تجاوزات، کراچی اور لاہور، ذمہ دار اہل کار ہیں؟

تجاوزات، کراچی اور لاہور، ذمہ دار اہل کار ہیں؟
تجاوزات، کراچی اور لاہور، ذمہ دار اہل کار ہیں؟

  

تجاوزات کے خلاف کراچی میں جاری آپریشن متنازعہ ہو جانے کے باوجود جاری ہے، پولیس اور رینجرز کے تعاون سے میئر وسیم اختر کی نگرانی میں صدر کو تو واقعی ماضی والا بنا دیا گیا، جب وہاں سوار اور پیدل آسانی سے گزرتے اور سیر بھی کرتے تھے، دوسرے علاقوں میں بھی ایسا کیا گیا اور کیا جارہا ہے،تنگ بازاروں کو کھلا کیا گیا، فٹ پاتھ اور دالان خالی کرائے گئے اور نالوں کے کنارے بنائے گئے مکان بھی زد میں ہیں، سب سے بڑا مسئلہ ریلوے کی اراضی واگزار کرانے کا ہوگا کہ سرکلر ریلوے کے اجرا کے لئے لازم ہے اس کے لئے ہزاروں مکان گریں گے اور مکین دربدر ہوں گے۔

دوکان دار پہلے ہی بے روزگار ہوچکے ان کے پاس طفل تسلیوں کے سوا کچھ نہیں کہ صوبائی حکومت اور میئر کہتے ہیں ان کو جگہ دی جائے گی۔ بڑھتے ہوئے اس آپریشن نے جو سپریم کورٹ کی سخت ہدائت کی روشنی میں شروع کیا گیا، سیاسی جماعتوں کو فکرمند کردیا کہ ووٹ بینک کا بھی سوال ہے، پیپلز پارٹی کے وزیر بلدیات سعید غنی نے یقین دلایا تھا کہ حکومت متبادل انتظامات کرے گی لیکن کب اس کا علم نہیں۔

اب تو تحریک انصاف اور سندھ صوبائی حکومت نے عدالت عظمیٰ میں جانے کا فیصلہ کرلیا اور نظرثانی کی درخواست دائر کی جارہی ہے، ایم، کیو، ایم نے بھی تحفظات کا اظہار کردیا جبکہ میئر وسیم اختر کہتے ہیں یہ عدالت عظمیٰ کے حکم پر ہو رہا ہے۔

ادھر پنجاب میں بھی عدالتی ہدائت پر عمل کا اعلان کیا گیا، یہاں کے لئے صرف عدالت عظمیٰ ہی نہیں عدالت عالیہ سے بھی حکم جاری ہوا، لاہور ہائی کورٹ کے فاضل جج کے حکم کے مطابق لاہور کی مرکزی سڑکوں کو ماڈل سڑکوں کے طور پر متعین کردیا گیا اور لاہور کی شاہراہ قائد اعظم (مال روڈ) کا پہلا حسن بحال کرانے کے احکام بھی دیئے جارہے ہیں تاہم لاہور اور پنجاب کے دوسرے شہروں میں کراچی جیسا منظر نظر نہیں آیا، لاہور میں ان دنوں شاہ عالم مارکیٹ میں تجاوزات کے خلاف مہم جاری ہے، تاہم یہاں مزاحمت کا سامنا ہے تاجر ڈٹ کر کھڑے ہوگئے ہیں کام جاری ہے، ویسے خود تاجر بھائیوں کو بھی غور کرنا چاہئے کہ 1947ء میں شاہ عالمی جل جانے کے بعد پھر سے آباد ہوئی اور ایل، ڈی، اے کی طرف سے یک رویہ سڑک کو دو رویہ کرکے دوکانیں بھی تعمیر کی گئیں، بازار کو باقاعدہ مارکیٹ کی شکل دی گئی اور برآمدوں کے علاوہ سڑک کے دونوں کناروں پر ٹائیل لگا کر یہاں بھی پیدل چلنے کا راستہ بنایا گیا، لیکن بتدریج برآمدے اور اس کے بعد پیدل چلنے کی کھلی جگہ پر کاروبار شروع ہوا اور پھر یہ راستے بھی مارکیٹ ہی بن گئے، پہلے سے موجود دوکانوں کو ری سٹرکچر کرلیا گیا کہ پیدل چلنا انتہائی مشکل ہوگیا، یوں بھی گنجانی بڑھ جانے سے سانس تک لینا دشوار ہوگیا، حد تو یہ ہے کہ شاہ عالمی میں رفاہ عام کے لئے بنائے گئے بیت الخلاء اور ڈسپنسری بھی دوکانوں کی شکل اختیار کرگئیں۔یہ صرف شاہ عالمی ہی کا المیہ نہیں پورے لاہور میں یہی عمل کیا گیا، فٹ پاتھ اور تین تین چار چار فٹ سڑک پر بھی کاروبارشروع ہوگیا، اس پرمستزاد یہ کہ عارضی تجاوزات کی بھی بھرمار ہوتی چلی گئی، ریڑھیوں نے جگہ جگہ جمعہ بازار لگا لئے۔

اب جو تجاوزات کے خلاف مہم چلی تو ابتدائی تین چار دنوں کے بعد ہی یکایک ختم بھی کردی گئی اور کئی روز بعد شاہ عالمی سے شروع کی گئی ، اب اگر پس منظر پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ یہ تجاوزات ملی بھگت کا نتیجہ ہیں، لاہور میونسپل کارپوریشن اور ایل، ڈی، اے کے عملے نے نہ صرف آنکھیں موند لیں بلکہ تجاوزات قائم کرنے میں باقاعدہ شراکت کی۔ بڑے افسروں نے کمرشلائیزیشن کے نام پر کروڑوں کمائے آج اگر ایل، ڈی، اے کی کسی بھی سکیم میں چلے جائیں تمام سڑکوں پر بنی عمارتیں کمرشل کردی گئی ہیں، خود ایل، ڈی، اے کو تو کمرشل فیس کی صورت میں آمدنی ہوئی تاہم عملے نے بھی خوب ہاتھ رنگے، اسی طرح عارضی تجاوزات والے تو ایل، ڈی، اے اور کارپوریشن کے عملے کو باقاعدہ ماہانہ بھتہ دیتے ہیں، وہ بڑے ٹھاٹھ سے وصول بھی کرتے ہیں، کارکردگی دکھانے کے لئے کبھی کبھی ریڑھیاں اور کرسیاں اٹھا کر بھی لے جاتے ہیں ہر دو شعبوں کے تہہ بازاری والے خود بلڈنگوں کے مالک بن چکے ہیں جبکہ تجاوزات ناسور کی طرح شہر کے سینے میں زخم کئے ہوئے ہیں، تجاوزات کے خلاف مربوط مہم کے ساتھ یہ بھی لازم اور ضروری ہے کہ اس برائی میں شامل کارپوریشن اور ایل، ڈی، اے کے عملے کو بھی احتساب کی زد میں لایا جائے اور مستقبل کے لئے اہتمام کیا جائے کہ یہ حضرات پھر سے ایسا نہ کراسکیں، اگر اہم منصوبہ دیکھنا ہو تو جوہر ٹاؤن جائیں اور لاہور شہر کی فصیل کے اِردگرد کی سیر کریں، آپ کو سبزہ زار پر بلڈنگیں نظر آئیں گی اور بہترین سرکلر باغ کہیں دکھائی نہیں دے گا، تجاوزات کے خلاف مہم شروع ہوئی تو کہہ دیا گیا تھا کہ بن نہ پائے گی کہ چور ہی چوکیدار بھی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -