ملتان کی پرانی تہذیب

ملتان کی پرانی تہذیب
ملتان کی پرانی تہذیب

  

قیام پاکستان کے اوائل میں مشرقی پنجاب سے جبراً نکالے گئے مہاجرین کی نئی آباد کاری کا مسئلہ بڑا سنگین تھا،جس کے ہاتھ میں کوئی اچھا گھر، اچھی دکان، اچھا کارخانہ اور اچھی زمین آ گئی اس کی تو موجیں لگ گئی تھیں۔ کئی فراوانی سے آراستہ لوگ یہاں آ کر رُل گئے اور بے یارو مددگار ہو گئے تھے۔ اگرچہ دُور اندیش مخلص لوگوں نے مشرقی پنجاب کے مہاجروں کو ضلع وار آباد کرنے کی مہم چلائی تھی، مگر وہ ناکام ہو گئے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ ’’جہاں سینگ سمائے‘‘ کے تحت لوگ مختلف مقامات پر آباد ہو گئے تھے۔اس کا سب سے بڑا نقصان ہماری تہذیب و تمدن کا ہوا اور ہماری معاشرت کی اخلاقی قدریں ناپید ہو کر رہ گئی تھیں۔1947ء میں مشرقی پنجاب سے ہجرت کرنے والوں کو اگر ضلع وار آباد کر دیا جاتا تو ہماری معاشرتی اور اخلاقی روایات کے نقوش تابندہ رہ جاتے۔

خیر ’’ گزشت آنچہ گذشت‘‘ میری رہائش ان دِنوں مظفر گڑھ میں تھی اور حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور استاد محترم حضرت مولانا خیر محمد جالندھری مدرسہ خیر المدارس ملتان کی زیارت کے لئے حاضری کی سعادت نصیب ہوتی رہی۔ اِسی اثناء میں وادئ صحافت میں قدم رکھنے کا موقع ملا، پہلے روزنامہ ’’زمیندار سدھار‘‘ ملتان میں چند ماہ ادارت کے فرائض انجام دیئے۔

پھر ملتان سے ہفت روزہ ’’غریب‘‘ جاری کیا تو مولانا عبدالرشید نسیم(علامہ طالوت) اور مولانا سید عطاء المنعم بخاری کی رفاقت میں وادئ صحافت میں آبلہ پائی ہوئی۔

اس اثناء میں ملتان کی تہذیب و معاشرت کے مشاہدے کا موقع ملا، میرے لئے سب سے انوکھی اور لائق توجہ یہ بات تھی کہ شہر میں چلنے والے تانگے میں اگر عورتیں سوار ہوتیں تو پیلے رنگ کے کپڑے سے تانگے کی چھت سے سواریوں تک کا حصہ ڈھانپ دیا جاتا تھا،کوئی تانگہ اس پردے کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا تھا، حتیٰ کہ ملتان شہر کے بڑے خاندانوں(قریشیوں، مزاریوں، لغاریوں اور مخدوموں)کی زنانہ سواریوں کے لئے ریلوے سٹیشن سے باہر تانگہ اڈے سے لے کر ریلوے پلیٹ فارم اور ریلوے کے ڈبے تک زنانہ سواریوں کے لئے پیلے رنگ کے موٹے کپڑے کے پردے کا انتظام ہوتا تھا۔پردہ دار عورتوں کے محض چہرے کا نہیں،پورے جسم کا پردہ ہوتا تھا۔

علاوہ ازیں یہ اخلاقی روایت ملتان ڈویژن کے شہروں مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور وغیرہ میں رائج تھی، مکانات تعمیر کرنے والے معماروں اور مزدوروں کے لئے لازم تھا کہ چھت پر کام شروع کرتے وقت بلند آواز سے مطلع کریں کہ ’’پردے والو! پردہ کر لو‘‘ ہم چھت پر کام شروع کرنے والے ہیں۔اسی طرح اگر آبادی میں کوئی کھجور کا درخت ہوتا تو پھل اتارنے کے لئے کھجور کے تنے پر چڑھنے والا یا پھل دار درخت سے پھل توڑنے والا بلند آواز سے پردہ داروں کے لئے اعلان کیا کرتا تھا۔

قیام پاکستان کے ابتدائی دِنوں میں لوگ اسلامی معاشرت اور اخلاقی قدروں کے تحفظ کی کوشش کیا کرتے تھے،رفتہ رفتہ فرنگی تہذیب و معاشرت نے ہماری اسلامی معاشرت تباہ کر کے رکھ دی اور حضرت سیدنا رسول اکرمؐ کے ارشاد کے مطابق کہ اُمت مسلمہ کے لوگ غیر قوموں کی اس حد تک نقالی کریں گے کہ ان کا لباس، ان کی خوراک، رہنے سہنے کے طریقوں میں مسلمان نہیں، بلکہ یہودی، عیسائی اور ہندو نظر آئیں گے۔

اِس سلسلے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ معاشرے میں اسلامی معاشرت کے نفاذ اور اخلاقی قدروں کے تحفظ اور فروغ کے سلسلے میں کوئی تنظیم اور ادارہ ایسا نہیں،جو مستقل مزاجی کے ساتھ ایک منظم تحریک کی شکل میں سرگرم عمل ہو اور غیر اخلاقی طرزِ عمل اختیار کرنے والوں کو اس کا ادراک اور علم ہو کہ ہماری سرگرمیوں کے خلاف باقاعدہ تحریک موجود ہے اور ہمہ وقت اس کا ضرور خیال رکھیں گے کہ ذرا احتیاط کے ساتھ اپنا کام کرنا چاہئے۔

ناموں کی ناپسندیدگی

بھارتی رہنما جھوٹے پروپیگنڈے کے زور سے دُنیا کے لوگوں کو یہ باور کرانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ ان کا ملک سیکولر نظریات کا حامل ہے، جبکہ عملاً صورت حال یہ ہے کہ:

*۔۔۔ بھارت میں اعتدال پسند اور مرنجاں مرنج مسلم سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک پر تبلیغ اسلامی کی پاداش میں نہ صرف پابندی عائد کر دی گئی ہے، بلکہ ان کی جائیداد بھی ضبط کر لی گئی ہے۔

علاوہ ازیں خبر یہ ہے کہ بھارت سرکار نے مغلیہ دور کے آباد کردہ شہر ’’الٰہ آباد‘‘ کا نام بھی تبدیل کر دیاہے،اس سے بھارتی نیتاؤں کے خبث باطن، تعصب اور تنگ نظری کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔مسلمانوں کے نام سے اظہارِ ناپسندیدگی کی بھارت کی تنگ نظری کی بہت سی مثالوں میں سے چند درج ذیل ہیں:

*۔۔۔ جن دِنوں بھارت کے معتدل مزاج رہنما ڈاکٹر مالک رام نے مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کے ہاتھ پر ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا اور بھارتی سرکار کی طرف سے مصر میں سفیر کی حیثیت سے متعین تھے، ان دِنوں ان کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی تو اس کا نام ’’بشریٰ ‘‘ رکھا گیا تھا،اِسی دوران وہ اپنی جنم بھومی بھارت میں آئے تو ان کی والدہ نے کہا: پتر مالک رام، یہ تم نے مسلمانوں والا نام بشریٰ کیوں رکھا ہے؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا، ماتا جی! آپ نے بھی تو میرا نام مالک مسلمانوں والا ہی رکھا ہے۔

ناموں کے تذکرے پر لطیفہ یاد آ گیا۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی مجلس میں تمام مکاتب خیال اور مسالک کے لوگ آ کر رونق محفل دوبالا کیا کرتے تھے، ایک دن ان کا مداح سیف علی حاضر مجلس ہوا تو نامور مزاح نویس علامہ حسین میر کاشمیری بھی وہاں موجود تھے۔شاہ جی نے سیف علی سے پوچھا۔ سیف! اتنے دن کہاں غائب رہے؟ ابھی سیف علی نے جواب نہیں دیا تھا کہ علامہ حسین میر نے شاہ صاحب کو متوجہ کرتے ہوئے کہا۔ شاہ جی! سیف علی سے کہو کہ اپنا نام تبدیل کر لے، کیونکہ یہ دور سیف و سنان کا نہیں، توپ و تفنگ کا ہے۔

ٹھٹھرتی سردی کا موسم تھا، رات کے بارہ بج گئے تھے، ایک مسافر نے منجا بسترا ہوٹل میں قیام کرنے کے لئے منیجر صاحب کے ساتھ رابطہ کیا، منیجر نے رجسٹر میں نام درج کرتے وقت اس سے پوچھا کہ نام کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میرا نام ’’قادر ال قادری سہروردی نقشبندی مرید سگاڑا شریف‘‘ ہے۔ منیجر نے معذرت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اتنے آدمیوں کے لئے ہوٹل میں گنجائش نہیں ہے۔

قیام پاکستان کے بعد شہروں اور قصبوں کے نام تبدیل کرنے کی زبردست لہر آئی تھی۔ اسی لہر کے دوران لائل پور کا نام ’’فیصل آباد‘‘ رکھ دیا گیا تھا اور ’’چوہڑ کانے‘‘ کا نام ’’فاروق آباد‘‘ قرار پایا تھا، فیصل آباد گوجرہ کے درمیان ’’ پکا اَنھا‘‘ ریلوے اسٹیشن تھا، اس کا نام تبدیل کرنے کی مہم کا آغاز ہوا تو لوگوں سے نیا نام رکھنے کی تجویز طلب کی گئی۔ میرے پاس بیٹھے ایک بچے نے معصومانہ لہجے میں کہا اگر ’’پکا اَنھا‘‘ اچھا نہیں لگتا تو ’’کچا اَنھا‘‘ رکھ لو، آپے پک جائے گا۔

مزید : رائے /کالم