پیشاب اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں گہر اتعلق ،مغربی سائنسدان نے دریافت کرلیا

پیشاب اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں گہر اتعلق ،مغربی سائنسدان نے دریافت ...
پیشاب اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں گہر اتعلق ،مغربی سائنسدان نے دریافت کرلیا

  

ایمسٹرڈیم (نیوز ڈیسک) ہر سال دسمبر میں علمی دنیا میں عظیم ترین کارنامے سرانجام دینے والوں کو نوبیل انعام سے نوازا جاتا ہے لیکن عین انہی دنوں میں ایک اور ایوارڈ کا بھی اعلان کیا جاتا ہے جسے اگنوبیل ایوارڈ (شرمناک یا گھٹیا ایوارڈ) کا نام دیا جاتا ہے، اور اسے جیتنے والوں میں ایک نمایاں نام ہالینڈ کی خاتون پروفیسر مرجام ٹک کا بھی ہے۔

پیشاب کی انفیکشن کے علاج کے لئے مفید نسخے،جاننے کے لئے کلک کریں

یہ انعام ان لوگوں کو دیا جاتا ہے کہ جن کی تحقیق بظاہر تو مضحکہ خیز یا شرمناک نظر آتی ہے لیکن حقیقت میں وہ ایک سائنسی تحقیق ہی ہوتی ہے اور اس کا مقصد علمی جستجو ہی ہوتا ہے ۔ یونیورسٹی آف ٹوینٹی کی پروفیسر مرجام ٹک کو یہ ایوارڈ ”پیشاب کو روک کر رکھنے کے فیصلہ سازی پر مثبت اثرات“ پر کی گئی تحقیق پر دیا گیا۔ امریکہ کے ممتاز ترین تعلیمی ادارے ہارورڈ یونیورسٹی میں اس سلسلہ میں ایک شاندار تقریب بھی منعقد کی گئی۔ پروفیسر مرجام نے بتایا کہ انہوں نے تحقیق کیلئے کچھ نوجوانوں کو تین گروپوں میں تقسیم کیا اور ان میں سے ایک گروپ کے ہر فرد کو 700ملی لیٹر پانی پلایا جبکہ دوسرے گروپ کو 50ملی لیٹر اور تیسرے کے ارکان کو پانی سے محروم رکھا۔ ان کا کہنا ہے کہ نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جب ہم بیت الخلاءجانے کی حاجت کو کنٹرول کرکے رکھتے ہیں تو فیصلے زیادہ سوچ سمجھ کر کرتے ہیں اور وقتی مفاد پر دیرپا مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔ مثلاً آپ فوری طور پر 10 روپے کا منافع کمانے کی بجائے چند دن بعد اس سے کئی گنا زیادہ کمانے کو ترجیح دیں گے۔ انکی تحقیق کو اگنوبیل ایوارڈ کا بہترین حقدار قرار دیا گیا۔

مزید : تعلیم و صحت