میاں شہباز شریف کا نیا امتحان

میاں شہباز شریف کا نیا امتحان
 میاں شہباز شریف کا نیا امتحان

  

جن دوستوں کا خیال ہے کہ عمران خان، طاہرالقادری، خادم رضوی اور ڈاکٹرآصف جلالی کے بعد اب دھرنا نہیں آئے گا معذرت کے ساتھ ایسے دوست آئندہ چند روز میں کچھ مزید دھرنوں، گھیراؤ جلاؤ اور انارکی جیسی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔ یا پھر موبائل بند کریں اور فیملی کے ساتھ کچھ عرصہ کے لیے گوشہ نشینی اختیار کر لیں۔کیوں کہ دھرنے والے دوستوں اور انکے سہولت کاروں اور دھرنا مخالف قوتوں کے درمیان ابھی کئی راؤنڈ باقی ہیں۔ صوبائی وزیر اوقاف زعیم حسین قادری کی کوششوں اور میاں شہباز شریف کی مداخلت سے پیر سیالوی نے بھی رانا ثناء اللہ کے استعفے کا مطالبہ صرف چند روز کے لیے موخر کیا ہے ختم نہیں کیا اسی طرح خادم حسین رضوی اور ڈاکٹر آصف جلالی نے بھی مشروط طور پر دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے مولانا پیر سیالوی کو ذاتی طور پر کال کر کے اپنے دیرینہ ساتھی رانا ثناء اللہ کا استعفیٰ نہ مانگنے کی درخواست کر کے حق دوستی ادا کیا ہے۔یہ بات جزوی طور پر درست ہو سکتی ہے مگر میاں شہباز شریف ناموس رسالت ؐکے حوالے سے اپنی ہی جماعت کی قانوں سازی کے معاملے اور رانا ثناء اللہ کے موقف سے واضح اختلاف رکھتے ہیں یہی وجہ تھی کہ انہوں نے پارلیمنٹ میں ناموس رسالت کے حوالے سے قانون سازی کی ناکام کوشش کا حصہ بننے کے بجائے نہ صرف اپنے موقف کو الگ تھلگ رکھا۔ بلکہ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کو مستعفی کروانے کے لیے بھی کردار ادا کیا جبکہ دوسری طرف وفاقی وزراء انوشہ رحمان ،زاہد حامد اور خواجہ آصف کے ساتھ ساتھ رانا ثناء اللہ بھی اس معاملے میں پوری طرح ملوث نظر آئے۔اب اس حوالے سے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ خادم اعلیٰ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعدناموس رسالت ؐجیسے حساس معاملے کی زد میں آنے والے اپنے وزیر قانون رانا ثناء اللہ سے ایک بار پھر استعفیٰ مانگ رہے ہیں۔جبکہ رانا ثناء اللہ نے اپنے استعفے کا معاملہ اپنے قائد میاں نواز شریف کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے۔جس کے بعد خود میاں نواز شریف نے نہ صرف رانا ثناء اللہ کو مستعفی ہونے سے روک دیا ہے بلکہ وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کو بھی سازش قرار دیا ہے۔یہ سازش کون کر رہا ہے؟؟ اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت کرے گا جہاں تک رانا ثناء اللہ کا تعلق ہے وہ نظریاتی طور پر میاں نواز شریف کے ساتھ ہیں۔جبکہ حکومتی اور سرکاری معاملات میں وہ شہباز شریف کی ٹیم کا حصہ ہیں۔

