A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

قانون سب کے لئے

قانون سب کے لئے

Dec 06, 2017 | 12:18:PM

ڈاکٹر شاہد صدیق

قانون کا احترام سب پہ لازم ہے- قانون کے آنکھوں پہ پٹی بندھی ہوتی ہے- قانون کی آنکھیں آپ کے ثبوت اور آپ کے گواہان ہوتے ہیں جن کی بنا پہ فیصلہ صادر ہوتا ہے- اس لئے جو فیصلےبھی آتے ہیں  ان  کا دفاع اپنے ثبوتوں کی روشنی میں اپنے مدلل دلائل اور اپنے سچے گواہان سے کیا جاتا ہے- عدالت سے باہر نکل کر لگائے جانے والے الزامات فقط انتشار اور  نا چاکی کا باعث ہی بنتے ہیں- عادل پہ بھی لازم ہے کہ وہ جب فیصلہ کرے تو اس یقین کے ساتھ کرے کہ اس کا فیصلہ کسی  بغض  ، عناد یا جانب داری   پہ مبنی  نہیں ہو گا- باقی رب ہی سب کچھ جاننے والا ہے-

 پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے –انصاف کی  فراہمی – انصاف کی حکمرانی  و علمبرداری اور انصاف سے کیا گیا سزا و جزا کا فیصلہ کیا ریاستِ مدینہ کے خوشحالی سے  ایک مثال بنا دنیا کی تاریخ پہ روشن و تاباں نہیں ہے – ونسٹن چرچل کا کہا  کیا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ آزاد  عدالتیں ہی قوموں کی ترقی کی ضمانت ہیں- کیا  حکومت اور اپوزیشن کی ملی بھگت سے پاس کیا گیا قانون ہماری اسلامی تاریخ پہ نہیں ہنستا کیونکہ پاکستان کی تو بنیاد ہی مدینہ کی ریاست کے اصولوں پہ رکھی گئی تھی – کیا سچائی دیانت داری نبیوں پہ ہی ختم ہو گئی تھی یا ان کے بعد آنے والے صحابہ کرام نے انہی اصولوں  پہ کاربند رہتے ہوئے دنیا پہ اپنی عظمت و کامرانی کا سکہ منوایا تھا-  کیا نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم   کا ہر فعل اور اسوہ ء حسنہ ہمارے لئے باعث ِ تقلید نہیں ہے – کیا  آپ صلی اللہ علیہ وسلم   کی تعلیمات عام انسان کے لئے نہیں ہیں – کیا حجۃ الوداع کا  خطبہ   دین کی تکمیل کی  دلیل نہیں ہے – کیا ہر قول کا فعل آپ کی سیرت طیٰبی سے نہیں ملتا-کیا کامیاب جمہوری ممالک میں سب دغا باز بیٹھے ہیں اور ان اسمبلیوں میں بھی ایسے ہی قوانین ہیں کہ کوئی جھوٹا ، فریبی اور   نا اہل ایک دفعہ مسلط ہو گیا تو اس کے سب گناہ معاف اور اس کا فیصلہ پانچ سال بعد پھر اس حلقہ کے عوام یا اس کا لگایا  ، کھلایا  اور لوٹ مار سے کما یا مال پانی ہی کرے گا- سیاست دانوں کے اثاثہ جات پہ اگر نظر دوڑائی جائے تو اس کی کمزوری ہے یہی پوچھ پرتیت سو اس شق کو ان ترمیمی اصلاحات میں سرے سے ہی نکال دیا گیا ہے کہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری- جب ریٹرنگ آفیسرز  کاغذات کی چھان پھٹک ہی نہ کر سکیں گے تو  کہا ں کی اہلیت و نا اہلیت پھر سب اسمبلی میں آئیں  گے مال بنائیں  گے اور چلتے جائیں گے- کہتے ہیں کہ یہ احتساب صرف  سیاست دانوں کا ہی کیوں تو جواب بھی بہت سادہ ہے کہ عوام کو صرف سیاست دانوں کے انتخاب کا حق ہے- باقی اداروں کے سربراہ تومنتخب حکمران ہی چنتے ہیں – اگر آپ حاکم ان کا احتساب نہیں کر سکتے تو ہم کیا کر سکتے ہیں – اسی لئے تو کہتا ہوں کہ اگر آپ اپنی   جلوت و خلوت میں پاکباز اور صادق و امین ہیں تو آپ دوسرے کو بھی اسی قانون و اصول  پہ تول پرکھ سکتے ہیں لیکن اگر آپ  کی  کی گئی ایک خامی کی نشاندہی آپ کی بیسیوں بے ضابطگیوں کو آشکار کرتی ہے تو پھر بھاڑ میں جائے یہ گورنس پھر تو وہی رہ جاتا ہے  جو اب ہو رہا ہے- رب جانتا ہے کہ اگر آپ کی درست چھان پھٹک ہوجائے تو نوے فیصدی ایسے اہل نہیں ہیں کہ اس پارلیمان کا حصہ ہو سکیں یہ بات میں نہیں کہتا یہ  مشاہدات تو  اعلیٰ عدلیہ کے ہیں جو اس نے سر پکڑ کے آپ کی  لوح ِ ہستی پہ لکھ دیے ہیں- شاید اسی لئے یہ عدلیہ اب آپ کی نظر میں کھٹک رہی ہے یا کچھ اور بھی ہے اگر ہے تو ہمیں بھی بتایا جائے کہ  ہمارے  پاکبازنمائندوں کے ساتھ ایسا کیوں ہورہا ہے اور ہمارے ووٹ کا تقدس کیوں مجروح ہو رہا ہے – آپ کہتے ہیں کہ آپ کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے تو کہہ دیجیئے آج کل ماحول بھی ایسا ہی بنا ہواہے اور حالات کا تقاضا بھی یہی ہے- اگر فیصلہ عوام نے ہی کرنا ہے تو اسے ہی دکھائیے  اپنے سچ اور صداقت کا ثبوت  کہ اصل حقیقت کیا ہے – جب آپ پہ لگے الزامات روز سب کی شرمندگی کا باعث بنتے ہیں تو کیجیئے آشکار الزام لگانے والوں کو بھی لیکن اگر کچھ نہیں ہے تو جھکا دیجیئے اپنا آپ اور پیش کر دیجیئے اپنے آپ کو ثبوتوں کے ساتھ سب کے سامنے- وہ ثبوت جو آپ عدالت کو نہیں دکھا سکے ہمیں دکھا دیجیئے، کر دیجیئے کسی پریس کانفرنس میں ان کو  عوام کی عدالت میں پیش اور ہو جائیں ہماری نظروں میں سرخرو لیکن خدارا کوئی قطری خظ کوئی این آر او نہ کیجیئے جو ہمیں پھر اخلاقی اور معاشی پستیوں میں ہی دھکیل دیتا ہے- نہ کیجیئے ایسا کہ سب کچھ  بے اعتبار اور  بے معنی ہو کر ہی رہ جائے- پارلیمنٹ کے کسی رکن کو یہ اختیار مت دیجیئے کہ وہ جب چاہے اپنے گوشواروں میں ترمیم کروا لے اور بد عنوانی کی اس شق کو  موت کے گھاٹ مت اتاردے  جس کی نوک پہ لٹکے  سابقہ حکمران  آرٹیکل (1) 62 عوامی نمائندہ ایکٹ 76 کی دفعہ 99 الف ، عوامی نمائندہ ایکٹ  76 کی دفعہ 12  اور عوامی  نمائندہ ایکٹ 76  کی دفعہ  78 کے تحت ناہل ہوئے ہاتھ پیر مار رہے ہیں اور سب کچھ جائز قرار دلوا رہے ہیں- پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات نے اس بابت الیکشن کمیشن  آف  پاکستان کو بھی اعتماد میں نہیں لیا  اور اس ضمن میں عدالت عالیہ کی سابقہ رولنگز کو بھی در خور اعتنا ء سمجھا گیا- اب اگر عدالت ِ عالیہ اس کو  آئین کے آرٹیکل( 2) 218 کے منافی قرار دے کر اڑا دے تو پھر وہ الزامات اور  بحث و تمحیص چھڑ جائے گی جو اداروں کو اور کمزور کردے گی –خدارا ملک کو ا یک کونے میں مت دھکیلئے – آپ نے عام عوام کی خدمت میں ان سالوں میں کو ن کون سی قانون سازی کی ہے وہ بھی بتا دیجیئے جو اب اس جوش و خروش سے اپنے اعمال کو چھپانے کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں – قانون وہ جو سب کے لئے، امراء کو تحفظ دینے والے قوانین شاید آپ کو  آج بچا لیں لیکن تاریخ میں مار دیں گے- وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے یہ الفاظ زریں حروف سے لکھنے لائق ہیں کہ  مجھے تاریخ میں زندہ رہنا ہے – خدارااپنے  ماضی  جیسی تاریخ مت دہرائیے اور  ثبوتوں کے ساتھ آئیے اور اپنا آپ انصاف کے ترازو میں تلوائیے – یقین کیجئے عوام اور تاریخ آپ  کو اپنے دلوں میں سدا زندہ رکھے گی-                                                                                             

 .

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں