این اے 122دھاندلی کیس، عمران خان نے الیکشن ٹربیونل میں بیان ریکارڈ کرادیا،فیصلہ پیر کوہوگا: چیئرمین تحریک انصاف

این اے 122دھاندلی کیس، عمران خان نے الیکشن ٹربیونل میں بیان ریکارڈ ...
این اے 122دھاندلی کیس، عمران خان نے الیکشن ٹربیونل میں بیان ریکارڈ کرادیا،فیصلہ پیر کوہوگا: چیئرمین تحریک انصاف

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122میں دھاندلی کے کیس میں اپنا بیان قلمبندکرادیاہے جس پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے وکلاءنے جرح بھی مکمل کرلی ۔عمران خان نے بتایاکہ تھیلے کھلنے کا فیصلہ پیر کو ہوگاجبکہ عدالت کے باہر تحریک انصاف او رمسلم لیگ ن کے کارکن آمنے سامنے آگئے جس کے بعد ایلیٹ فورس کے اہلکاروں کے حصار میں عمران خان الیکشن ٹربیونل سے باہر نکلے۔

الیکشن ٹربیونل میں پیشی کےلیے روانگی سے قبل عمران خان کی بنی گالہ میں میڈیا سے گفتگو کی تفصیلات کیلئے یہاں کلک کریں۔

الیکشن ٹربیونل کے جج کاظم ملک نے این اے 122دھاندلی کیس کی سماعت کی ۔ دوران سماعت عمران خان نے اپنے بیان میں کہاکہ جو کچھ کہوں گا، سچ کہوں گا، اگر جھوٹ بولوں تو خدامجھ سے ناراض ہو، حلقے میں بڑے پیمانے پردھاندلی ہوئی ، متعدد پولنگ سٹیشنوں پر نتائج میں تبدیلیاں کی گئیں ، پی ٹی آئی کارکنان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں ، بغیر شناختی کارڈ کے جعلی ووٹ ڈالے گئے ۔

این اے 122میں عمران خان کے مخالف امیدوار اور سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے عمران خان کے بیان پر جرح کی اور استفسار کیاکہ دھمکیاں دی گئیں تو ریٹرننگ افسر کو شکایت کیوں نہیں کی گئی ؟دھمکیوں پر پولیس کو اطلاع کی گئی ؟عدالت کو کسی قسم کا دھاندلی سے متعلق ثبوت فراہم کیاگیا؟جعلی ووٹ کاسٹ ہوئے تو اس وقت تحریری درخواست کیوں نہیں دی گئی؟جتنے بھی الزامات لگائے ثبوت جمع نہیں کرایا؟

سردار رضا خان نے نئے چیف الیکشن کمشنر عہدے کا حلف اٹھا لیا

جرح کے جواب میں عمران خان کاکہناتھاکہ اگر ثبوت چاہیں تو ایک ایک بیگ کھولیں ، ایک ایک ووٹ کی جانچ پڑتال کریں ، سچ سامنے آجائے گا اور ثبوت مل جائیں گے ۔ عمران خان کاکہناتھاکہ جہاں تک ریٹرننگ افسر کو شکایت کا سوال ہے تو تحریک انصاف کے پولنگ ایجنٹوں کو دھمکیاں اور تشدد کرکے پولنگ سٹیشنوں سے باہر نکال دیاگیاتو اس صورتحال میں اندر موجود ریٹرننگ افسر سے شکایت کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا۔

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے عمران خان نے کہاہے کہ تحریک انصاف نے ثبوت عدالت کو پیش کردیئے ہیں اور اب تھیلے کھلنے یا نہ کھلنے کا فیصلہ پیر کو ہوگا۔وہ اگر ایاز صادق کی جگہ ہوتے تو کب کے بیٹھ کر مسئلہ حل کرچکے ہوتے ، خیبرپختونخواہ میں شاہ فرمان کے حلقے میں آواز اُٹھی جس پر تحقیقات کردی گئیں ۔ اُن کاکہناتھاکہ انصاف کے حصول کے لیے ڈیڑھ سال ہوگئے ، تھیلے پڑے ہیں ، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔

سردار ایاز صادق کے وکلاءنے گفتگوکرتے ہوئے بتایاکہ عمران خان کوئی ایک ثبوت بھی عدالت میں پیش نہیں کرسکے ، سادہ سے سوالات کیے جن کے جواب میں عمران خان نے بتایاکہ اُنہیں صحیح یادنہیں کیونکہ دماغی چوٹ کی وجہ سے وہ اس وقت ہسپتال میں موجود تھے ، کئی لوگوں نے شکایت کی جن میں پولنگ ایجنٹ اور کارکنان بھی شامل تھے تاہم کسی ایک شخص کا نام ، تصویر یا ویڈیو پیش نہیں کرسکے ۔ مزید سوال کے جواب میں عمران خان کاکہناتھاکہ ملک بھر سے تصویریں اور ویڈیوز موصول ہوئیں لیکن مذکورہ حلقے کی کوئی خاص ویڈیو یا فوٹوپیش نہ کرسکے ۔

وہ وقت جب بھارتی فوج کی "ذہانت"نے دنیا کو ہنسنے پر مجبور کر دیا

اس سے قبل الیکشن ٹربیونل پہنچنے پر پی ٹی آئی کارکنان نے عمران خان کا شاندار استقبال کیا ، ٹربیونل کے باہر کارکنان کی کثیر تعداد جمع ہوجانے کی وجہ سے عمران خان کو مشکلات کا سامنا رہااور دھکم پیل کی وجہ سے الیکشن ٹربیونل میں پیشی کی تاخیر بھی ہوگئی جس پر کئی مرتبہ آوازیں لگیں لیکن عمران خان نہ پہنچ سکے ۔ سردار ایاز صادق کے وکلاءنے ٹربیونل سے استدعا کی کہ عمران خان کی غیرحاضری لگائی جائے لیکن ٹربیونل میں پیشی کی اطلاع پر الیکشن ٹربیونل نے اُنہیں پیشی کی اجازت دیدی ۔

سماعت کے بعد مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے کارکنان آمنے سامنے آگئے تھے اور ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے ، جس پر عمران خان الیکشن ٹربیونل میں ہی رکے رہے ۔ ذرائع نے بتایاکہ تحریک انصاف کے صوبائی صدر عبدالعلیم خان کو ٹاسک دیاگیاکہ وہ کارکنان کو نعرہ بازی سے روکیں اور لیگی رہنماﺅں کو بھی کارکنان کو ہٹانے کی ہدایت کی گئی تاہم خاطرخواہ کامیابی نہ ہوسکی اور ایلیٹ فورس کے اہلکاروں کے حصار میں عمران خان ٹربیونل سے باہر نکل آئے جہاں اُنہوں نے میڈیا سے مختصر گفتگوکی ۔

مزید : قومی /Headlines

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...