رانا ثناء اللہ کے لیے جس طرح کی صورتحال آج پیدا ہوئی ہے بالکل اسی طرح کی صورتحال پہلے بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے وقت پیدا ہوئی تھی۔اس وقت بھی میاں شہباز شریف کو چندبیورو کریسی کے کلاکاروں نے قائل کر لیا تھا کہ پنجاب حکومت رانا ثناء اللہ کی وجہ سے بدنام ہو رہی ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد کی صورتحال کا اس طرح نقشہ کھینچا گااور خادم اعلیٰ کو بتایا گیا کہ ایک قبر اور دو لوگ ہیں، اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ کس نے سانحہ کی ذمہ داری قبول کر کے حالات کو ٹھیک کرنا ہے۔اس کے ساتھ مسلم لیگ ن کے اندر موجود لاہوری گروپ نے بھی رانا ثناء اللہ سے استعفیٰ لینے کی راہ ہموار کرنے کے لیے دن رات ایک کیے رکھا ۔پھر ایک دن وزیر اعلیٰ ہاؤس میں 6کے لگ بھگ صحافیوں کو بلایا گیا۔خادم اعلیٰ سے ملاقات سے قبل ان کو رانا ثناء اللہ کے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں کردار کے متعلق آگاہ کیا گیا ان صحافیوں کو آگاہ کرنے والے حضرات میں ڈاکٹر توقیر وغیرہ شامل تھے جنہوں نے حالات و واقعات کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا اصل ذمہ دار اور کوئی نہیں صرف اور صرف رانا ثناء اللہ ہے ۔یہ ملاقات بنیادی طور پر ذاتی حیثیت میں ایک مشاورتی سیشن تھا مگر اس میں چیدہ چیدہ صحافیوں کو پیغام دے دیا گیا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں۔ خادم اعلیٰ یا پنجاب حکومت کا کوئی کردار نہیں۔ اگر کسی بھی طرح کا تعلق ہے تو وہ رانا ثناء اللہ کا کردار ہے۔اس ملاقات میں شامل صحافی سہیل وڑائچ سے بعد ازاں رانا ثناء اللہ نے گلہ بھی کیا۔ سہیل وڑائچ نے انکو بتایا کہ اس ملاقات میں وہ انکا استعفیٰ کروانے نہیں گئے تھے بلکہ انہوں نے وہاں پر ایسی رائے کی مدلل طور پر مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ رانا ثناء اللہ سے استعفیٰ نہیں لیا جانا چاہئے۔اس کے بعد خادم اعلیٰ نے رانا ثناء اللہ کو بلایا اور چند منٹ کی گفتگو میں پیغام دیا گیا کہ اب ایسے حالات میں کم از کم مجھے یا آپکو سٹیپ ڈاؤن کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد رانا ثناء اللہ نے بے ساختہ کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ استعفیٰ تو مجھے ہی دینا پڑے گا۔اس کے لیے بھی میں حاضر ہوں۔لیکن اگر ایسا ہوا تو پولیس کے ساتھ ساتھ پارٹی کا مورال بھی ڈاؤن ہوگا ، میں پوری طرح سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ذمہ داری لینے کو تیار ہوں آپ مجھے کیس لڑنے کا موقع تو دیںآپ مجھے بس سپورٹ کریں۔ رانا ثناء اللہ نے اس موقع پر مرتضیٰ بھٹو کیس کاحوالہ بھی دیا کہ اس واقعہ میں پولیس پارٹی کی سربراہی پنجاب میں تعنیات آفیسر رائے طاہر کر رہے تھے۔ان سے پوچھا جاسکتا ہے کہ ایسے واقعات میں پولیس بوکھلاہٹ میں گولی چلانے کی غلطی کیسے کرتی ہے،سانحہ ماڈل ٹاؤن میں بھی بالکل ایسے ہی ہوا کہ پولیس نے بوکھلاہٹ میں گولی چلا دی جس کے نتیجے میں لوگ ہلاک ہوئے،اگر مرتضیٰ کیس میں وزیرداخلہ سمیت کوئی شخص مستعفی نہیں ہوا تو میرا استعفیٰ بھی پارٹی اور آپ کو نقصان پہنچائے گا۔مگر پھر بھی استعفیٰ رانا ثناء اللہ کو دینا ہی پڑا۔یہ الگ بات ہے کہ وزارتوں سے مستعفی ہونے کے باوجود سرکاری رہائش گاہ اور پروٹوکول کے ساتھ ساتھ رانا ثناء اللہ دو وزارتوں کو بھی چلاتے رہے۔ اس وقت بھی انکی بحالی میاں نواز شریف کی مداخلت کے نتیجہ میں ہوئی۔اس وقت رانا ثناء اللہ کو کئی بار کہا گیا کہ آپ وزارت کا دوبارہ حلف لیں مگر انکا مطالبہ تھا کہ مجھے سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں بے گناہ کروایا جائے، میں تب ہی حلف لونگا۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی تلوار تو ابھی بھی ان پر لٹک رہی ہے البتہ ایک بار پھر رانا ثناء اللہ کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔اس بار بھی معاملہ چونکہ اتنا حساس ہے اور خادم اعلیٰ سمجھتے ہیں کہ رانا ثناء اللہ کی قربانی دے کر اس خطرے کو کم از کم پنجاب کی حالت تک ٹالا جا سکتا ہے۔ باقی وفاق میں بڑے بھائی جانیں اور انکی ٹیم جانے۔لیکن اس بار استعفے کا مطالبہ سامنے آنے کے ساتھ ہی رانا ثناء اللہ نے اپنے پارٹی قائد میاں نواز شریف کے ساتھ رابطہ کیا ہے۔جنہوں نے نا صرف ان کو استعفیٰ دینے سے منع کیا ہے بلکہ انکو مکمل حمایت کا بھی یقین دلایا ہے۔دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی بینچ کے حکم پرپنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ کو باقاعدہ طور پر پبلک کر دیا ہے، مگر اس کے نتیجے میں کون سے خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا،اس کا فیصلہ آنے والے چند روز میں ہو جائے گا۔ایک طرف ربیع الاول کا مہینہ چل رہا ہے دوسری طرف طاہرالقادری بھی وطن واپس پہنچ چکے ہیں ختم نبوت کے دھرنوں کو بھی مشروط طور پر ختم کیاگیا ہے ،دھرنوں کا خطرہ ابھی بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا آگے چل کر ختم نبوت کے معاہدوں پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو شمع رسالت کے پروانے اور متاثرین ماڈل ٹاؤن ایک بار پھر سڑکوں پر ہونگے۔ میاں شہباز شریف حالات کے پیش نظر رانا ثناء اللہ کی قربانی دینے کے لیے اپنے قائد اور بڑے بھائی میاں نواز شریف کو قائل کر سکیں گے یا نہیں ،ابھی حدیبیہ پیپر ملزکے مقدمہ کا بھی خادم اعلیٰ کو سامنا ہے۔آنے والے حالات کاتجزیہ اگر ماضی قریب کی صورتحال کو سامنے رکھ کر کیا جائے تو میاں شہباز شریف کو آگے بڑھ کر صورتحال کو سنبھالنا ہوگا ورنہ آنے والے دنوں میں جہاں ملک میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال خراب ہوگی وہاں اداروں کے ٹکراؤ کے نتیجے میں ملک کو نا قابل تلافی نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔

Back to

مزید :

کالم -