ریلوے کرایوں میں اضافے کے اثرات وسیع تر ہوں گے

ریلوے کرایوں میں اضافے کے اثرات وسیع تر ہوں گے

  

وزیراعظم عمران خان نے پھر تسلی دی اور کہا ڈالر کی فکر نہ کریں یہ اپنی جگہ پر آ جائے گا۔ یہ ڈالر ایک ہی روز میں آٹھ روپے بڑھا اور اس کی وجہ سے روپے کی قدر میں اور کمی ہو گئی۔ سٹاک مارکیٹ بُری طرح متاثر ہوئی تو کنزیومر مارکیٹ میں بھی بہت کچھ ہوا۔ مجموعی طور پر حکومت کی طرف سے اعتراف کیا جا رہا ہے اور نہ ہی اثرات کی بات کی جاتی ہے اور یہ تسلیم کیا جا رہا ہے کہ یہ صورت حال عوامی سطح پر بہت پریشان کن ہے، تاہم وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید تو براہ راست تسلیم کر چکے اور ڈالر کے ساتھ ہی انہوں نے ریلوے کے کرایوں میں بھی اضافہ کر دیا۔اب مسافر گاڑیوں کے کرایوں میں تو اضافہ ہو گا ہی لیکن مال برداری کے نرخ بھی بڑھانا پڑیں گے اور یہ اضافہ بھی براہ راست کنزیومر مارکیٹ کو متاثر کرے گا اور بوجھ عام شہری پر آئے گا۔ ریلوے کے کرائے بڑھا دینے سے دہرا اثر نظر آئے گا۔ وزیر ریلوے نے چارج سنبھالتے ہی دعویٰ کیا کہ وہ ایک سال کے اندر نقصان ختم کر دیں گے۔ شائد یہ موقع ان کو مل گیا کہ وہ کرایوں میں اضافہ کرکے نقصان کی شرح کو کم کرلیں۔ریلوے وزیر محترم کی ہدایت پر مختلف روٹوں پر گاڑیوں کی آمد و رفت کھول کر تعداد میں اضافہ کر رہا ہے۔ دعویٰ یہ ہے کہ اس طرح عوام کو سفر کی سہولت ملے گی اور ان کو بسوں کے زیادہ اخراجات سے نجات مل سکے گی جبکہ ریلوے کی آمدن میں اضافہ ہوگا۔ یہ درست کہ ایسا ہو گا لیکن عام آدمی تو متاثر ہوا، جو لوگ صاحب حیثیت ہیں وہ تو ریل کی بجائے اپنی ذاتی سواری یا ہوائی جہاز کو ترجیح دیتے ہیں اور ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو طوعاً کرہاً ایئر کنڈیشنڈ بسوں کا سفر برداشت کر لیتا ہے۔ تاہم مجموعی طور پر عام لوگ ریل گاڑی کو بچت کے نقطہ ء نظر سے بھی ترجیح دیتے یا پھر نان ایئرکنڈیشنڈ بسوں میں دھکے کھاتے ہیں۔ ان کو کسی طرف چین نہیں، ریل کا کرایہ بڑھے گا تو یہی سفید پوش تکلیف میں مبتلا ہوں گے جو ریل گاڑی میں سفر کرتے ہیں۔ یوں بھی شیخ رشید دعوے بہت کرتے ہیں لیکن مسافر گاڑیوں کے ڈبوں کی ابتر حالت کو درست نہیں کر پائے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزیر ریلوے گاڑیوں کی تعداد بڑھانے کے چکر میں یہ بھول ہی گئے کہ مسافر گاڑیوں کے ڈبے کس حالت میں ہیں، ان کے باتھ روم کیسے ہیں اور کیا کھڑکیوں دروازوں کے شیشے اور لاک بھی درست ہیں کہ نہیں۔ محترم وفاقی وزیر کو اس طرف بھی توجہ مبذول کرنا چاہیے۔ ریلوے کی کیرج اور لوکو موٹو ورکشاپوں کو درست اور ان کی کارکردگی بہتر بنائیں تاکہ مرمت کا کام تسلی بخش طور پر ہو سکے اور مسافروں کو بھی کچھ آرام ملے۔ وزیر محترم کو شوق تو ہے اس لئے وہ ذرا چلتی مسافر گاڑیوں کی چیکنگ کرکے خود ہی فیصلہ کرلیں کہ ریلوے کی کیا حالت ہے اگر مسافروں کو پریشانی اور تکلیف ہو گی تو وہ مجبوراً سفر ترک کرکے دوسرے راستے اپنائیں گے ۔

مزید :

رائے -اداریہ -