے اپنی شکست کے ردعمل کا انتقام لینے کی کوششیں ہیں۔ مسلمانوںنے لاالہ الاللہ کی بنیاد پر پاکستان اس لئے حاصل کیا تھا کہ وہ سامراج اور رام راج کے تسلط سے آزادی حاصل کر سکیں ۔ انہوںنے کہاکہ راجہ داہر کے جانشین آج بھی کشمیر اور ہندوستان میں حرمت مسلم کو پامال کر رہے ہیں اور مسلم عورتوں کی عزتوں کو تاراج کر رہے ہیں۔ کشمیر کی بیٹیاں کسی محمد بن قاسم کی منتظر ہیں لیکن آج کوئی حکمران ایسا نظر نہیں آتا جو اہل کشمیر کی آواز پر لبیک کہے۔ انہوںنے کہاکہ آجکل حکمران کشمیریوں کی مدد سے زیادہ بھارت کی دوستی، تجارت اور تعلقات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ظلم کرنا ہندو کی روش ہے۔ بھارت کے بڑھتے ہوئے ظلم کو آج بھی محمد بن قاسم کے فرزند روکیں گے۔ بھارت مذاکرات کی زبان نہیں سمجھتا بلکہ اسے سمجھانے کیلئے غوری اور غزنوی کی زبان سمجھانے کی ضرورت ہے۔ جمعیت علماءپاکستان کے سینئر نائب صدر شاہ محمد اویس نورانی نے کہاکہ بھارت نے پہلے کبھی پاکستان کو تسلیم کیا نہ وہ آج کرتا ہے۔اس کی پوری کوشش ہے کہ یہاں فرقہ وارانہ قتل و غارت گری پروان چڑھا کے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کیا جائے۔ بھارت ہمیں لاشیں بھیجتا ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کی جانب سے ساڑھیاں اور آم بھجوائے جاتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ یہ ملک کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا۔ 67سال قبل اللہ نے یہ ملک ہمیں انعام کے طور پر دیا مگر افسوس کہ یہاں اسلام نافذ نہیں کیا گیا۔ آغا خاں بورڈ نصاب تعلیم سے قرآن پاک کی آیات نکل رہا ہے۔ پاکستان کو نقصانات سے بچانے کیلئے کشمیر کی آزادی بہت ضروری ہے۔ تحریک حرمت رسول ﷺ پاکستان کے کنوینر مولانا امیر حمزہ نے کہاکہ امریکہ افغانستان سے شکست کھا کر نکلا ہے اب انڈیا کی باری آنے والی ہے۔امریکہ دس ہزار فوج افغانستان میں چھوڑ کر جارہا مگر افغان مسلمانوں کے ہاں اس کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ غزہ دنیا کی سب سے بڑی جیل ہے۔نہتے فلسطینیوںکے سامنے اسرائیلی بے بس ہوگئے ہیں اور بہت سے یہودی اسرائیل چھوڑ کر جارہے ہیں ۔ایک وقت تھا جب کفر تاریخیں دیتا تھاکہ 2015تک پاکستان صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا ۔ اللہ کے فضل وکرم سے پاکستان قائم ہے اور پہلے سے مضبوط ہے مگر واشنگٹن ٹائم اپنی رپورٹ میں کہہ رہاہے کہ 2025تک اسرائیل نام کاملک دنیا کے نقشے پر نظر نہیں آئے گا۔انہوںنے کہاکہ امریکہ جھوٹ بول کر دنیا کوگمراہ کرتاہے وہ کہتاہے کہ افغانستان میں اس کے صرف 5ہزارفوجی قتل ہوئے مگر پینٹاگان کی ویب سائٹ پر لکھاہے کہ پینشن لینے والے معذور فوجیوں کی تعدادلاکھوں میں ہے ۔جماعت غرباءاہلحدیث کے نائب امیر مولانا محمد سلفی نے کہاکہ دین اسلام کو دنیا میں غالب کرنے کیلئے امت مسلمہ کو متحد کرنا ہوگا۔ظلم کو دنیا سے ختم کرنے کے لیے ایمان کی مضبوطی اور انصاف کے لیے اتحادقائم کرنا ہوگا۔معروف عالم دین قاری صہیب احمدمیر محمدی نے کہاکہ قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کئے بغیر دنیا و آخرت میںکامیابی ممکن نہیں ہے۔ جماعة الدعوة شعبہ تعلیم کے سربراہ انجینئر نوید قمر نے کہا کہ دین اسلام کے دشمنوں نے تعلیمی میدان پر وار کیا اور ایک ایسا نظام تشکیل دیا جس میں قرار پایا کہ اسلامی ممالک میں نصاب تعلیم اپنا بنا کر دو اور ساتھ کروڑوں ڈالر بھی دو تا کہ دین سے مسلمانوں کو دور کیا جا سکے۔اقوام متحدہ،یونیسیف،یونیسکو نے فنڈنگ کی اور ذہنی غلام بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ میٹرک میں فیل ہونے پر خود کشیاں کی جاتی ہیں لیکن اخروی امتحان ہمیں یاد نہیں رہتا ۔تعلیمی محاذ پر ہونے والی یلغار کو روکنے کی ضرورت ہے۔ایسے تعلیمی ادارے قائم ہونے چاہیئے جہاں دین و دنیا کی تعلیم ساتھ دی جائے اور غلبہ اسلام کے جذبے موجود ہوں۔اب نظریہ پاکستان کی جنگ تعلیمی اداروں میں لڑائی جائے گی۔جماعة الدعوة کے مرکزی رہنما حافظ محمد مسعود نے کہا کہ دنیا کے بدترین الحاد کمیونزم کو دفن کیا جا چکا ہے۔امریکا جو مڈل ایسٹ اور وسط ایشیا میں اپنا ورلڈ آرڈر لانا چاہتا تھا اسکی فوجیں بھی ناکام ہو ری ہیں۔اب دنیا سوال کرتی ہے کہ اس کرہ ارض پر کون سی تہذیب،تمدن قائم رہے گا تو ہم یہ بتا دینا چاہتے ہہیں کہ کرہ ارض پر انشاءاللہ محمد ی نظام قائم ہو گا۔سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد سود پر مبنی ہے۔جماعة الدعوة شعبہ اساتذہ کے ناظم حافظ طلحہ سعید نے کہا کہ دشمنان اسلام نے مشرقی و مغربی سرحدوں پر شکست کے بعد فکری و نظریاتی جنگ لانچ کر رکھی ہے جس کا مقابلہ کیا جائے گا۔غلبہ اسلام کی تحریک کامیابی کی جانب گامزن ہے۔مولانا عبدالرب سلفی نے کہا کہ اسلام کی تکمیل نبی کریم ﷺ کی ذات پر ہوئی ۔دعوت و جہاد اسلام کا مکمل منہج ہے۔جہاد کے بغیر دعوت نہیں چل سکتی۔المحمدیہ سٹوڈنٹس کے امیر انجیئنر محمدحارث ڈار نے کہا کہ دشمنان اسلام مختلف ممالک میں مسلمانوں پر حملہ آور ہیں۔اسلام اور کفر کے درمیان معرکہ بپا ہے تو دوسری طرف نظریاتی و فکری محاذ پر سازشیں کی جا رہی ہیں جو خوفناک محاذ ہے۔عوام کی ذہن سازی کے لئے تعلیمی اداروں کو ہدف بنایا گیا ہے جہاں سے نسلیں پروان چڑھتی ہیں۔تعلیمی ادروں میں نظریاتی سازشوں کے خلاف بند باندھیں گے اور دعوت کا کام جاری رکھیں گے۔جماعة الدعوة شعبہ ڈیف اینڈ ڈمب کے مسﺅل عبدالحمید بھٹہ نے کہا کہ معذور،قوت سماعت سے محروم اور نابیناﺅں کے لئے بھی جماعة الدعوة کام کر رہی ہے۔نابیناﺅں کے لئے ایک سپیشل قرآن مجید لکھا گیا ہے۔نماز کی کتاب اشاروں کی زبان میں قوت سماعت سے محروم افراد کے لئے لکھی گئی ہے۔جماعة الدعوة کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس حوالہ سے یہ پہلی کتاب ہے جس کی حکومتی حلقوں میں بھی پذیرائی ہوئی۔نماز کی کتاب کا مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی کروایا جائے گا۔جماعة الدعوة کے مرکزی رہنما کرنل (ر) نذیر احمد،علامہ احمد سعید ملتانی،مولانا نصر جاوید،افتخار حیدرودیگر نے بھی خطاب کیا۔

