ٹیکس کلچر اور میڈ اِن پاکستانی اشیاکا فروغ

ٹیکس کلچر اور میڈ اِن پاکستانی اشیاکا فروغ
ٹیکس کلچر اور میڈ اِن پاکستانی اشیاکا فروغ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے پاکستان بنانے کے بعد کہا تھا کہ اللہ نے پاکستان کو ہر قسم کے وسائل سے نوازا ہے، اب یہ آپ کا کام ہے کہ ہنر مند افرادی قوت اور وسائل کے ساتھ پاکستان میں پیداواری عمل پوری توانائی سے شروع کریں اور پاکستان کو ایک خوشحال فلاحی ریاست بنا دیں، اب یہ بدقسمتی ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح ؒ کو قدرت نے پاکستان بننے کے بعد زیادہ عرصے تک زندہ نہیں رکھا، ورنہ وہ یقیناًپاکستان کو اُسی وقت ایک قابلِ عمل دستور دینے کے ساتھ جو معاشی پالیسی پیش کی تھی، اُس کا روڈ میپ بھی طے کر دیتے۔یہ بھی پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ بے پناہ مسائل کا سامنا کرنے کے بعد پاکستانی معیشت ایک بار پھر پٹڑی پر آ گئی ہے، اب یہ پوری قوم کا فرض ہے کہ اس مرتبہ معاشی ٹرین کو پٹڑی سے اترنے نہ دے، بلکہ اگر کوئی اس ترقی کے راستے میں حائل ہو تو اسے سمجھائے کہ20کروڑ کی آبای کا شمار دُنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی ذاتی دشمنی اور غلط اَنا کو کچھ عرصے کے لئے فراموش کر دیں۔

ان خیالات کا اظہار یونائیٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمین افتخار علی ملک نے ہمارے ساتھ بات چیت میں کیا۔پاکستانی مصنوعات دُنیا بھر میں بہترین ہیں، لیکن ہمارے اذہان میں یہ ڈال دیا گیا ہے کہ ہمارے مال کی کوالٹی ولائتی مصنوعات سے کمتر ہے، حالانکہ یہ صرف ایک نفسیاتی مہم جوئی کا حصہ ہے جس کا مقصد پاکستان میں بدیسی مصنوعات کی مارکیٹ کو مستحکم رکھنا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان ڈیری فارمنگ میں دُنیا بھر میں پانچویں پوزیشن رکھتا ہے، لیکن یہاں پر دودھ سے اعلیٰ کوالٹی کی پنیر اور دوسری مصنوعات بنا کر ہم نہ تو ایکسپورٹ کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی مقامی مارکیٹ کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ پاکستانی دودھ سے کتنا اعلیٰ قسم کا پنیر تیار ہوتا ہے، اس کا مشاہدہ مَیں نے چند سال قبل لاہور کے ایک بڑے سٹور میں کیا تھا،جہاں سٹور کا مالک ایک مصری خاتون سے درخواست کر رہا تھا کہ آپ جو ’’کاٹیج چیز‘‘ تیار کرتی ہیں، وہ بہت جلدی ختم ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے بہت سے گاہک واپس چلے جاتے ہیں،اس پر اس مصری عورت نے جواب دیا کہ مَیں تو اپنی معاشی ضروریات کی تکمیل کے لئے کاٹیج چیز بناتی ہوں۔مجھے حیرت ہے کہ جب مارکیٹ میں میرے پنیر کی اتنی ڈیمانڈ ہے تو کوئی دوسری پارٹی اس شعبے میں کیوں نہیں آتی۔


