کیا الیکشن کمیشن ہائی کورٹس کے احکامات ماننے سے انکار کر سکتا ہے؟

کیا الیکشن کمیشن ہائی کورٹس کے احکامات ماننے سے انکار کر سکتا ہے؟

تجزیہ : -سعید چودھری

چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا خان نے کہا ہے کہ "الیکشن کمشن کے معاملات میں مداخلت بندکی جائے ،ضروری نہیں ہائی کورٹ کے ہر فیصلے پر عمل کریں "۔چیف الیکشن کمشنر کے اس بیان سے کم ازکم دوسوالات پیدا ہوتے ہیں ،ایک یہ کہ کیا ہائی کورٹس الیکشن کمشن کے معاملات کاعدالتی جائزہ لینے کی مجاز نہیں ہیں ،کیا اس عدالتی اختیار پر کوئی آئینی پابندی عائد ہے اور دوسرا یہ کہ کیا الیکشن کمشن ہائی کورٹس کے فیصلوں کو ماننے یا ان پر عمل درآمد سے انکار کرسکتا ہے ۔آئین کے آرٹیکل 199میں واضح کردیا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کن افراد یا اداروں کے خلاف رٹ درخواست پر کارروائی نہیں کرسکتی ۔آرٹیکل 199(3)کے تحت ہائی کورٹس کو پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف رٹ درخواست پر کارروائی کا اختیار حاصل نہیں ہے جبکہ دیگر تمام سرکاری اداروں اور انتظامیہ کے خلاف ہائی کورٹس عدالتی جائزہ اور قانون کی عمل داری کے لئے حکم جاری کرنے کی مجاز ہیں ۔الیکشن کمشن کو آئین کے آرٹیکل 199کے تحت کسی قسم کا استثنیٰ حاصل نہیں ہے ،الیکشن کمشن کے خلاف اسی طرح عدالتی حکم جاری ہوسکتا ہے جس طرح دیگر سرکاری اداروں کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے ۔آئین کے آرٹیکل 225کے تحت کسی ایوان یا صوبائی اسمبلی کے انتخاب کے تنازع پر دادرسی کے لئے الیکشن ٹربیونل کے سوا کسی دوسرے فورم سے رجوع نہیں کیا جاسکتا جس کا مطلب ہے کہ محض انتخابی عذر داری کے ذریعے صرف الیکشن ٹربیونل سے ہی انتخابی تنازعات پر دادرسی طلب کی جاسکتی ہے ۔آئین کے آرٹیکل 219(سی )کے تحت الیکشن ٹربیونل تشکیل دینا چیف الیکشن کمشنر کا اختیار ہے ۔آئین کا آرٹیکل 225کے حوالے سے مختلف عدالتی نظائر موجود ہیں ،ایک یہ کہ اگر الیکشن ٹربیونل موجود نہ ہوں تو پھر شہریوں کے پاس دادرسی کا کوئی فورم نہیں ہوگا ،ایسی صور ت میں آرٹیکل 199کے تحت ہائی کورٹس میں رٹ درخواست دائر ہوسکتی ہے ۔دوسرا یہ کہ کسی بھی ٹربیونل یا ادارہ یا شخص کا فیصلہ بدنیتی پر مبنی ہو تو اس کے خلاف بھی رٹ درخواست دائر ہوسکتی ہے ۔علاوہ ازیں اگر کسی شخص کا کوئی بنیادی آئینی حق متاثر ہوتا ہے تو اسے بھی ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔ماضی میں عدالتیں انتخابی معاملات میں مداخلت کے حوالے سے کافی محتاط رہی ہیں ۔ابتداء میں ایسے فیصلے آئے کہ مدمقابل امیدوار کے خلاف کوئی دوسرا شہری یا ووٹر رٹ درخواست کے ذریعے کاغذات نامزدگی کو چیلنج نہیں کرسکتا ۔بعدازاں جاوید ہاشمی اور غلام مصطفی جتوئی کے مقدمات کے فیصلوں تک یہ روایت برقرار رہی کہ کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف امیدوار ہائی کورٹ میں رٹ درخواست دائر کرسکتا ہے ،اس کے سوا کسی دوسرے تنازع کے بارے میں رٹ درخواست دائر نہیں ہوسکتی تھی ۔بعدازاں 2008ء میں سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں قائم بنچوں کی طرف سے صلاح الدین ترمذی اور انتصار حسین بھٹی کے مقدمات میں اوپر تلے ایسے فیصلے آئے جنہوں نے انتخابی تنازعات سے متعلق رٹ درخواست کے ذریعے دادرسی کے کئی دیگر دروازے بھی کھول دیئے ۔عدالت عظمیٰ کے ان فیصلوں کے تحت مدمقابل امیدوار کے ساتھ ساتھ کوئی ووٹر یا عام شہری بھی امیدوار یا رکن اسمبلی کی اہلیت کوہائی کورٹ میں رٹ درخواست کے ذریعے چیلنج کرسکتا ہے ،علاوہ ازیں ہائی کورٹس کے پاس "کووارنٹورٹ"کا اختیار بھی ہے جس کے تحت وہ کسی بھی سرکاری عہدیدار سے استفسار کرسکتی ہیں کہ وہ کس اختیار کے تحت اس عہدے پر براجمان ہیں ،دوسرے لفظوں میں ہائی کورٹس اپنے اس اختیار کے تحت کسی بھی شخص کی اہلیت کا عدالتی جائزہ لینے کی مجاز ہیں ۔جب تک صلاح الدین ترمذی اور انتصار حسین بھٹی کے مقدمات میں سپریم کورٹ کی نظائر موجود ہیں ،الیکشن کمشنر کا شکوہ دور نہیں کیا جاسکتا ۔چیف الیکشن کمشنر نے ہائی کورٹس کی مداخلت کا جو گلہ کیا ہے اس کے لئے سپریم کورٹ کے کسی ایسے بڑے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے جو آئین کے آرٹیکل 225اور199کی نئی تشریح پر مبنی ہو ۔چیف الیکشن کمشنر ہائی کورٹس کے حال ہی میں دیئے گئے انتخابی تنازعات کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع اوروہاں اپنا موقف بیان کرنے میں آزاد ہیں ۔فی الحال جو عدالتی نظائر موجود ہیں ان کے تحت ہائی کورٹس کو الیکشن کمشن کے معاملات اور انتخابی تنازعات کے عدالتی جائزہ کا اختیار حاصل ہے ۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کیا الیکشن کمشن ہائی کورٹس کے فیصلوں کو ماننے سے انکار کرسکتا ہے ؟ اس حوالے سے آئین بہت واضح ہے ،آئین کے تحت تمام انتظامیہ اور سرکاری ادارے اعلیٰ عدالتوں بشمول ہائی کورٹس کے فیصلوں پر عمل درآمد کے پابند ہیں ۔بصورت دیگر اعلیٰ عدلیہ کے پاس آئین کے آرٹیکل204کے تحت توہین عدالت کی کارروائی کا اختیار ہے ۔آرٹیکل 204(2)اے کے تحت عدالت کے کسی حکم کی نافرمانی بھی توہین عدالت ہے جس پر اعلیٰ عدلیہ کو توہین عدالت کے مرتکب شخص کو سزا دینے کا اختیار حاصل ہے تاہم عدالتی تاریخ میں ایک ایسا فیصلہ بھی موجود ہے جس میں سپریم کورٹ نے قرار دے رکھا ہے کہ عدالت کے کسی غیر قانونی حکم کو تسلیم نہ کرنا توہین عدالت نہیں ہے ۔1997ء میں ڈاکٹر ظفر بخاری کیس میں سپریم کورٹ نے یہ آبزرویشن دے کر توہین عدالت کی کارروائی ختم کردی تھی ۔(بحوالہ پی ایل ڈی سپریم کورٹ1997صفحہ نمبر351)۔اس ایک عدالتی نظیر کے سوا ایسے درجنوں عدالتی فیصلے موجود ہیں جن میں سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے جب تک مجاز عدالت یا اتھارٹی کے کسی حکم کو کالعدم نہ کیا جائے اس پر عمل درآمد کرنا ضروری ہے ۔کسی انتظامی افسر یا ادارے کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کو غیر قانونی قرار دے کر اسے ماننے سے انکار کردے ۔عدالت کے کسی فیصلے پر اعتراض ہو تو اسے اسے برتر عدالت میں چیلنج کرکے پہلی عدالت کا فیصلہ ختم کروایا جاسکتا ہے ۔عدالتوں کا رجحان ڈاکٹر ظفر بخاری کیس کی بجائے ان عدالتی نظائر کو قبول کرنے کی طرف ہے جن میں عدالت عظمیٰ قرار دے چکی ہے کہ جب تک کوئی عدالتی حکم یا قانون کالعدم نہیں ہوتا اس پر عمل درآمد کیا جانا ضروری ہے اور یہ کہ ایسے عدالتی حکم پر عمل نہ کرنا توہین عدالت کے زمرہ میں آتا ہے ۔

مزید : تجزیہ