باہمی قتل و غارت گری

 حافظ سعید

اسلامی ممالک کی مشترکہ کرنسی کیلئے تحریک انصاف شروع کی جائے،حافظ سعید                                                لاہور( سٹاف رپورٹر )امیر جماعةالدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ تمام سیاسی ،دینی اور مذہبی جماعتیں اختلافات بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو جا ئیں ۔ وزیراعظم نوازشریف اسلامی ممالک کی کانفرنس بلائیں اوریورپی ممالک کی طر ح اسلامی ممالک کی مشترکہ کرنسی بنانے کی تحریک شروع کی جائے ۔ بھارت افغانستان فوج بھجوا سکتا ہے تو مجاہدین کو بھی مظلوم مسلمانوں کی مدد کیلئے کشمیر جانے کا پور احق حاصل ہے۔مسلمان ملک اپنی کرنسی، اسلامی فوج، مشترکہ دفاع اور بین الاقوامی عدالت انصاف بنائیں۔اگر یورپی یونین بن سکتی ہے تو اسلامی یونین کیوں نہیں؟نواز شریف بھارت سے کھلی بات کریں کہ وہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو پھر مظلوم کشمیریوں کی مدد کرنا حکمرانوں پر فرض ہو جاتا ہے۔ بھارت اور اسرائیل پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو نقصان پہنچانے کی سازشیں کر رہے ہیں۔حکمران کشکول توڑ دیں، سود ختم اور سودی قرضے واپس نہ کرنے کا اعلان کیاجائے‘ ملکی معیشت سنور جائے گی۔ امریکہ، بھارت اور ان کے اتحادی مسلم ملکوں پر قبضے کریں گے تو پھر مسلمانوں کے پاس جہاد کے علاوہ کوئی اور چارہ باقی نہیں رہتا۔انڈیا کی فوج نیٹوفورسز کی جگہ بٹھا کر امریکہ شکست سے نہیں بچ سکتا۔ داعش جیسی تنظیمیں عراق اور شام کی بجائے فلسطین جا کر اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجائیں۔ روس کو شکست سے دوچار کرنے والے بھی کشمیر جاکر غاصب بھارت کے مظالم روکیں۔ مسلم حکومتوں، اداروں اور فوجوں پر کفر کے فتوے لگا کر قتل و غارت گری کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے جماعةالدعوة کے مرکزی اجتماع کے آخری روز مینار پاکستان گراﺅنڈمیں جمعة المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مقامی سیاسی، مذہبی و سماجی شخصیات سمیت تمام مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لاکھوں مردوخواتین نے ان کی امامت میں نماز جمعہ اد اکی۔حافظ محمد سعید نے نماز جمعہ کی دوسری رکعت میں قنوت نازلہ بھی کروائی۔ اس دوران مظلوم کشمیری وفلسطینی مسلمانوں اور پاکستان کی سلامتی و استحکام کیلئے خصوصی دعائیںکرتے ہوئے حافظ محمد سعید آبدیدہ ہو گئے جبکہ لاکھوں شرکاءزاروقطار روتے۔خطبہ جمعہ کے دوران بہت زیادہ رش بڑھ جانے کے باعث پنڈال کے قرب و جوار میں بنائی گئی خیمہ بستیوں کی قناتیں کھول دی گئیں ۔ اس کے باوجود لوگوں کو نماز کی ادائیگی کیلئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔جماعةالدعوة کے سربراہ حافظ محمد سعید نے اپنے خطا ب میں کہاکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوںنے نام نہا ددہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہے مگر اسے اسرائیل کا فلسطین میں اور بھارت کا کشمیر، حیدرا ٓبادگجرات، آسام اور میزورام میں ڈھایا جانے والا ظلم نظر نہیں آتا۔ جہاد کو دہشت گردی قرار دیا جارہا ہے اور دہشت گردی کے نام پر عالمی سازشیں کی جارہی ہیں۔ نائن الیون کے بہانے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستا ن پر حملہ کیا ۔ 13سال جاری رہنے والی اس جنگ میں اسے بدترین شکست کا سامنا ہے۔ ہم پورے مغرب اور صلیب کی شکست ہے۔اس شکست کا داغ دینے کیلئے امریکی فوج نے وہاں ایک سال رہنے کا فیصلہ کیا ہے اور نیٹوفورسز کی جگہ بھارتی فوج کو متعین کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ وہ حالات کا رخ بدلنا چاہتے ہیں مگر انہوںنے ماضی کی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا۔انڈیا شکست خوردہ امریکہ کو نہیں بچا سکتا۔ داعش جیسی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ عراق اور شام کی بجائے فلسطین جا کر اسرائیل کے خلا ف لڑیں اور ا سکی اینٹ سے اینٹ بجائیں۔ انہوںنے کہاکہ افغانستان فوج بھیجنے والا بھارت کس منہ سے کشمیریوں کی مدد کیلئے جانے والوں کو روکنے کی باتیںکرتا ہے؟ اگر وہ امریکیوں کی مدد کیلئے افغانستان فوج بھیج سکتا ہے تو مجاہدین کو بھی کشمیر جانے کا پورا حق حاصل ہے۔ حافظ محمد سعید نے کہاکہ وزیر اعظم نواز شریف نے جنرل اسمبلی اور مظفر آباد میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی بات کی جو خوش آئند امر ہے مگر ہم صاف طورپر کہتے ہیں کہ انڈیا ایک جارح اور غاصب ملک ہے اس کو پیار کی زبان سمجھ میں نہیں آتی۔آپ انڈیا سے کھلی بات کریں کہ وہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پر مسئلہ کشمیر حل کرے اور اگر وہ اس بات پر عمل نہیں کرتا تو پھر حکومت کا فرض ہے کہ وہ قرآن کے حکم پر عمل درآمدکرتے ہوئے مظلو م کشمیریوں کو غاصب بھارت سے آزادی دلوائے۔ انہوںنے کہاکہ مسلم حکمران اپنی ذمہ داری ادا کریں۔ کفار کی کاسہ لیسی ترک کر دیں اور اپنے قدموں پر کھڑے ہوں۔ کشکول توڑ دیں ۔ سود ختم کریں‘ اور سود پر لیا گیا قرض واپس نہ کرنے کا اعلان کریں۔ ملک میں اللہ کا دین نافذ کیاجائے۔ سود سے جان چھوٹے گی تو ملک کی معیشت بھی سنور جائے گی۔ ہم نے مذہبی و سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملا کر کلمہ طیبہ کی بنیاد پرحاصل کئے گئے اس ملک کو اسلامی پاکستان بنانا ہے۔نظریہ پاکستان کی بنیا دپر سب متحد ہیں۔ ہم نے بلوچستان اور سندھ کے وڈیروں سے بھی ملاقاتیں کی ہیں وہ بھی ملک میں اسلام چاہتے ہیں۔میں ضمانت دیتا ہوں کہ سب سیاسی جماعتیں عہد کریں کہ ہم نے اس ملک کو اسلامی بنانا ہے پھر نہ کنٹینروں کی سیاست ہو گی اور نہ دھرنے ہوں گے۔ علاقائی مفادات کی بنیاد پر مسلمان اکٹھے ہو سکتے ہیں اور نہ ہی صوبائی اور علاقائی جھگڑے ختم ہو سکتے ہیں۔ صرف اللہ کا دین ہی مسلمانوںکو متحد کر سکتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ حکومت 60مسلم ممالک کے حکمرانوں کو اسلام آباد بلائیں۔ اسلام کی بنیاد پر اتحادقائم کریں۔او آئی سی کا ایجنڈا بدلیں۔نظریہ پاکستان پر عمل پیرا ہوں۔ ہم کرسیوں کے سودے کرنے والے نہیں قرآن و سنت کی بنیاد پر حکمرانوں کو دعوت دیتے ہیں۔ سود ختم اور غیر اسلامی شقیں ختم کی جائیں۔آئین اسلامی بنائیں۔ قرآن و سنت کو سپریم لاءتسلیم کریں اور عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کو منہجی طور پر تبدیل کریں۔ انہوںنے کہاکہ مسلمان امریکہ، بھارت یا کسی اور سے خود نہیں لڑنا چاہتے لیکن اگر وہ مسلم ملکوں پر قبضے کریں گے ، نہتے مسلمانوں کی آزادیاں و حقوق غصب کریں گے تو پھر مسلمانوں کے پاس جہاد کے علاوہ کوئی اور چارہ باقی نہیں رہتا۔ امریکہ بتائے اس نے کس حق کے تحت سات لاکھ افغان مسلمانوں کو شہید کیا۔ وہ کس منہ سے دہشت گردی کی باتیں کرتے ہیں؟ وہ امریکہ جا کر بیٹھیں‘ وہ اپنی مشنریاں بھیجیں مسلمان اپنے دعوت دینے والے بھیجیں گے جو حق ہو گا دنیا قبول کرے گی۔ انہوںنے کہاکہ ہندوﺅں اور مسلمانوں کے مابین کوئی قدر مشترک نہیں ہے۔ بھارت کے مظالم سے نجات دلوانے کیلئے غوری اور غزنوی کا راستہ اختیار کرنا ہو گا۔ ہم نے مشرقی پاکستان کا انتقام لینا ہے۔ نظریہ پاکستان کے تحفظ کیلئے پورے ملک میں تحریک چلانی ہے۔ جماعةالدعوة تشدد کی سیاست کی قائل نہیں ہے۔ خودکش حملوںکی اسلامی معاشروںمیں کوئی گنجائش نہیں۔ ہم ملک میں ریلیف کے نیٹ ورک کوتحصیل کی سطح پر منظم کریں گے۔ انہوںنے کہاکہ ہم جلد احیائے نظریہ پاکستان مہم کے سلسلہ میں ایک رابطہ کونسل تشکیل دے رہے ہیں۔اس کی بنیاد پر سب جماعتوں کو اکٹھا کریں گے۔ اسلام اور جہاد کے خلاف پروپیگنڈا کا توڑکرنا ہے۔ انہوںنے کہاکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ نیا پاکستان بنانا ہے مگرہم کہتے ہیں کہ نیا پاکستان بنانے کی ضرورت نہیں ہم نے اس ملک کو مدینہ کی طرز پر اسلامی پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔ مسلمان اللہ سے تعلق کو مضبوط کریں، سادہ طرز زندگی اختیا ر کریں اور گھروں و خاندانوں کو اسلامی بنائیں۔مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین اور جید علماءکرام نے جماعةالدعوة کے مرکزی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اسلام کو بیرونی دشمنوں سے زیادہ اندرونی فتنوں سے نقصان پہنچا ہے۔مسلمانوں کو کافر قرار دیکر واجب القتل قرار دینا اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی ہے۔