تنظیم اتحاد اُمت کے زیر اہتمام فرقہ ورانہ قتل و غارت کیخلاف ملک گیر ’’یوم امن و محبت‘‘ منایا گیا

تنظیم اتحاد اُمت کے زیر اہتمام فرقہ ورانہ قتل و غارت کیخلاف ملک گیر ’’یوم ...

لاہور(سٹاف رپورٹر)تنظیم اتحاد اُمت کے زیر اہتمام فرقہ وارانہ قتل و غارت اور بڑھتی ہوئی نفرتوں اور عدم برداشت کے خلاف ملک گیر ’’یوم امن و محبت‘‘ منایا گیا اور ملک بھر علماء کرام نے ’’اسلام دین امن و محبت‘‘ کے موضوع پر خطبات جمعہ دیئے جبکہ جمعہ کے اجتماعات میں فرقہ وارانہ قتل و غارت کے خلاف قراردایں بھی منظور کی گئیں۔ یوم امن و محبت کے موقع پر علماء نے نمازیوں سے امن، محبت، رواداری، برداشت کا رویہ اختیار کرنے کا حلف بھی لیا۔ یوم امن و محبت کے سلسلہ میں ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے جامعہ مسجد چوک دالگراں میں خطبہ جمعہ خطاب فرماتے ہوئے کہا معاشرے کی فلاح کے لیے نوجواناں اُمت کا اصلاحی کردار ناگزیر ہوچکا ہے۔ نوجوان نسل کو نئے نئے چیلنجز سے روشناس کرانے کی اشد ضرورت ہے۔ نوجوان نسل کی بہتر اصلاح سے ہی فرقہ واریت کے چیلنجز پر قابو پایا جاسکتا ہے انہوں نے یوم ’’امن و محبت‘‘ پر تمام مکاتب کے علماء سے اپیل کی کہ علماء مسلکی اختلافات بھلا کر ملک و ملت کی ترقی کے لیے مل کر کام کرے۔ انہوں نے ملکی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور تحریک انصاف ضد اور ہٹ دھرمی کی سیاست چھوڑ کر نیک نیتی سے مذاکرات شروع کریں کیونکہ ملک و قوم کئی ماہ سے بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں فریقین اپنے رویوں میں لچک پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ڈائیلاگ ہی واحد راستہ ہے جو تمام مسائل کا حل ہے اگر مذاکرات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تو فریقین کے ہاتھ خسارے اور مایوسی کے سوا کچھ نہیں آئے گا۔ تنظیم اتحادِ امت کے چیئرمین محمد ضیاء الحق نقشبندی نے جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو فرقوں کی بنیاد پر آپس میں لڑا کر کمزور کیا جارہا ہے۔ اسلامی معاشروں میں امن و محبت کی فضا پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام فرقے کے اختلاف کی بنیاد پر انسانوں کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ مسلمان امن پسندی کا راستہ اختیار کریں۔ فرقہ واریت امت مسلمہ کے لئے ناسور بن چکی ہے۔ بین المسالک ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نفرتوں کا پرچار کرنے والے علماء اسلام دشمن طاقتوں کا کام آسان کررہے ہیں۔ مفتی محمدحسیب قادری نے المرکز الاسلامی شاد باغ لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن و محبت کا فروغ وقت کا تقاضا ہے۔ اسلام دین امن و سلامتی ہے۔ اسلام کا پیروکار نفرتوں کا بیوپاری نہیں بن سکتا۔ علماء امن و محبت کو پروان چڑھانے کے لئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ مفتی محمد کریم خان نے جامعہ انوارِ مدینہ اچھرہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام مکاتب فکر نظریات کا مقابلہ طاقت کی بجائے نظریات سے کرنے کی روش اپنائیں اور دلیل کو اپنا ہتھیار بنائیں۔ صوفیاء کے نظریہ محبت کو اپنا کر نفرتوں کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ علامہ گلزار نعیمی نے جامعہ نعیمیہ اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام دشمن طاقتیں فرقہ واریت کو مسلمانوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہیں۔ دلوں کو توڑنے نہیں جوڑنے کی ضرورت ہے۔ علامہ حافظ محمد یعقوب فریدی نے گوجرانوالہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان باہمی نفرتیں بھلا کر سامراجی طاقتوں کے مقابلہ کے لئے متحد ہو جائیں۔ امن و محبت کا راستہ ہی خیر اور بھلائی کا راستہ ہے۔ فرقہ وارانہ تصادم کو روکنے کے لئے نیک نیتی کی ضرورت ہے۔ علامہ شمس الرحمن شمس نے پناور میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن پسندی ہی سچے مسلمان کی شناخت ہے۔ بعض اسلامی ممالک کی پاکستان میں مداخلت فرقہ وارانہ قتل و غارت کا بڑا سبب ہے۔ اسلامی ممالک پاکستان میں اپنی پراکسی وار بند کردیں۔ پرتشدد رویوں کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔ انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے سنجیدہ علماء میدان میں آئی۔ یوم امن و محبت کے موقع پر کراچی میں علامہ خلیل الرحمن چشتی، کوئٹہ میں پیر خالد سلطان قادری، فیصل آباد میں علامہ جاوید یوسفی، ملتان میں علامہ فاروق خان سعیدی، سیالکوٹ میں مولانا جاوید اقبال، مظفر آباد میں علامہ حمید الدین برکتی، سرگودھا میں علامہ محمد اصغر مصطفائی، سکھر میں علامہ محمد عارف سعیدی، حافظ آباد میں پیر فدا حسین شاہ، نارووال میں علامہ پیر تبسم بشیر اویسی نے اجتماعات سے خطاب کیا

مزید : صفحہ آخر