خالد حنیف کے اختصاریے

خالد حنیف کے اختصاریے
خالد حنیف کے اختصاریے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سواتین سو سے زائد صفحات پر مشتمل خالد حنیف کی کتاب ’’اختصاریے‘‘ ان کی ساری زندگی کا نچوڑ ہے۔ وہ زندگی کامشاہدہ، نہایت گہرائی میں جاکر کرتے ہیں اور اپنے تجربات کو چند لفظوں میں بیان کر کے آسودہ ہو جاتے ہیں لیکن اپنے قارئین کو تفکر، تحیر اور تخیل کے وسیع و عریض اور عمیق سمندر میں تڑپنے اور مچلنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ مثلاً جب وہ کہتے ہیں کہ ’’محبت بہت بڑی طاقت ہے لیکن دعا اس سے بھی زیادہ طاقت ور ہے‘‘۔ تو کون کہہ سکتا ہے کہ دس بارہ جملوں پر مشتمل یہ اختصاریہ انہوں نے محبت میں ناکامی کے تجربے کے بعد تخلیق کیا ہو گا۔ جب وہ سمجھتے ہیں کہ ’’دو اچھے آدمیوں کے تعلقات بھی اچھے ہوں، یہ ضروری نہیں‘‘۔ تو کون جان سکتا ہے کہ کتنے دوستوں سے معاملہ بندی میں خرابی کے بعد یہ خیال اُن کے دل میں آیا ہو گا۔ان کے اختصار یوں پر بات کرنے سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ اپنے قارئین کے سامنے ان کے چند اختصاریے رکھ دوں تاکہ وہ خود بھی ان کے بارے میں کوئی فیصلہ کرسکیں۔

*۔۔۔ سفر وسیلۂ ظفر سہی لیکن گھوڑا کبھی آدمی نہیں بن سکتا۔

*۔۔۔ حقیقت یہی ہے کہ آدمی کبھی حقیقت تک نہیں پہنچ پاتا۔

*۔۔۔ خوب صورت ترین مجسمے کو بدصورت ترین آدمی پر بھی ترجیح نہیں دی جاسکتی۔

*۔۔۔ کسی آدمی کے غیر معمولی ہونے کے فیصلے کا حق، اسی کے طبقے کو ہے۔

*۔۔۔ آج کے آدمی کو بہت سے جھوٹ محض اپنی مصروفیات کی وجہ سے بولنا پڑتے ہیں۔

*۔۔۔ آدمی اور مشین میں تنوع کا بھی فرق ہے۔

*۔۔۔ وہم اعلان ہے اس بات کا کہ کوئی اپنے حساس ہونے کا غلط استعمال کررہا ہے۔

*۔۔۔بے قصور آدمی بھی نہیں ہوتا، قصور وار حالات بھی نہیں ہوتے۔

*۔۔۔ پہلے ضرورتاً جھوٹ بولا جاتا ہے اور پھر عادتاً۔

*۔۔۔ دوسرں کے ترس کھانے کو بھی لوگ، اپنی فتح سے تعبیر کرلیتے ہیں۔

*۔۔۔ ہم سب اصلاح چاہتے ہیں بشرطیکہ اس کی ابتدا ہم سے نہ ہو۔

*۔۔۔ غیر معمولی حالات ہی انسان میں، غیر معمولی صلاحیتیں پیدا کرتے ہیں۔

*۔۔۔ اچھا آدمی بُرائی پر اور بُرا آدمی اچھائی پر زیادہ ٹھہر نہیں سکتا۔

*۔۔۔ آدمی اور فرشتے میں خواہش ہی کا تو فرق ہے۔

*۔۔۔ اپنی خامیوں کو تسلیم کرنے والا، دوسروں کی خوبیاں بھی تسلیم کرلیتا ہے۔

*۔۔۔ چلتے رہنے کی نسبت ایک جگہ کھڑا رہنے سے آدمی جلدی تھک جاتا ہے۔

*۔۔۔ کُتے ہر جگہ پائے جاتے ہیں اور وہ کہیں بھی چلے جائیں، کُتے ہی رہتے ہیں۔

*۔۔۔ لوگ بارش چاہتے ہیں مگر بھول جاتے ہیں کہ بارش سے پہلے بھی حبس ہوتا ہے اور بارش کے بعد بھی۔

*۔۔۔ ہمارے ہاں سپیڈ بریکرز کی بھرمار ہے۔ تو کیا سڑکیں بھی قومی مزاج کا آئینہ ہوتی ہیں؟

*۔۔۔ پتا اور پیسا ہو تو پاتال تک بھی پہنچا جاسکتا ہے۔

*۔۔۔ لوگ اپنی خامی کو تسلیم بھی نہیں کرتے اور فرشتہ ہونے کا دعویٰ بھی نہیں کرتے۔

*۔۔۔ عورت اکیلی رہ سکتی ہے نہ مل کر۔

*۔۔۔ تنہائی مرد کامسئلہ ہے۔۔۔ کہ عورت کی تنہائی ختم کرنے کو تو ایک بچہ ہی کافی ہے۔