باہمی قتل و غارت گری سے عالم اسلام کمزور ہو رہا ہے۔ مسلمانوں کو کافر قرار دیکر فتنہ خارجیت ہے جسے ختم کرنے کیلئے آج بھی صلف صالحین کے طرز عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔ امریکہ افغانستان سے بدترین شکست سے دوچار ہوا ہے اب انڈیا کو جلد کشمیر سے نکلنا پڑے گا۔ پاکستان کے اندر پیدا ہونے والے فتنے امریکہ کی جانب سے اپنی شکست کا انتقام لینے کی کوشش ہے۔بھارت مذاکرات کی زبان نہیں سمجھتا اسے غوری اور غزنوی کی زبان سمجھانے کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار جماعةالدعوة کے مرکزی رہنما حافظ عبدالسلام بن محمد ، پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، شاہ اویس نورانی،مولانا امیر حمزہ،مولانا محمد سلفی، انجینئر نوید قمر، حافظ محمد مسعود،حافظ طلحہ سعید،کرنل (ر)نذیر احمد، انجینئر محمد حارث،مولانا نصر جاوید،عبدالحمید بھٹہ ودیگر نے اجتماع کے دوسرے دن لاکھوں شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر شرکاءمیں زبردست جو ش و خروش دیکھنے میں آیا۔ جماعةالدعوة کا اجتماع مینار پاکستان کے تاریخی گراﺅنڈ میں مختلف جماعتوں کے اب تک ہونےو الے اجتماعات میں سے سب سے بڑا تھا جس میں پانچوں صوبوں و آزاد کشمیر سے لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ جماعةالدعوة کے مرکزی رہنما حافظ عبدالسلام بن محمد نے اپنے خطاب میں کہاکہ مسلمانوں کا قتل عام کرنے سے اسلام نافذ نہیں ہو تا۔ باہمی قتل و غارت گری سے عالم اسلام کمزور ہو رہا ہے اور اسلام کے وہ دشمن جو مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتے مضبو ط ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کے اتحاد اور اسلام کی سربلندی کیلئے فتنوں کی سرکوبی بہت ضروری ہے۔انہوںنے کہاکہ اسلام کو بیرونی دشمنوں کی بجائے اندرونی فتنوں نے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ مسلمانوں کو کافر قرار دیکر قتل کرنا فتنہ خوارج ہے اور فتنہ خارجیت کو ختم کرنے کیلئے آج بھی صلف صالحین کے طرز عمل کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ مسلمان اپنے اندر پیدا ہونے والے فتنوں سے بچنے کیلئے قرآنی تعلیمات کا مطالعہ کریں۔جماعةالدعوة سیاسی امور کے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے کہاکہ امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان پر حملہ کی اپنی تاریخی غلطی تسلیم کر چکے ہیں۔ پاکستان کے اندر پیدا ہونے والے فتنے امریکہ کی جانب سے اپنی شکست کے ردعمل کا انتقام لینے کی کوششیں ہیں۔ مسلمانوںنے لاالہ الاللہ کی بنیاد پر پاکستان اس لئے حاصل کیا تھا کہ وہ سامراج اور رام راج کے تسلط سے آزادی حاصل کر سکیں ۔ انہوںنے کہاکہ راجہ داہر کے جانشین آج بھی کشمیر اور ہندوستان میں حرمت مسلم کو پامال کر رہے ہیں اور مسلم عورتوں کی عزتوں کو تاراج کر رہے ہیں۔ کشمیر کی بیٹیاں کسی محمد بن قاسم کی منتظر ہیں لیکن آج کوئی حکمران ایسا نظر نہیں آتا جو اہل کشمیر کی آواز پر لبیک کہے۔ انہوںنے کہاکہ آجکل حکمران کشمیریوں کی مدد سے زیادہ بھارت کی دوستی، تجارت اور تعلقات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ظلم کرنا ہندو کی روش ہے۔ بھارت کے بڑھتے ہوئے ظلم کو آج بھی محمد بن قاسم کے فرزند روکیں گے۔ بھارت مذاکرات کی زبان نہیں سمجھتا بلکہ اسے سمجھانے کیلئے غوری اور غزنوی کی زبان سمجھانے کی ضرورت ہے۔ جمعیت علماءپاکستان کے سینئر نائب صدر شاہ محمد اویس نورانی نے کہاکہ بھارت نے پہلے کبھی پاکستان کو تسلیم کیا نہ وہ آج کرتا ہے۔اس کی پوری کوشش ہے کہ یہاں فرقہ وارانہ قتل و غارت گری پروان چڑھا کے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کیا جائے۔ بھارت ہمیں لاشیں بھیجتا ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کی جانب سے ساڑھیاں اور آم بھجوائے جاتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ یہ ملک کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا۔ 67سال قبل اللہ نے یہ ملک ہمیں انعام کے طور پر دیا مگر افسوس کہ یہاں اسلام نافذ نہیں کیا گیا۔ آغا خاں بورڈ نصاب تعلیم سے قرآن پاک کی آیات نکل رہا ہے۔ پاکستان کو نقصانات سے بچانے کیلئے کشمیر کی آزادی بہت ضروری ہے۔ تحریک حرمت رسول ﷺ پاکستان کے کنوینر مولانا امیر حمزہ نے کہاکہ امریکہ افغانستان سے شکست کھا کر نکلا ہے اب انڈیا کی باری آنے والی ہے۔امریکہ دس ہزار فوج افغانستان میں چھوڑ کر جارہا مگر افغان مسلمانوں کے ہاں اس کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ غزہ دنیا کی سب سے بڑی جیل ہے۔نہتے فلسطینیوںکے سامنے اسرائیلی بے بس ہوگئے ہیں اور بہت سے یہودی اسرائیل چھوڑ کر جارہے ہیں ۔ایک وقت تھا جب کفر تاریخیں دیتا تھاکہ 2015تک پاکستان صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا ۔ اللہ کے فضل وکرم سے پاکستان قائم ہے اور پہلے سے مضبوط ہے مگر واشنگٹن ٹائم اپنی رپورٹ میں کہہ رہاہے کہ 2025تک اسرائیل نام کاملک دنیا کے نقشے پر نظر نہیں آئے گا۔انہوںنے کہاکہ امریکہ جھوٹ بول کر دنیا کوگمراہ کرتاہے وہ کہتاہے کہ افغانستان میں اس کے صرف 5ہزارفوجی قتل ہوئے مگر پینٹاگان کی ویب سائٹ پر لکھاہے کہ پینشن لینے والے معذور فوجیوں کی تعدادلاکھوں میں ہے ۔جماعت غرباءاہلحدیث کے نائب امیر مولانا محمد سلفی نے کہاکہ دین اسلام کو دنیا میں غالب کرنے کیلئے امت مسلمہ کو متحد کرنا ہوگا۔ظلم کو دنیا سے ختم کرنے کے لیے ایمان کی مضبوطی اور انصاف کے لیے اتحادقائم کرنا ہوگا۔معروف عالم دین قاری صہیب احمدمیر محمدی نے کہاکہ قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کئے بغیر دنیا و آخرت میںکامیابی ممکن نہیں ہے۔ جماعة الدعوة شعبہ تعلیم کے سربراہ انجینئر نوید قمر نے کہا کہ دین اسلام کے دشمنوں نے تعلیمی میدان پر وار کیا اور ایک ایسا نظام تشکیل دیا جس میں قرار پایا کہ اسلامی ممالک میں نصاب تعلیم اپنا بنا کر دو اور ساتھ کروڑوں ڈالر بھی دو تا کہ دین سے مسلمانوں کو دور کیا جا سکے۔اقوام متحدہ،یونیسیف،یونیسکو نے فنڈنگ کی اور ذہنی غلام بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ میٹرک میں فیل ہونے پر خود کشیاں کی جاتی ہیں لیکن اخروی امتحان ہمیں یاد نہیں رہتا ۔تعلیمی محاذ پر ہونے والی یلغار کو روکنے کی ضرورت ہے۔ایسے تعلیمی ادارے قائم ہونے چاہیئے جہاں دین و دنیا کی تعلیم ساتھ دی جائے اور غلبہ اسلام کے جذبے موجود ہوں۔اب نظریہ پاکستان کی جنگ تعلیمی اداروں میں لڑائی جائے گی۔جماعة الدعوة کے مرکزی رہنما حافظ محمد مسعود نے کہا کہ دنیا کے بدترین الحاد کمیونزم کو دفن کیا جا چکا ہے۔امریکا جو مڈل ایسٹ اور وسط ایشیا میں اپنا ورلڈ آرڈر لانا چاہتا تھا اسکی فوجیں بھی ناکام ہو ری ہیں۔اب دنیا سوال کرتی ہے کہ اس کرہ ارض پر کون سی تہذیب،تمدن قائم رہے گا تو ہم یہ بتا دینا چاہتے ہہیں کہ کرہ ارض پر انشاءاللہ محمد ی نظام قائم ہو گا۔سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد سود پر مبنی ہے۔جماعة الدعوة شعبہ اساتذہ کے ناظم حافظ طلحہ سعید نے کہا کہ دشمنان اسلام نے مشرقی و مغربی سرحدوں پر شکست کے بعد فکری و نظریاتی جنگ لانچ کر رکھی ہے جس کا مقابلہ کیا جائے گا۔غلبہ اسلام کی تحریک کامیابی کی جانب گامزن ہے۔مولانا عبدالرب سلفی نے کہا کہ اسلام کی تکمیل نبی کریم ﷺ کی ذات پر ہوئی ۔دعوت و جہاد اسلام کا مکمل منہج ہے۔جہاد کے بغیر دعوت نہیں چل سکتی۔المحمدیہ سٹوڈنٹس کے امیر انجیئنر محمدحارث ڈار نے کہا کہ دشمنان اسلام مختلف ممالک میں مسلمانوں پر حملہ آور ہیں۔اسلام اور کفر کے درمیان معرکہ بپا ہے تو دوسری طرف نظریاتی و فکری محاذ پر سازشیں کی جا رہی ہیں جو خوفناک محاذ ہے۔عوام کی ذہن سازی کے لئے تعلیمی اداروں کو ہدف بنایا گیا ہے جہاں سے نسلیں پروان چڑھتی ہیں۔تعلیمی ادروں میں نظریاتی سازشوں کے خلاف بند باندھیں گے اور دعوت کا کام جاری رکھیں گے۔جماعة الدعوة شعبہ ڈیف اینڈ ڈمب کے مسﺅل عبدالحمید بھٹہ نے کہا کہ معذور،قوت سماعت سے محروم اور نابیناﺅں کے لئے بھی جماعة الدعوة کام کر رہی ہے۔نابیناﺅں کے لئے ایک سپیشل قرآن مجید لکھا گیا ہے۔نماز کی کتاب اشاروں کی زبان میں قوت سماعت سے محروم افراد کے لئے لکھی گئی ہے۔جماعة الدعوة کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس حوالہ سے یہ پہلی کتاب ہے جس کی حکومتی حلقوں میں بھی پذیرائی ہوئی۔نماز کی کتاب کا مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی کروایا جائے گا۔جماعة الدعوة کے مرکزی رہنما کرنل (ر) نذیر احمد،علامہ احمد سعید ملتانی،مولانا نصر جاوید،افتخار حیدرودیگر نے بھی خطاب کیا۔

مزید : صفحہ اول