’’ملک کا اصل مسئلہ آبادی کنٹرول کرنا نہیں بلکہ ۔۔۔‘‘ممتاز عالم دین مولانا زاہد الراشدی نے ’’بچے 2 ہی اچھے ‘‘ پالیسی کی مخالفت کرتے ہوئے ایسی بات کہہ دی کہ ہر کوئی سوچ میں پڑ جائے گا

’’ملک کا اصل مسئلہ آبادی کنٹرول کرنا نہیں بلکہ ۔۔۔‘‘ممتاز عالم دین ...
’’ملک کا اصل مسئلہ آبادی کنٹرول کرنا نہیں بلکہ ۔۔۔‘‘ممتاز عالم دین مولانا زاہد الراشدی نے ’’بچے 2 ہی اچھے ‘‘ پالیسی کی مخالفت کرتے ہوئے ایسی بات کہہ دی کہ ہر کوئی سوچ میں پڑ جائے گا

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ممتاز عالم دین اور ملک کے مشہور دینی ادارے جامعہ نصرت العلوم گجرانوالہ کے سربراہ مولانا زاہد الراشدی نے چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے شروع کی جانے والی نئی مہم ’’ بچے 2 ہی اچھے ‘‘ پر سخت تنقید کرتے ہوئے علمی اور شرعی حوالے سے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبادی کنٹرول کرنے کے حوالے سے چلائی جانے والی مہم اصول قرآن اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے خلاف ہے ،ملک کا اصل مسئلہ بڑھتی ہوئی آبادی نہیں بلکہ اسباب اور وسائل پر چند خاندانوں کی اجارہ داری اور غلط تقسیم ہے ،آبادی پر کنٹرول کرنے کی بجائے حکومت وسائل کی غلط تقسیم کو روکنے پر توجہ دے ۔

نجی ٹی وی چینل ’’دنیا نیوز‘‘ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ممتاز عالم دین اور شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی کا کہنا تھا کہ آبادی پر کنٹرول کرنے کی مہم قرآن پاک کے اس اصول کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ ہے ،قرآن پاک میں کہا گیا ہے کہ مرد اور عوارت کا جنسی تعلق خواہش پوری کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ گھر بسانے کے حوالے سے ہے اور اگر خالی خواہش پوری کرنا ہو جیسے آج کل ہو گیا ہے کہ دو افراد آپس کی ضرورت کے تحت کوئی معاہدہ کریں یا نہ کریں ،بس اپنی خؒواہش اور وقتی ضرورت پوری کر لیں ،یہ جو اس طرح کھلی چھٹی دے دی ہے یہ قرآن پاک کے اصول کی صریحا خلاف ورزی ہے ،قرآن پاک اس کی حد بندی کرتا ہے کہ نکاح کا مقصد  خالی شہوت پوری کرنا نہ ہو ،حضور پاک ﷺ کا ارشاد اس میں شامل کر لیں جس میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’میں اپنی امت کی کثرت پر فخر کروں گا ‘‘۔انہوں نے کہا کہ یہ جو رونا رویا جاتا ہے کہ رزق کے اسباب کم ہوتے جا رہے ہیں اور آبادی بڑھتی جا رہی ہے، میں اس کو تسلیم نہیں کرتا کیونکہ اللہ رب العزت زمین پر رزق کے اسباب بھی آبادی کے تناسب سے بڑھا تے جا رہے ہیں ،جیسے جیسے آبادی بڑھ رہی ہے ، رزق کے اسباب بھی بڑھتے جا رہے ہیں ،آج سے 50 سال پہلے ملک میں گندم کی پیداوار کا تناسب اور تھا جبکہ آج اور ہے ۔مولانا زاہد الراشدی کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ آبادی اور رزق کے وسائل میں عدم توازن کا نہیں ہے بلکہ ملک میں اصل مسئلہ رزق کی تقسیم میں عدمِ توازن کا ہے ،آج بھی دنیا کے چند خاندان دنیا بھر کی دولت پر قابض ہیں جبکہ ملک کے بھی چند خاندان اور افراد ملک کی 90 فیصد  دولت پر قابض ہیں ،ہم اس عدمِ توازن کو دور کرنے کی کوشش نہیں کرتے اور نہ ہی اس طرف ہماری توجہ ہے ،مسئلہ آبادی اور وسائل میں عدم توازن نہیں بلکہ مسئلہ اسباب اور وسائل کی تقسیم میں عدمِ توازن کا ہے ،دنیا میں کئی ممالک ایسے بھی ہیں جو اپنی  زائد پیداوار سمندر میں پھینک دیتے ہیں کہ کہیں ان کی مارکیٹ کا بیلنس اور قیمتوں کا توازن نہ بگڑے ۔انہوں نے کہا کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ آبادی میں تناسب قائم رکھا جائے،نبی کریم ﷺ نے یہ تعلیم دی ہے کہ میاں بیوی اور مرد و عورت کے جنسی تعلق کا مقصد گھر بسانا ہو اور زیادہ اولاد پیدا کرنا ہو ،یہ ساری سات ارب کی آبادی آدم و حوا سے ہی آئی ہے اور یہ بھی انسانی زندگی اور  نکاح کے مقاصد میں سے ہے کہ آبادی میں اضافہ ہو اور آبادی  بڑھے،البتہ اس کی تنظیم میں اور اسباب کی تقسیم میں توازن کی ضرورت ہے ،اس تناسب کی طرف توجہ جانی چاہئے جو اصل ضرورت ہے ۔

مزید : قومی