مولانا ظفر علی خان قائد اعظم ؒ کے بااعتماد ساتھی ، تحریک پاکستان کے متحرک رہنما تھے: رفیق تارڈ

مولانا ظفر علی خان قائد اعظم ؒ کے بااعتماد ساتھی ، تحریک پاکستان کے متحرک ...

  

لاہور (جنرل رپورٹر) مولانا ظفر علی خان قائداعظمؒ کے بااعتماد ساتھی اور تحریک پاکستان کے متحرک رہنما تھے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی اسلامیان ہند کی فلاح وبہبود کیلئے وقف کر رکھی تھی۔مولانا ظفر علی خان بہت بڑے عاشق رسولؐ تھے۔ آپ کی سیات اور صحافت عہد حاضر کے سیاسی رہنماؤں اور اہلِ قلم کے لیے مینارۂ نور کی مانند ہے جس کی روشنی میں وہ اپنے فکر و عمل کو پرکھ سکتے ہیں۔آپ کے اخبار ’’زمیندار‘‘ نے مسلمانان برصغیر میں آزادی کی تڑپ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ان خیالات کااظہار مقررین نے ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان‘شاہراہ قائداعظمؒ لاہور میں تحریک پاکستان کے رہنما‘ بابائے صحافت‘ قادرالکلام شاعر اورآل انڈیا مسلم لیگ کے بانی رکن مولانا ظفر علی خان کی62ویں برسی کے سلسلے میں منعقدہ خصوصی نشست کے دوران کیا۔ نشست کا اہتمام نظرےۂ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔ اس موقع پرتحریک پاکستان کے سرگرم کارکن اور وائس چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد، ممتاز دانشور وصحافی مجیب الرحمن شامی، چیئرمین مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ خالد محمود ، سیکرٹری جنرل رؤف طاہر، صدر نظریۂ پاکستان فورم برطانیہ ملک غلام ربانی اعوان ،اکرم اعوان، چودھری غلام ربانی، اساتذۂ کرام اور طلبا وطالبات سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد موجود تھی ۔ نشست کی نظامت کے فرائض نظرےۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے اداکئیتحریک پاکستان کے مخلص کارکن ‘سابق صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان و چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ نے نشست کے شرکاء کے نام اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ مولانا ظفر علی خان ایک ہمہ جہت شخصیت تھے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ ان کی خداداد قابلیت اور صلاحیتوں کے بڑے معترف تھے۔ تحریکِ پاکستان میں ان کا بے مثال کردار ہماری قومی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہے۔انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کی تنظیم سازی اور اسے ایک عوامی جماعت کا روپ دینے کی خاطر برصغیر کے دُوردراز گوشوں کا سفر طے کیا۔ 23مارچ1940ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے تاریخ ساز اجلاس میں قراردادِ پاکستان کا فی البدیہہ اُردو ترجمہ کیا۔ اپنے اخبار ’’زمیندار‘‘ کو اس قرارداد کی تشریح اور تشہیر کے لیے بھرپور انداز میں استعمال کیا۔پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان زبردست اخبار نویس، مقرر، مترجم، شاعر تھے۔ انہوں نے بھرپور زندگی گزاری اور اپنی زندگی کا بیشتر حصہ دین اسلام کی ترویج واشاعت میں گزارا۔آپ دوقومی نظریہ کے بہت بڑے داعی تھے۔ مولانا ظفر علی خان نے مسلمانان برصغیر کے اندر جوش و ولولہ پیدا کردیا۔ آپ زندگی کے جس شعبہ میں بھی گئے وہاں نمایاں اور اعلیٰ مقام حاصل کیا۔مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان ہماری قومی تاریخ کا ناقابل فراموش کردار ہے۔آپ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اپنی محنت اور ذہانت کے بل بوتے پر زندگی میں کامیابیاں حاصل کیں ۔ انہوں نے نئی نسل کو بھی جہد مسلسل اور تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دی ، ان کا نئی نسل کیلئے پیغام ہے کہ اچھے طالب علم بنیں۔ مولانا ظفر علی خان نے اپنے شعر ’’خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی ، نہ ہو خیال جس کو آپ اپنی حالت کے بدلنے کا ‘‘ کے ذریعے قوم کو بہترین پیغام دیا اور آپ نے مسلمان قوم کی حالت بدلنے میں اپنا نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر دن رات جھوٹ بولا جا رہا ہے اور گالی دینا باقاعدہ بزنس بن گیا ہے۔سوشل میڈیا پر جھوٹ کی یلغار ہے اور کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہے۔ مشاہیر تحریک پاکستان نے اتنی قربانیاں اس لیے دی تھیں کہ ایسا ملک حاصل ہو جہاں ہم اپنی شاندار اسلامی تہذیب کی حفاظت اور اس کے مطابق زندگی بسر کریں۔ مولانا ظفر علی خان عالم اسلام کے اتحاد کے داعی تھے۔ آپ نے کبھی خوف نہیں کھایا اور نہ کسی کے آگے جھکے۔مولانا ظفر علی خان نے اپنی تحریر و تقریر سے مسلمانان برصغیر میں آزادی کی تڑپ پیدا کی ۔ وہ ایک بے باک صحافی تھے اور ہمیشہ کلمہ حق بلند کیا۔ موجودہ اخبار نویسوں کیلئے مولانا ظفر علی خان ایک رول ماڈل ہیں۔ انہوں نے قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن اپنے نظریات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ خالد محمود نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان نے قیام پاکستان کی تحریک میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ آپ 1906ء میں مسلم لیگ کے تاسیسی اجلاس میں شریک تھے جبکہ 1940ء کے تاریخی اجلاس میں بھی آپ کو شرکت کا اعزاز حاصل ہے۔ آپ نے صحافت کو مقدس مشن اور فریضہ سمجھ کر ادا کیا ۔ رؤف طاہر نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان نے تحریک پاکستان میں عظیم الشان کردار ادا کیا۔ آپ کا شمار مسلم لیگ کے بانی اراکین میں ہوتا ہے۔ آپ قائداعظمؒ کے معتمد ساتھی تھے۔ شاہد رشید نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان کا شمار قائداعظمؒ کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ آپ نے اپنی جان و مال اور تن من دھن ملت اسلامیہ کیلئے وقف کیا ہوا تھا۔ پروگرام کے آخر میں عثمان احمد نے مولانا ظفرعلی خان کی بلندئ درجات کیلئے دعا کروائی۔

مولانا ظفر

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -