لاہور پولیس جرائم کنٹرول کرنے میں ناکام، 45گینگز کی گرفتاری کاغذی کارروائی نکلی

لاہور پولیس جرائم کنٹرول کرنے میں ناکام، 45گینگز کی گرفتاری کاغذی کارروائی ...

لاہور(شعیب بھٹی )لاہو ر پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے مجرموں کے 45گینگ صرف کاغذ ی کارروائی پرمشتمل نکلے ، کچھ عرصہ قبل نئے تعینات ہونے والے ڈی آئی جی (آپریشنز) لاہورڈاکٹر حیدر اشرف بھی بڑھتے ہوئے کرائم پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں،جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث شہری خوف وہراس میں مبتلا ہوکر ذہنی مریض بنتے جارہے ہیں۔پولیس کی جانب سے گزشتہ ماہ کے دوران مذکورہ گینگزکے 150 کے قر یب ملزمان کو گرفتار کیاگیا لیکن اس کے باوجودجرائم کا گراف کم ہونے کی بجائے دگنا ہوگیا ہے ،گزشتہ 11ماہ کے دوران ڈکیتی مزاحمت پرقتل کے 231، اغواء برائے تاوان کے 94اورخواتین سے بد اخلاقی کے 2ہزارسے زائدواقعات سمیت دیگر متعددجرائم رونما ہوئے ہیں۔پاکستان کی جانب سے کی جانے والی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق شہر لاہور میں ،چوری ،ڈکیتی ،راہزنی ،بھتہ خوری اور اغواء کی وارداتوں سمیت دیگر مختلف جرائم کے واقعات پہلے کی نسبت بڑھ کر دگنے ہونے لگے ہیں ،لیکن پولیس آئے روز گینگ پکڑکر جرائم کی کمی کا ڈنڈھوراپیٹنا اپناوطیرہ بنا رکھا ہے کیوں کہ اس ضمن میں پولیس کی جانب سے ماہ نومبر میں 45گینگز کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا گیا جس میں 150کے قریب ملزمان کو حراست میں لیا گیا لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں کیوں آئے روز ڈکیتی مزاحمت قتل،اغواء برائے تاوان ، خواتین سے بداخلاقی سمیت دیگر متعدد واقعات رونما ہورہے ہیں لیکن پولیس سب اچھا کی رپورٹیں ارسال کرنے کی ڈیوٹی سرانجام دے رہی ہے ۔گزشتہ 11ماہ کے دوران لاہور میں ڈاکوؤں نے مزاحمت کرنے پر231افراد کو موت کے گھاٹ اتاردیا، اغواء برائے تاوان کے لئے 94افراد کو اغواء کرلیا گیاجبکہ 2ہزار 402 خواتین کو بداخلاقی کا نشانہ بنا یاگیا تاہم اس کے علاوہ بھی سنگین جرائم کی وارداتوں میں اضاہوا ہے جس میں بھتہ خوری سمیت سمیت دیگر متعددجرائم کے واقعات شامل ہیں۔واضح رہے کہ پولیس کی جانب سے جرائم پیشہ افراد کی گرفتار ی کے باوجود بھی جرائم کا گراف کم نہ ہونا ایک سوالیہ نشان ہے تاہم اسی وجہ سے شہری خوف وہراس میں مبتلا ہو کر ذہنی مریض بنتے جارہے ہیں ۔اس حوا لے سے ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف کا کہنا تھا کہ تمام ڈویژنل ایس پیز کو جرائم پیشہ عناصر کی سر کوبی کے لیے خصو صی ٹاسک دیا گیاہے ، ڈی ایس پی ز کی سربراہی میں ڈ کیت گینگ کی سرکوبی و گرفتاری کے لیے زیرِ نگرانی ایس ایچ ا وز اور دیگر اہلکاروں پر مشتمل خصوصی پولیس ٹیم تشکیل دی گئی ہیں جو پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے ملزمان کوگر فتا ر کر ر ہی ہے۔ جرا ئم کی شر ح پہلے سے کم ہے ۔

مزید : صفحہ آخر