ہائیکورٹ کا 400بزرگ پنشنرز کو فل پنشن کی رقم ادا کرنے کا حکم

ہائیکورٹ کا 400بزرگ پنشنرز کو فل پنشن کی رقم ادا کرنے کا حکم

لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے 400 بزرگ پنشنرز کو فل پنشن کی رقم ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ افسوس کہ بات ہے کہ پنجاب حکومت کو سپریم کورٹ کا فیصلہ سمجھنے میں دو برس لگے۔مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے چارسوبزرگ پنشنرز کی طرف سے دائر توہین عدالت کی درخواستوں پر سماعت کی، درخواست گزاروں کے وکلاء ثمرہ ملک ایڈووکیٹ اور افضل شاہین پیرزادہ ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود بزرگ پنشنرز کو فل پنشن کی رقم ادا نہیں کی جا رہی، عدالتی حکم کی روشنی میں چیف سیکرٹری پنجاب نوید اکرم چیمہ اور سیکرٹری خزانہ یوسف خان نے پیش ہو کر بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق پنشنرز کو فل پنشن کی رقم ادا کر دی جائے گی جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ پنجاب حکومت کو عدالتی فیصلہ سمجھنے میں دو برس لگے، سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ چار سوپنشنرز کو رقم کی ادائیگی کے لئے 24ارب روپے درکار ہیں اور مالی مشکلات کے باعث فوری طور پر اتنی رقم ادا کرنا ممکن نہیں جس پر عدالت نے قرار دیا کہ یہ بات پنجاب حکومت کو پہلے سوچناچاہیے تھی، پنجاب حکومت ان بزرگ پنشنرز پر رحم کرے، یہ بوڑھے چہرے ہر پیشی پر امید کی کرن لے کر عدالت آتے ہیں مگر حکومت ہمیشہ الفاظ کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتی ہے، عدالت ان بزرگ پنشنرز کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی نہیں ہونے دے گی، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری خزانہ نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ پنشنرز کو فل پنشن کی رقم 6 ماہ کے اندر اندر ادا کر دی جائیگی، عدالت نے حکم دیا کہ اس ادائیگی کا شیڈول 10دسمبر کو عدالت میں جمع کرائیں جس میں واضح کیا جائے کہ پنشنرز کو رقم کس طریقہ کار کے تحت ادا کی جائے گی۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...