پاکستان کی معاشی صورتحال ایندھن درآمد کرنے کی اجازت نہیں دیتی : اختر ملک

پاکستان کی معاشی صورتحال ایندھن درآمد کرنے کی اجازت نہیں دیتی : اختر ملک

  

لاہور(سٹی رپورٹر)حکومت سستی اور صاف ستھری توانائی کی فراہمی کے لیے بھرپور کام کر رہی ہے۔ پوری دنیا متبادل ذرائع اور توانائی پر منتقل ہو رہی ہے ہمیں بھی متبادل ذرائع سے استفادہ کرنا ہوگا۔ نیٹ میٹرنگ بہترین طریقہ ہے عوام کو اس کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ پاکستان کی معاشی صورتحال ایندھن کی درآمدگی کی اجازت نہیں دیتی ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر توانائی محمد اختر ملک نے یونیفائیڈ میڈیا کلب کے زیر اہتمام "پاکستان کی توانائی کی صورتحال" کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے کیا۔ اس موقع پر امریکی تھنک ٹینک کے نمائندے سائمن نکولس نے پاکستان کی توانائی صورتحال پر رپورٹ پیش کی۔ پاکستان کے توانائی سیکٹر پر یہ کسی غیر ملکی تھنک ٹینک کی پہلی مفصل اور بھرپور رپورٹ ہے۔ سیمینار سے صدر یونیفائیڈ میڈیا کلب محمد حسان، محمد یاسین اور ہارون اکرم گل نے بھی خطاب کیا۔ صوبائی وزیر توانائی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پیدا ہونے والی بجلی کا ایک بڑا حصہ پبلک استعمال کرتی ہے جبکہ دیگر دنیا میں انڈسٹری پہلی ترجیح ہے۔ توانائی کے بحران کے باعث پاکستان کی انڈسٹری کا ایک بڑا حصہ بنگلہ دیش اور ملائیشیا شفٹ ہو چکا ہے۔صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ توانائی ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ انھوں نے کہا جرمنی جیسے ملک میں جہاں سورج بھی مکمل نظر نہیں آتا وہاں پر بھی 80 ہزار میگاواٹ پیدا کر رہے ہیں۔ موجودہ حکومت صورتحال کا مکمل ادراک رکھتے ہوئے متبادل توانائی پر توجہ کیے ہوئے ہے۔ پاکستان معاشی صورتحال ایندھن کی درآمدگی کی اجازت نہیں دیتی۔ انھوں نے کہا کہ ٹی آئی حکومت عوام کے بہترین مفاد کے لیے کام کرے گی۔ بنگلہ دیش میں انڈسٹری کو ترجیح دی گئی ہے یہ انکی ترقی کی وجہ ہے۔ ہمیں بھی گھر چلانے کے لیے مکان کو ترجیح دینا ہوگی۔ حکومت کی سستی اور صاف توانائی پر بھرپور توجہ ہے اور اس کے لیے قانون سازی جاری ہے۔ قائد اعظم سولر پارک کی کاسٹ اور دیگر دنیا کے منصوبوں کی کاسٹ میں بہت فرق آ رہا تھا۔ ہم لوگوں کے پیسوں کے کسٹوڈین ہیں۔ ساہیوال کول پلانٹ کا بوائلر تبدیل کرکے مقامی کوئلہ استعمال کیا جائے گا۔ قطع نظر اس بات کے کہ کس حکومت کا منصوبہ تھا۔ عوامی فلاح کے منصوبے جاری رہیں گے۔انسٹیٹیوٹ آف انرجی، اکنامک اینڈ فنانشل انالسز کے ماہر سائمن نکولس نے کہا کہ پاکستان کو 2030ء تک اپنی توانائی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے سولر اور ونڈ پاور سے استفادہ کرنا ہوگا۔ پانی اگرچہ سستا ترین ذریعہ ہے لیکن بڑے ڈیم بنانے میں وقت اور فنڈ درکار ہوتے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی متبادل ذرائع توانائی بہترین ذریعہ ہیں

اختر ملک

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -