فلاح انسانیت اور عبدالستار ایدھی مرحوم

فلاح انسانیت اور عبدالستار ایدھی مرحوم
 فلاح انسانیت اور عبدالستار ایدھی مرحوم

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

جب کسی ریاست میں فلاح کا شعور ہوتا ہے۔ معاشرے میں بہتری پیدا ہوتی ہے اور جب یہ احساس کم ہو جاتا ہے، تو معاشرے میں برائیاں جنم لیتی ہیں اور بربادی دکھائی دیتی ہے۔

کوئی حادثہ ہو جائے تو لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو جاتا ہے، جیسے کوئی تماشا لگا ہو۔ عوام کو سمجھ نہیں آ رہی ہوتی کیا کِیا جائے،کیونکہ اُنہیں یہ سبق دیا ہی نہیں گیاکہ۔دُکھی انسانوں کی مدد کرنا۔

ثواب ہوتا ہے اُن کے اندر پولیس کا خوف پہلے سے موجود ہوتا ہے،کہیں ہم پکڑے نہ جائیں۔اِس دوران زخمی اِس دُنیا سے کوچ کر جاتا ہے۔

اگر اُسے وقت پر ہسپتال لے جاتے تو وہ بچ سکتا تھا اور اُس کے گھر والے اِس صدمے کا شکار نہ ہوتے،بچے یتیم نہ ہوتے پھر اُس کی لاش گھر پہنچ جاتی ہے، اِس طرح غم کے سائے پھیل جاتے ہیں۔


فلاح انسانیت کے کام عبدالستار ایدھی برسوں سے کررہے تھے۔ایک باریش شخص شلوار قمیض میں ملبوس نظر آتا ۔عوام اُس پر اعتماد کرتے ۔دِل کھول کر چندہ دیتے،صدقہ خیرات جمع کرتے۔

وہ عید قرباں پر کھالیں اکٹھی کرتے،جس سے غریبوں کو مفت کھانے پینے کا انتظام کرتے،یتیموں کو سہارا دینے، اُن کی رہائش، تعلیم، کپڑے وغیرہ کا انتظام کرتے۔اِس طرح مُلک میں ہزاروں افراد کو زندگی بسر کرنے کا موقع مل جاتا۔ وہ کسی دہشت گرد تنظیم کے ہتھے چڑھنے سے بچ جاتے۔


ایک دن بڑے سے ہال میں سابق وزیراعظم سے عبدالستار ایدھی اپنی فائلیں روکنے کا ذکر کر رہے تھے۔ راقم بھی پاس کھڑا تھا، عوام عبدالستار ایدھی کے لئے تالیاں بجا رہے تھے۔ مَیں نے اُنہیں تسلی دی ، اُن سے کیوں ذکر کر رہے ہیں یہ پیسے نہیں دیں گے۔ آپ فقیر ہیں اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرے گا۔

وہ میری بات سن کر مسکرائے پھر ہال سے باہر چلے گئے۔ اُن کے انتقال کے بعد ان کی باتیں بہت یا د آرہی ہیں۔


ایدھی صاحب کے ایک چاہنے والے نے مجھے نظم بھیجی ہے۔آپ کی نذر کر رہا ہوں۔
دربدر ہے کاروانِ دل تِرے جانے کے بعد
ہو گئی ویران یہ محفل تِرے جانے کے بعد
ہو گیا مشکل غریبوں کا سفر کچھ اور بھی
بڑھ گئی کچھ اور بھی مشکل تِرے جانے کے بعد
ناز ہے انسانیت کو تیرے کارِ خیر پر
تیرا ہی سایہ ہے پیہم اس کراچی شہر پر
تو ہے وہ آذر کہ جس نے روشنی تجسیم کی
تو نے لوگوں میں ہمیشہ زندگی تقسیم کی
حضرتِ ایدھی، یہ دُنیا یاد رکھے گی تمہیں
زندگی ہر ایک قدم پر روز سوچے گی تمہیں
کتنی مفلس مریموں، کِتنے نعیموں کے لیے
تو کہ جینے کا سہارا تھا یتیموں کے لیے
شہر کی بدصورتی میں دلکشی ہے تیرا نام
ان اندھیروں میں چمکتی روشنی ہے تیرا نام
اک تعلق خاص تھا ایدھی سے میرا اے عطا ؔ
اس لیے آنکھوں میں ہے یہ آنسوؤں کا سلسلہ
کیپٹن عطا صاحب نے عبدالستار ایدھی کے لئے بہت خوبصورت اشعار کہے ہیں جن میں اُن کی فلاح انسانیت کی خدمات کا ذکر ہے،غریبوں کی مشکلات اور اپنی عقیدت کا آخری شعر میں آنسوؤں کے حوالے سے عمدہ خیال پیش کیا ہے، امید ہے اُن کے لواحقین ایدھی صاحب کے کام کو جاری رکھیں گے اور مُلک کا نام روشن کرتے رہیں گے۔

مزید :

کالم -