یہی وہ نکتہ ہے جس کی تشہیر بہت ضروری ہے۔ پاکستان غیر ملکی سیلولر فونز کی بہت بڑی مارکیٹ ہے، لیکن پاکستان میں سیلولر فونز بنانے کی طرف کسی سرمایہ دار نے توجہ نہیں دی ہے۔اربوں روپے کی کمپیوٹر اور اس کی مصنوعات امپورٹ کی جاتی ہیں،لیکن کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ بنانے کے لئے کوئی پیداواری یونٹ موجود نہیں ہے، جبکہ اس جدید انڈسٹری کو قائم کر کے پاکستان بیروز گاروں کی تعداد میں معقول حد تک کمی کر سکتا ہے۔ چین پاکستان کا ہر لحاظ سے قابلِ اعتماد دوست ہے، اس کی دوستی ہمالیہ سے بلند ، سمندروں سے گہری اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے۔ اب پاک چائنا اکنامک کاریڈور کے حوالے سے چین نے پاکستان میں46 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا پروگرام بنایا ہے۔ ایک امریکی ریسرچ کے ادارے نے بتایا ہے کہ جب پاک چائنا اکنامک کوریڈور مکمل ہو جائے گا تو چین مختلف مصنوعات تیار کرنے کے لئے پاکستان میں مزید 30ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ یہی سبب ہے کہ وزیراعظم محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب بہت تیزی سے انفراسٹرکچر مکمل کر رہے ہیں۔ سڑکوں، موٹر ویز اور ریلوے کے نیٹ ورک کو وسیع کیا جا رہا ہے، کیونکہ کسی بھی ملک کی معاشی خوشحالی کے لئے مضبوط انفراسٹرکچر بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔اگر امپورٹ کی گئی مصنوعات کا جائزہ لیا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ کتوں اور بلیوں کی خوراک پر بھی لاکھوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ ضائع کر دیا جاتا ہے، جبکہ ان کی بہترین خوراک مقامی سطح پر تیار کی جا سکتی ہے، بلکہ اگر تھوڑی سی توجہ دی جائے تو مغرب میں ایک بہت بڑی مارکیٹ اس خوراک کی خریدار بن سکتی ہے۔


ہماری مصنوعات معیاری ہونے کے باوجود بین الاقوامی مارکیٹ میں صرف اس لئے اپنی جگہ بنانے میں مکمل کامیابی حاصل نہیں کر سکی ہیں کہ وہاں برانڈنگ اور مارکیٹنگ کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے، جبکہ پاکستان میں برانڈنگ اور مارکیٹنگ کو اتنی زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔ ایک مثال دیتا ہوں۔۔۔ سیالکوٹ شہر اپنے کھیلوں کے سامان، خصوصاً فٹ بال بنانے میں دُنیا بھر میں مشہور ہے۔ دلچسپ بات ہے کہ پاکستانی فٹ بال کی برانڈنگ اور مارکیٹنگ کا کوئی نظام موجود نہیں۔ فٹ بال ایک عالمی برانڈ کے نام پر بنائے جاتے ہیں جو دُنیا بھر میں ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو جاتے ہیں، جبکہ یہ مقام پاکستانی برانڈ فٹ بال کو بھی حاصل ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لئے کبھی کوئی حکمت عملی ترتیب نہیں دی گئی ہے۔ افتخار علی ملک نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری صنعت و تجارت کے تمام مسائل سے آگاہ ہے اور انہیں حل کرنے کے لئے پوری جدوجہد کر رہی ہے، اس وقت آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی اداروں کا تھوڑا سا دباؤ موجود ہے،جس کی وجہ سے قوم کو تھوڑی سی زائد مشکلات برداشت کرنی پڑ رہی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ خود آئی ایم ایف کے تھنک ٹینک نے اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں کو قرضے فراہم کرتے ہوئے اپنی شرائط مسلط کرنے کے بجائے ان ممالک اور سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنی چاہئے کہ وہ ان قرضوں کو واپس کرنے کے لئے کن ذرائع سے اپنی آمدنی میں اضافہ کریں گے؟ اب پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ یہاں پر ٹیکس نیٹ میں آنے والوں کی تعداد اتنی نہیں ہے کہ حکومت کے اخراجات ٹیکس کی آمدنی سے پورے ہو سکیں، جس کی وجہ سے مجبوراً وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لئے امیروں کے زیر استعمال مصنوعات پر مزید ٹیکس لگانا پڑا ہے۔آج کل ہماری ملاقاتیں وفاقی حکومت سے جاری ہیں، کیونکہ ہماری پوری کوشش ہے کہ چھوٹے تاجروں کو چیکوں کے ذریعے لین دین پر لگی ہوئی وفاقی ڈیوٹی سے نجات دلائیں۔ ہم نے پہلے بھی چھوٹے تاجروں کے مسائل حل کروائے ہیں، اس لئے پوری امید ہے کہ ہماری کوششیں کامیاب ہوں گی، لیکن ایک بات ضروری ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کوئی ایسی سکیم بنائے کہ چھوٹے تاجر وقتی طور پر چند ہزار سالانہ ادا کر کے ٹیکس نیٹ میں آ جائیں۔ نان فائلر تاجران کا مستقبل تاریک ہے، اس لئے حکومت کو چاہئے کہ اس طرف خصوصی توجہ اور جلد سے جلد نئی سکیم متعارف کروائے، کیونکہ اس سے جہاں لاکھوں تاجر فائلر بن جائیں گے تو دوسری طرف حکومت کے خزانے میں اربوں روپے بھی اکٹھے ہو جائیں گے۔

مزید :

کالم -