سینیٹ الیکشن ، حلقہ بندیاں انتخابی اصلاحات، متنازعہ ممبران کیساتھ کام

سینیٹ الیکشن ، حلقہ بندیاں انتخابی اصلاحات، متنازعہ ممبران کیساتھ کام

لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل)نئے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا کے لیے مارچ 2015کا سینیٹ الیکشن پہلا بڑا چیلنج ہوگا۔ جبکہ کمیشن پر تابڑ توڑ حملے کرنے والی پی ٹی آئی کا اعتماد حاصل کرنا ، بلدیاتی انتخابات کے لیے شفاف حلقہ بندیوں کا قیام ، انتخابی اصلاحات،مدت ملازمت میں توسیع کے خواہشمند کمیشن کے بڑے ملازمین کے مستقبل کا فیصلہ اور الزامات کی بوچھاڑ میں آنے والے کمیشن کے ممبران کے ساتھ کام کرنا نئے چیف الیکشن کمشنر کے لیے بڑے چیلنجز ہونگے۔معلوم ہواہے کہ حکومت نے 31جولائی 2013کو خالی ہونے والے چیف الیکشن کمیشن کے عہدے پر سابق جسٹس سردار محمد رضا کو تعینات کردیا ہے۔ جسٹس (ر) سردار محمد رضا نے ایسے وقت میں اس عہدے کے لیے رضامندی دی ہے جب الیکشن کمیشن تقریباً متنازعہ ہوچکا ہے۔ کمیشن کے چاروں ممبران اور بعض صوبائی افسر الزامات کی زد میں ہیں۔عام آدمی کا اعتماد الیکشن کمیشن سے ڈانواں ڈول ہے۔ ایسے میں ذمہ داری سنبھالنے کے فوری بعد نئے چیف کو مختلف نوعیت کے چیلنجز اور مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا۔ ان کے لیے پہلا بڑا چیلنج مارچ 2015میں ہونے والا سینٹ کا الیکشن ہوگا۔ جس میں 52نئے ممبران کا چناؤ ہوگا۔ اگرچہ سینٹ الیکشن میں براہ راست ووٹنگ نہیں ہوتی۔ لیکن اس کے باوجود 52ممبران کے چناؤ میں کمیشن کے فرائض اور ذمہ داریاں انتہائی اہم نوعیت کی ہوتی ہیں۔ اسی طرح ان کے لیے دوسرا بڑا چیلنج پاکستان تحریک انصاف اور عام آدمی کا اعتماد صاصل کرنا ہوگا۔ کیونکہ پی ٹی آئی کی طرف سے الیکشن کمیشن اس کے ممبران اور اعلیٰ افسروں پر مسلسل الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ نئے الیکشن کمشنر ان الزامات کو کیسے لیتے ہیں۔ اور الزامات کی زد میں فرائض انجام دینے والے ممبران کے ساتھ کام کرنا ان کے لیے تیسرا بڑا چیلنج ہوگا۔ اسی طرح فوری طورپر صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے شفا ف حلقہ بندیوں کی تیاری ان کے لیے چوتھا بڑا چیلنج ہوگا۔ جبکہ صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب محبوب انور اور صوبائی الیکشن کمشنر خیبر پی کے سونو خان بلوچ جیسے کمیشن کے توسیع پر ملازمت کرنے والے افسروں کے مستقبل کا فیصلہ ان کے لیے پانچواں بڑا چیلنج ہوگا۔ کیونکہ ایک طرف تو الیکشن کمیشن مستقبل میں بھی ایسے افسروں کی خدمات حاصل کرنا چاہتا ہے۔تو دوسری طرف الزامات کی زد میں ہونے کی وجہ سے ان افسروں کو ملازمت میں توسیع دینا کمیشن کے لیے مشکل امر ہوگا۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...