سیلاب یا انقلاب؟

سیلاب یا انقلاب؟
سیلاب یا انقلاب؟

  

صرف چند لوگوں نے سرمایہ کے بل بوتے پر پوری دُنیا کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔ عہد حاضر میں بے دین تو کیا ، فی الواقع معروف دیندار طبقہ بھی زرہی کا غلام ہے۔ الا ماشاء اللہ یہ جو کچھ بھی کرتے ہیں، بے نام خدا یا بنام خدا ’’ماحصل‘‘ زر! ’’جمہور مسلمانوں کا سرچشمہۂ دین براہِ راست قرآن و سنت کبھی نہیں رہا،اِس لئے ہم تک اسلام محض اسلام کے نام پر پہنچا،جس میں اپنے اپنے گروہی مفادات کو بھی شامل کر لیا گیا ہے، جبکہ دینِ فطرت آفاقی سطح پر ہمیشہ کے لئے ظلم کے خلاف زندہ تحریک ہے!

چند برس ہوتے ہیں ، غالباً 2006ء کے لگ بھگ ایک عالمی سروے میں یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ دُنیا بھر میں 946 ارب پتی موجود ہیں ۔ ان ارب پتیوں کا تعلق 53 ممالک سے ہے ، لیکن ان کی سب سے زیادہ تعداد(415)امریکہ سے تعلق رکھتی ہے ۔ جدول میں پیش کئے گئے اعدادوشمار ڈالرز میں تھے ۔ اگر ہم ڈالرز کو روپیوں میں تبدیل کر لیں تو متذکرہ ارب پتیوں کو بآسانی کھرب پتی قرار دے سکتے ہیں۔

بنیادی طور پر سروے رپورٹ غلط تھی ،کیونکہ اس میں صرف ان لوگوں کے نام شامل تھے، جنہوں نے اثاثوں کو ظاہر کیا۔ بالفاظِ دیگر وہ جائیداد، جو مالکان کسی نہ کسی طرح اور کسی نہ کسی حد تک منظرعام پر لے آئے ۔ اس میں کالے دھن اور گھوسٹ پراپرٹی کا کہیں کوئی ذکر نہیں۔ تب جائز و ناجائز ارب پتیوں کی تعداد ہزاروں میں تھی، جواب لاکھوں میں جاپہنچے ہیں۔ اس کے باوصف آبادی میں ان کی شرح آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ اگر فہرست میں وہ لوگ بھی شامل کر لئے جائیں ،جو سفید دھن نہیں رکھتے تو تناسب مزید گرجائے گا۔

پوری دُنیا میں قارون کے خزانوں کی ایک ہی نوعیت ہے ۔ ایک طرف وسائل ہی وسائل ہیں ۔ دوسری طرف مسائل ہی مسائل! چند گھرانوں کے لئے پوری کائنات تھال میں رکھی پڑی ہے ، باقی لوگوں کے لئے آہوں اور کراہوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔

تمام ممالک میں پاکستان کی حالت سب سے گئی گزری ہے۔یورپ میں فلاحی و رفاہی سلطنتوں کا تصور پایا گیا ہے، لہٰذا لوگوں کے زخم ابتدائی انسانی ضروریات کی تکمیل سے مندمل ہو تے جاتے ہیں ۔ کئی ممالک میں قانون کی حکمرانی قائم ہے، بایں سبب سرمایہ داروں کے انسانی لہو پینے کا قرینہ کافی ’’ مہذب‘‘ اور بظاہر قابل برداشت ہے !

پاکستان میں قانون کی حکمرانی ہے اور نہ فلاحی و رفاہی ریاست کا تصور ! یہ ہے نہ وہ !! غالب ترین اکثریت خطِ غربت سے نیچے جانوروں سے بھی بدتر دن رات گزار رہے ہیں ۔ گویا زندہ ضرور ہیں، مگر زندگی نہیں رکھتے ۔ یہ موت سے پہلے ہی مر چکے ہوئے ہیں۔ بقول شاعر!

زہر اس ماحول کا مجھ میں کچھ اتنا بھر گیا

سانپ نے کاٹا مجھے اور کاٹتے ہی مر گیا!

امریکی ناول نگار جان سٹین بک نے لکھا تھا : ’’جب دولت چند ہاتھوں میں جمع ہو جائے تو انقلابات آجاتے ہیں ‘‘ ۔ وطن عزیز میں بھی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور واقعات کی رفتار انتہائی تیز ہو چکی ہے ۔ کیا پاکستان میں بھی انقلاب سر اٹھا رہا ہے؟ انقلاب کے بارے میں فی الحال کچھ کہنا روا نہیں،البتہ انقلاب سے پہلے کی سرگوشیاں صاف سنائی دینے لگ پڑی ہیں۔

’’پاکستان میں وہ ہونے جا رہا ہے ،جو کبھی نہیں ہوا۔ اب وہ نہیں ہو گا ، جو پہلے ہوتا چلا آیا ہے‘‘ ۔ یہ ایک پرانی بات ہے ، جو یار، روز بروز نئے لب و لہجے میں دہرادیا کرتے ہیں؛ اور خوش فہم پردہ عیب میں سے کسی نجات دہندہ کے ظہور کا انتظار کرنے لگ جاتے ہیں، حالانکہ امکانی طور پر اس معاشرے میں ابھی کم از کم اگلی ربع صدی تک کچھ بھی نہیں ہو نے والا! میرا خیال ہے، 2050 ء کے نزدیک پاکستانی معاشرہ انقلابی کروٹ لے گا۔

موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ عمران خان نے عوام کو سہانے خواب دکھائے ہیں ۔ اگر بالفرض یہ پورے نہ ہوئے، جو اصلاحی طریق کار سے پورے ہوتے دکھائی نہیں دیتے ، تو شدید اضطراب بلکہ انتشار پیدا ہو گا ۔

اب پیچھے مڑ کے کس نے دیکھنا ہے ، اور کیوں؟

ہمیں بخوبی معلوم ہونا چاہئے کہ انقلاب اور سیل آب میں فرق ہوتاہے ۔ سیلاب خود آتا اور راستہ بناتا ہے ، جبکہ انقلاب لایا اور کامیاب بنایا جاتاہے۔ بعض کج فہم انقلاب کو سیلاب پر قیاس کرتے ہیں۔ غیر منظم ، غیر مربوط ، بے سمت اور بے مقصد انقلاب!

کل تک اس دھرتی پر امیدوں کے چراغ جل رہے تھے، اور یہ کہنا کچھ غلط نہیں ہو گا کہ کسی نہ کسی حد تک خوش فہمی کی ہوا اب بھی چل رہی ہے ۔ وہ لوگ بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے چپ بیٹھے ہیں کہ جن کے پاس کھو دینے کو کچھ نہیں اور پالینے کو پوری دنیا پڑی ہے، لیکن تابہ کے؟

رہے گی کب تلک وعدوں میں قید خوشحالی

ہر ایک بات میں کل کیوں، کبھی توآج بھی ہو

مزید : رائے /کالم