سندھ میں گنے کی قیمتوں میں کمی پر کسان بورڈ کی مذمت

سندھ میں گنے کی قیمتوں میں کمی پر کسان بورڈ کی مذمت

 لاہور(کامرس رپورٹر) کسان بورڈ پاکستان نے سندھ میں گنے کی امدادی قیمتوں میں کمی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے کسان دشمنی قرار دیا ہے۔کسان بورڈ کے نائب صدر سرفراز احمد خان اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل چوہدری اختر فاروق میونے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ2سالوں سے گنے کی قیمت170روپے فی من رہی تاہم امسال شوگر ملوں کے نمائندگان اور دیگر سٹیک ہولڈرز سے مشاورت اور پیداوری لاگت بمہ دیگر اخراجات کے بعدقیمت 180روپے فی من مقرر کی ہے حکومت سندھ نے بھی185روپے فی من مقرر کی ہے ،تاہم نومبر2014ء کے آخری ایام میں ابھی کرشنگ سیزن شروع ہونے کو ہی تھا کہ حکومت سندھ نے اچانک3دسمبرکو عارضی طور پرگنے کی قیمت155روپے فی من مقرر کر دی اور یہ کہا کہ چینی کی قیمتوں کے سٹیک ہولڈرز کے مفاد کے مطابق مقرر نہ ہونے تک مذکورہ قیمت برقرار رہے گی ، جس کے نتیجے میں پنجاب کی شوگر ملوں نے3دسمبرکی شام سے گنے کی خریداری180روپے فی من کے حساب سے بند کردی اور بعض مل والوں نے یہ موقف اپنایا کہ سندھ کے مقابلے میں پنجاب میں ریکوری کی شرح کم ہو تی ہے اسلئے یہاں پر گنے کی قیمت خرید 153روپے فی من ہو گی ،کیونکہ سند ھ میں155روپے فی من کے مطابق سندھ کی شوگر ملوں کی چینی کی قیمت پنجاب کی شوگر ملوں کے مقابلے میں8روپے فی کلو کم ہو جائے گی ایسی صور ت میں مل مالکان کے موقف کے مطابق انہیں مالی نقصان اٹھاناپڑیگا، اس وقت ہزاروں ٹریکٹر ٹرالیاں بمہ ٹرک بیل گاڑیاں گنے سے لدی کھڑی ہیں اور گنا سوکھنے کی وجہ سے خراب ہو رہا ہے ، علاوہ ازیں ابھی لاکھوں من گنا پنجاب کے کھیتوں میں کھڑا ہے ، جس کی کٹائی کے بعد گندم کی کاشت ہو نی ہے جبکہ پنجاب میں ابھی گندم75فیصد کاشت ہو سکی ہے ،جوکہ30نومبر تک مکمل ہوناتھی25فیصد گندم کی کاشت گنے کی وجہ سے لیٹ ہونے کا قومی امکان ہے جس سے ملک میں گندم کی کم کاشت کے باعث خوراک کے بحران کا قومی امکان پیدا ہو گیا ہے ،155روپے فی من سے کاشتکاروں کی پیداواری لاگت بھی پوری نہیں ہوتی،دریں حالات 155روپے فی من قیمت کاشت کاروں کے معاشی قتل کے مترادف ہے لہذا حکومت پنجاب کسانوں سے کئے گئے وعدے180روپے فی من کوپورا کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے جبکہ پاکستان بھرمیں شوگر مل مافیا کے مفادات ایک ہیں جبکہ حکمران طبقہ کا ایک بڑاحصہ شوگر مل مافیا میں موجود ہے جس کی وجہ رواں سال سندھ حکومت کے کندھے پر بندق رکھ کر باقی پاکستان میں گنے کے کاشت کاروں کے معاشی قتل کی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے کسان بورڈ پاکستان کسانوں کی کی نمائندہ تنظیم کی حیثیت سے مطالبہ کرتی ہے کہ 180روپے فی من گنے کی قیمت پر شوگرملوں سے خریداری کو یقینی بنایا جائے جبکہ اس سے کم گنے کی قیمت کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، اگر کسانوں کے جائز مطالبات کو تسلیم نہ کیا گیا تو کسان سڑکوں پر آنے پرمجبور ہو جائیں گے جس سے ملک کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور شوگر مل مافیا پر ہو گی۔ گنے کی قیمت

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...