سعودی عرب میں بنگلہ دیشی مزدور کی سونے کے زیورات کو دیکھنے کی تصویر ، پہلے لوگوں نے انٹرنیٹ پر مذاق اڑایا اور پھر ایساکام کردیا کہ آپ بھی قسمت پر عش عش کراٹھیں گے

سعودی عرب میں بنگلہ دیشی مزدور کی سونے کے زیورات کو دیکھنے کی تصویر ، پہلے ...
سعودی عرب میں بنگلہ دیشی مزدور کی سونے کے زیورات کو دیکھنے کی تصویر ، پہلے لوگوں نے انٹرنیٹ پر مذاق اڑایا اور پھر ایساکام کردیا کہ آپ بھی قسمت پر عش عش کراٹھیں گے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں کام کرنے والے ایک بنگلہ دیشی مزدور کی سونے کے زیورات کو حسرت سے تکنے کی تصویرکسی نے انٹرنیٹ پر شیئر کی تو پہلے لوگوں نے اس مفلس اور حصول رزق کی خاطر غریب الوطنی پر مجبور شخص کا خوب مذاق اڑایا لیکن بعد میں اس کی قسمت نے ایسا ساتھ دیا کہ مالا مال ہو گیا۔
میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 65سالہ نذیر الاسلام عبدالکریم نامی یہ عمررسیدہ بنگلہ دیشی شخص سعودی دارالسلطنت ریاض میں صفائی کا کام کرتا ہے۔ ایک روز یہ جیولری کی دکان کے باہر صفائی کے دوران شیشے کی الماریوں میں پڑے نفیس زیورات کو حسرت بھری نگاہوں سے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا کہ کسی نے اس کی تصویر بنا کر انسٹاگرام پر پوسٹ کر دی، جہاں دیگر صارفین نے اس کا خوب ٹھٹھہ بنایا۔ ایک کمبخت نے لکھا کہ ”اس شخص کو قیمتی زیورات کی طرف دیکھنے کا کوئی حق نہیں، یہ صرف کوڑے اور کچرے کی طرف دیکھنے کا مستحق ہے“۔

سعودی عرب سے پہلی مرتبہ خواجہ سرا شہری منظر عام پر آگیا، ساتھ ہی ایسا اعلان کردیا کہ پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا
پھر اس تصویر پر عبداللہ القحطانی نامی شخص کی نظر پڑی جو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ”انسانیت“ کے نام سے اکاﺅنٹ چلاتا ہے۔ الحقطانی نے نذیرالاسلام کی تصویر اپنے اکاﺅنٹ سے شیئر کی اوراپنے فالوورز سے اس شخص کو تلاش کرنے اور اس کی مدد کرنے کی اپیل کی۔ اس کی یہ ٹویٹ 6500بار ری ٹویٹ کی گئی اور جلد ہی نذیر کی رہائش گاہ کا سراغ لگا لیا گیا۔ اس کا پتہ ملنے پر انسانیت کے فالوورز نے اس پر تحائف کی بارش کر دی ۔ وہ اسے سونے کے زیورات کے سیٹ، چاولوں کے تھیلے، شہد کی بوتلیں، 2موبائل فونز(آئی فون 7اور سام سنگ گلیکسی)اور نقد رقوم بھیج رہے ہیں۔ ایک صارف نے اسے بنگلہ دیش کا ریٹرن ٹکٹ بھی بھیجا ہے تاکہ وہ اپنے گھر سے ہو آئے۔تحائف دینے والوں میں اکثریت سعودی باشندوں کی ہے۔ ایک شخص نے اسے 2ہزار ریال(تقریباً 56ہزار روپے) بھیجے ہیں اور تحائف کا نہ ختم ہونیوالا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔


رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے ایک سپورٹس چینل نے سنیپ چیٹ پر نذیر کی نئی ویڈیوز پوسٹ کی ہیں جن میں اسے گراں قیمت تحائف کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔38سالہ القحطانی نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”جس طرح لوگوں نے نذیر الاسلام کو تلاش کرنے میں گرمجوشی دکھائی اور کمال مہربانی اور سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے تحائف دیئے، میں اس سے بے حد متاثر ہوا ہوں۔“

دنیا کا وہ ملک جہاں خفیہ طور پر مقابلہ حسن منعقد کروایا جاتا ہے، پھر جیتنے والی حسیناﺅں کو کہاں پہنچادیا جاتا ہے؟ انتہائی شرمناک انکشاف منظر عام پر
دوسری طرف خود نذیر الاسلام نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”میری صرف 700ریال (تقریباً 19ہزار 700روپے) تنخواہ ہے جس میں میں اتنی قیمتی چیزیں خریدنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ مجھے نہیں معلوم کہ کس نے میری تصویر بنا کر انٹرنیٹ پر ڈالی، میں میونسپلٹی میں بطور خاکروب ملازم ہوں اور اس دکان کے باہر صرف اپنا کام کر رہا تھا، جس کے شو کیس میں سجے زیورات نے میری توجہ اپنی طرف مبذول کر الی، میں اتنے سارے تحائف ملنے پر بہت خوش ہوں اور تحائف بھیجنے والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔“

مزید :

عرب دنیا -