’انقلابی فلم ‘باکس آفس پر ناکام

’انقلابی فلم ‘باکس آفس پر ناکام

انقلابی فلم کا ٹریلر جنوری 2013 میں جاری کر دیا گیا تھا۔اس ٹریلر کے مطابق پہلا نعرہ " سیاست نہیں ریاست بچاﺅ " جاری کیا گیا اور ملک پر مسلط حکمران طبقے کو وارننگ جاری کی گئی کہ جو لوگ 5 دن کی سردی ، بارش اور سخت مصیبتیں برداشت کر سکتے ہیں وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

پھر اس انقلابی فلم کی پروموشن کے لیے فضاءمیں نعرہ انقلاب بلند کیا اور شہر اقتدار کی جانب لاکھوں کی تعداد میں گاڑیوں کا رخ موڑ دیا گیا۔عین یوم آزادی کو یوم انقلاب بنانے کا پروگرام بنایا گیا اور ٹی وہ ٹاک شوز میں بلند و بانگ دعووں کے ساتھ انقلاب کی تشریح کچھ یوں کی گئی کہ عوام اپنا حق خود چھین لیں گے اور اب حکومت عوام کرے گی۔

اس انقلابی فلم کے ہیرو کا رول ڈاکٹر طاہر القادری المعروف کینیڈا والے ’بابا‘کو دیا گیا جبکہ باوثوق ذرائع اس بات کی تصدیق بالکل بھی نہیں کرتے کہ اس فلم کا سکرپٹ لندن کے پرفضاءمقام پر لکھا گیا۔چند حلقوں نے تو پاک بھارت کشیدگی کی ایک وجہ یہ بھی بتائی ہے کہ سکرپٹ رائٹرز نے پاکستان کے ساتھ دھوکہ کیا ہے ۔بھارت کے لیے کینیڈا سے سنی لیون جبکہ پاکستان کے لیے طاہر القادری کا تحفہ بھیجا ہے۔

خیر اس فلم کا ایک اور ٹریلر 31 اگست کو ملک کے معزز ایوان کو ’جھگی بستی‘ میں تبدیل کر کے دکھایا گیا۔اس فلم کے مختلف شاٹس وقفے وقفے سے عوام کی خدمت میں پیش ہوئے۔اس فلم میں ایکشن تھا ، مستی تھی ، ہنسی تھی ، رومانس تھا ، کبھی خوشی تھی تو کبھی شادی کے بعد وداعی کا جذبات سے بھرا ہواسین تھا۔اور آخر میں اس فلم کے لیے ملک گیر اشتہاری مہم تھی ۔

ہیرو ڈاکٹر طاہر القادری نے شہر شہر جا کر انقلابی فلم کی خوب پروموشن کی اور لوگوں کو فلم دیکھنے کی بھرپور دعوت دی۔تشہیری مہم کا آخری ’پڑاﺅ‘بھکر میں کیا گیا جہاں ہیرو نے باقاعدہ اعلان کیا کہ اس نمائندے کے ذریعے فلم کامیاب بناﺅ تاکہ ’انقلاب انڈسٹری‘ ناصرف زندہ رہے بلکہ عوام کو مزید ’فلمیں‘دکھا کر ان کے حالات بہتر بھی کرے۔عوام نے ہاتھوں کو فضاءمیں بلند کیا اور وعدہ کیا کہ ضمنی انتخابات میں یہ فلم دیکھنے والوں کا رش کھڑکی توڑ ہو گا۔

ریلیز کا دن آن پہنچا ، پولنگ بوتھ پر کھڑکی توڑ رش ، سارا کا سارا بھکر قادری صاحب کی ’فلم‘دیکھنے نے نکلا توشام کو ناجانے دو نئے ’ہیروز‘ کہاں سے بیچ میں آئے اور ان میں سے ایک ’بسنتی‘کولے کر رفوچکر ہوگیاجبکہ قادری صاحب ’گبر‘ کی طرح دانت پیستے ہی رہ گئے۔

ان دونوں کے مشترکہ تقریباً 80ہزار ووٹ کے مقابلے میں انقلابی فلم محض 13 ہزار شائقین کو ہی جمع کر سکی اور باکس آفس میں اپنی ضمانت ضبط کرواتے کرواتے ہی بچی۔

قربان جاﺅں اس ہیرو کی نظر پر جس نے بھکر میں ہی ’ عالم رویا‘ میں اپنی فلم کی ناکامی دیکھتے ہوئے اپنی کراچی والی ’فلم‘ منسوخ کرتے ہوئے نا صرف دل کا روگ لگا لیا بلکہ امریکہ میں دل کی ’ٹریننگ‘ لینے میں عافیت جانی۔ امید کی جانی چاہیے کہ اب وہ امریکہ میں تازہ دم ہونے کے بعد اداکاری کے جوہر دکھانے بہت جلد واپس آئیں گے۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...