*۔۔۔ جب تک تم میرے ہو، میں کسی اور کا نہیں ہوسکتا۔

*۔۔۔ اولاد سے مقابلے پر اُترآنے والے والدین، اپنے منصب سے اُتر آتے ہیں۔

*۔۔۔ جوزیادہ بھونکتا ہے، جلدی ہانپ جاتا ہے۔

*۔۔۔ پاگل گھوڑے کو گولی مارتے وقت اس کی نسل نہیں دیکھی جاتی۔

*۔۔۔ اصلی چمڑے کی نسبت، نقلی میں زیادہ چمک ہوتی ہے۔

*۔۔۔ شوق ایسا سیلاب ہے جو ہر عُذر کو بہالے جاتا ہے۔

*۔۔۔ بعض لوگوں کا کام ہی کام سے بچنا ہے۔

*۔۔۔ کام چور اندر تک تھکا ہوتا ہے۔

*۔۔۔ بعض لوگ سوتے بھی یوں ہیں گویا کوئی کارنامہ انجام دے رہے ہوں۔

تو صاحب! یہ ہیں ہمارے خالد حنیف صاحب کے اختصاریے۔ اشفاق احمد، واصف علی واصف اور ممتاز مفتی کی حوصلہ افزائی پاکر انہوں نے مختصر نویسی کی راہ پر قدم رکھا۔ خالد حنیف کے اختصاریے پڑھ کر ان تینوں بڑوں نے جانا تھا کہ گویا یہ بھی ان کے دل میں ہے۔ بات واضح نہیں ہوسکی تو غالب کا پورا شعر یہاں درج کیے دیتا ہوں:

دیکھنا تقریر کی لذّت کہ جو اس نے کہا

میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

اب تک خالد حنیف کے اختصاریوں کے تین مجموعے ’’میں تُو اور وہ‘‘ ’’اختصاریے‘‘ اور ’’سیپ سیپ سمندر‘‘ چھپ چکے ہیں اور اب کتاب ورثہ کے مظہر سلیم مجوکا نے ان تینوں مجموعوں کو ’’اختصاریے‘‘ کا نام دے کر کلیات کی شکل میں چھاپ دیا ہے۔ یہ کتاب خالد حنیف کے دل و دماغ میں ہر لمحہ مچلنے والے طوفان کی لہریں ہیں جو اپنے پڑھنے والوں کی سوچ کو بھی اتھل پتھل کردیتی ہے۔ یہ ان کے سنتالیس سال کے ذہنی و فکری سفر کی ریزہ ریزہ داستان ہے جس میں ہر آدمی کی کہانی بیان کردی گئی ہے۔ اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص یہ کتاب کہیں سے بھی پڑھنا شروع کرے، اس میں اُسے اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی کا مکمل عکس نظر آئے گا۔ اس کتاب کی دوسری خوبی یہ ہے کہ اسے آپ کہیں سے بھی پڑھنا شروع کرسکتے ہیں۔ چاہیں تو درمیان سے کھول کر پڑھنا شروع کردیں، چاہیں توآخر سے شروع کرلیں، اس کا لُطف کم نہیں ہوگا۔ اس کتاب کی تیسری خوبی یہ ہے کہ اس میں زندگی کے نہایت پیچیدہ فلسفے کو نہایت آسان فہم زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ آپ جو بات پڑھتے ہیں، سیدھی دل میں جا اُترتی ہے۔ یہ اختصاریے لکھنے کے لیے خالد حنیف نے کوئی شعوری کوشش یا کاوش نہیں کی۔یہ باتیں زندگی نے خود ان سے لکھوائی ہیں۔ زندگی کو دیکھتے ہم بھی ہیں لیکن زندگی میں دیکھا ہوا بیان کرنے پر ہر شخص قادر نہیں۔خالد حنیف کو اس پر پُوری قدرت حاصل ہے۔ انہوں نے خود لکھا ہے۔

’’جس طرح مرغی انڈا دینے پر مجبور ہوتی ہے اسی طرح میں بھی کوئی تجربہ،مشاہدہ یا تفکر کرتاہوں تو اسے الفاظ کی شکل دینے پر مجبور ہوجاتا ہوں‘‘۔

ان کے اختصاریے پڑھ کر بار بار دل میں خیال آتاہے کہ یہ سب غالباً مختلف افسانوں سے حاصل ہونے والے نتائج ہیں۔ دراصل ایک چھوٹی سی بات کہنے کے لیے وہ زندگی کی کتاب سے کوئی افسانہ اٹھاتے ہیں۔ اس کے کرداروں اور معاملات پر دل ہی دل میں غور کرتے ہیں نتیجہ اختصاریے کی صورت میں لکھ ڈالتے ہیں۔ ان اختصاریوں کو پڑھ کر لگتا ہے کہ خالد حنیف کے اندر ایک چھوٹا سا صوفی چھپا بیٹھا ہے۔ ان کی فکر کا محورو مرکز انسان ہے۔ وہ آدمیت اور انسانیت کا پرچار کرتے ہیں۔ خدا، کائنات اور انسان کی مثلث کو جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس میں وہ کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔ اشفاق احمد نے ان کے ابتدائی اختصاریے پڑھ کر کہا تھا:’’ بڑی عجیب چیز ہے نہ تو پوری طرح نثر میں ہے اور نہ نظم میں، دونوں کے بیچ کی کوئی چیز ہے۔ مگر زندگی کے تمام شعبوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے‘‘۔

اور میرا خیال یہ ہے کہ خالد حنیف نے اختصاریے کے نام سے اُردو نثر کو ایک نئی صنف عطا کردی ہے۔

مزید : کالم