جنرل پرویز مشرف نے کالا باغ ڈیم پر مسلم لیگ (ق) کو مشکل میں ڈال دیا

جنرل پرویز مشرف نے کالا باغ ڈیم پر مسلم لیگ (ق) کو مشکل میں ڈال دیا
جنرل پرویز مشرف نے کالا باغ ڈیم پر مسلم لیگ (ق) کو مشکل میں ڈال دیا

تجزیہ :قدرت اللہ چودھری

            جنرل پرویز مشرف نے 2002ءکے انتخابات کرائے تو ان میں مسلم لیگ (ق) اکثر یتی جماعت بن کر ابھری، تاہم اس کے پاس اتنی اکثریت نہ تھی کہ وہ اپنی حکومت بنا سکتی ،342ارکان کے ایوان میں اکثریت 172، ارکان سے بنتی ہے ، مسلم لیگ (ق) اپنے طور پر اس پوزیشن میں نہیں تھی کہ اس ہدف کو حاصل کر پاتی، چنانچہ اس جماعت کے ”خالق“ جنرل پرویز مشرف کو خود ان کی مدد کے لئے آنا پڑا ،پہلے تو انہوں نے پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے اس وقت کے صدر مخدوم امین فہیم کو حکومت میں شمولیت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، انہیں وزیر اعظم کا عہدہ بھی پیش کیا گیا لیکن شرط یہ تھی کہ وہ اپنی قائد محترمہ بے نظیربھٹو سے سیاسی واسطہ توڑ کر آئیں،بالفاظ دیگر پیپلز پارٹی کو خیر باد کہہ دیں تو وزارت عظمیٰ انہیں پیش کر دی جائیگی۔اب معلوم نہیں مخدوم صاحب خود راضی نہ ہو ئے یا کوئی اور مشکل پیش آگئی کہ بات آگے نہ بڑھ سکتی، حالانکہ اس مقصد کے لئے جنرل پرویز مشرف اورمخدوم امین فہیم میں ایک ”اچانک ملاقات “ اسلام آباد کے دامن کوہ کے ایک ریسٹورنٹ میں ہوئی تھی، یہ ملاقات اتنی اچانک تھی کہ ایک فوٹو گرافر وہاں ”اتفاق“ سے موجود تھے۔ جنہوں نے دونوں رہنماﺅں کی تصویر بھی بنائی اور اگلے دن پورے اہتمام کے ساتھ اس اخبار کی زینت بنی جس سے اس فوٹوگرافر کا تعلق تھا ، یہ اچانک ملاقات بھی اکارت چلی گئی، وزارت عظمیٰ کا ہُما مخدوم صاحب کے سر پر بیٹھتے بیٹھتے اڑ گیا ، اب کیا کیا جاتا؟مسلم لیگ (ق) کے پاس اکثریت نہیں تھی وزارت عظمیٰ کےسے ملتی، پھر جنرل پرویز مشرف کا ”پلان بی “کام میں آیا اور پیپلز پارٹی کے دو ٹکڑے کر دئیے گئے ۔راﺅ سکندر اقبال کی قیادت میں ایک گروہ کو پارٹی سے توڑاگیااور اس کا نام ”محبّان وطن“ رکھ دیا گیا، راﺅ سکندر اقبال نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حب الوطنی کے نام پر مسلم لیگ (ق) کاساتھ دینے کا اعلان کیا لیکن اکثریت پھر بھی نہیں بن رہی تھی،پھر کیاکیا جاتا،فاٹا کے ارکان ملائے گئے، بہت سے آزاد ارکان کی حمایت حاصل کی گئی جن میں ڈاکٹر طاہر القادری اورعمران خان بھی شامل تھے، ان سب نے مل کر ظفر اللہ جمالی کے دست حق پرست پر بیعت کر لی۔ ان کو اعتماد کا ووٹ دیا اوریوں ایک ووٹ کی اکثریت سے ظفراللہ جمالی وزیراعظم بن گئے۔ جنرل پرویز مشرف کا اصل منصوبہ شوکت عزیز کو وزیر اعظم بنوانا تھا لیکن ان کے لئے مشکل یہ تھی کہ وہ قومی اسمبلی کے رکن نہ تھے چنانچہ جب میر ظفر اللہ جمالی سے استعفا لیا گیا اور چودھری شجاعت حسین کو عبوری مدت کے لئے وزیراعظم بنایا گیا تو انہیں ہدایت کی گئی کہ اس دوران شوکت عزیز کو قومی اسمبلی کا رکن منتخب کرایا جائے۔حکم کی تعمیل ہوئی اوریوں شوکت عزیزوزیراعظم بن گئے جو 2008ءکے الیکشن سے پہلے تک اس عہدے پر رہے۔

جنر ل پرویز مشرف بڑے دعووں کے ساتھ برسر اقتدارآئے تھے، دوسروں کو تو چھوڑئیے انہوں نے متعدد بار کالا باغ ڈیم بنانے کا اعلان کیا ۔بھاشا ڈیم کا اعلان بھی ہوا ۔انہوں نے کہا کہ دونوں ڈیم 2016ءتک بن جائیں گے لیکن ہوا کیا سب جانتے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف ڈیم بنا سکے اور نہ ان کی تخلیق کردہ جماعت مسلم لیگ (ق)۔ دونوں کا دور لدگیا۔لیکن ڈیم نہ بن سکے ، اب نہ جانے مسلم لیگ (ق) کو کیا سوجھی ہے کہ اس نے کالا باغ ڈیم بنانے کے لئے مہم شروع کر دی ہے۔اس مقصد کے لئے ایک سیمینار کرایا گیا جس میں ڈیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔چودھری پرویز الٰہی نے اعلان کیا کہ وہ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوامیں جا کر کالاباغ ڈیم کی راہ ہموار کریں گے اور ان صوبوں کے لوگوں کو ہاتھ جوڑ کر قائل کریں گے کہ وہ کالا باغ ڈیم بنانے پر راضی ہو جائیں گے یہ ملک کے مفاد میں ہے۔ ابھی تک تو بات ایک سیمینار سے آگے نہیں بڑ ھ سکی دوسرے سیمینار کی نوبت کب آتی ہے معلوم نہیں۔ صوبے مانتے ہیں یا نہیں مانتے، یہ بھی ابھی تک کچھ پتہ نہیں البتہ جنرل پرویز مشرف نے یہ کہہ کر اس غبارے سے ہوا نکال دی ہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے راستے میں مسلم لیگ (ق) رکاوٹ بنی رہی ہے ۔ جنرل پرویز مشرف کہتے ہیں کالا باغ ڈیم سیاست کی نذر ہو گیا،ڈیم بننے سے پاکستان کا بجلی کا مسئلہ حل ہو جاتا ،کالا باغ ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا تو ق لیگ نے کہا کہ ”اگر ڈیم بنا تو ہم گھروں کو نہیں جا سکیں گے۔“

مسلم لیگ (ق) کی قیادت نے گزشتہ روز جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی تھی،معلوم نہیں ان کے درمیان اس مسئلے پر کوئی بات ہوئی یا نہیں، لیکن مسلم لیگ (ق)جو ابھی تازہ تازہ کالا باغ ڈیم کی حامی ہوئی ہے اور ہاتھ جوڑ کر تین صوبوں کو قائل کرنا چاہتی ہے کہ وہ ڈیم بننے دیں،جنرل پرویز مشرف کے اس بیان کے بعد کیا وضاحت کرے گی کہ اس نے اپنے دورحکومت میں کالا باغ ڈیم کیوں نہ بننے دیا؟ویسے اس سوال کا جواب تو جنرل پرویز مشرف کو بھی دینا چاہیے کہ ان کے ہاتھوں کے بنائے ہوئے وزرائے اعظم کس بنیاد پر ڈیم کی مخالفت کر رہے تھے جبکہ بقول خود وہ ڈیم بنانا چاہتے تھے ۔

مزید : تجزیہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...