اُترن

اُترن
اُترن

  

سب نے دیکھ لیا کہ صرف تبدیلی کا نعرہ لگانے سے تبدیلی نہیں آتی ،آج لوگ پوچھتے ہیں سودن گزر گئے کوئی تبدیلی تو آئی نہیں، حکومت کو بھی اب مان لینا چاہئے کہ بنیادی تبدیلیاں کئے بغیر کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی، یعنی آپ قوانین بدلیں اور نہ دقیانوسی ضابطے تبدیل کریں، مگر توقع تبدیلی کی رکھیں تو تبدیلی کیسے آ سکتی ہے؟ یہ کالم لکھتے ہوئے مجھے سوشیالوجی کے ممتاز پروفیسر نذیر احمد انصاری بہت یاد آ رہے ہیں، جن کا کچھ عرصہ پہلے ملتان میں انتقال ہوا ہے۔

ایک ملاقات میں انہوں نے پاکستان کے مسائل کی کچھ ایسے نشاندہی کی تھی کہ مَیں آج تک اُن کی باتیں نہیں بھلا سکا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ جب وہ اپنی تحقیقی سرگرمیوں کے سلسلے میں برطانیہ گئے تو ان کی ملاقات ایک برطانوی پروفیسر سوان سے ہوئی ،جو سٹرٹیجک سٹڈیز کے ماہر تھے۔

دورانِ ملاقات جب پروفیسر نذیر انصاری نے پروفیسر سوان سے پوچھا کہ ایک چھوٹی سی ایسٹ انڈیا کمپنی بنانے کے بعد انگریز کس طرح ایک وسیع و عریض خطۂ ارضی کے حکمران بن بیٹھے؟ تو پروفیسر سوان نے ایک زہرخند مسکراہٹ اپنے ہونٹوں پر بکھیر کر کہا، آپ میں محکومی کی خوبیاں تھیں، اس لئے ہم حاکم بن گئے۔ پروفیسر نذیر انصاری نے اپنی خفت مٹانے کے لئے پروفیسر سوان سے کہا،اگر ایسی بات تھی تو پھر انگریزوں نے برصغیر سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیوں کیا؟ نذیر انصاری نے بتایا تھا کہ یہ سن کر سوان کے چہرے پر پھر زہر خند مسکراہٹ عود کر آئی۔ انہوں نے کہا:’’ہمیں یہ بات بہت پہلے معلوم ہو چکی تھی کہ اب جغرافیائی پھیلاؤ یا زمین پر تسلط جمانے سے اپنی حکمرانی برقرار نہیں رکھی جا سکتی، حقیقی حکمرانی کے لئے ذہنوں کو تسخیر کرنا ضروری ہے، اِس لئے ہم نے ہندوستان میں کلوننگ کی، اپنے جیسے لوگ بنائے، ان کے جسموں کی بجائے ذہنوں کو غلام بنایا اور آج ہم یہ بات فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ برطانیہ کی سب سے عمدہ نقل برصغیر پاک و ہند میں نظر آتی ہے‘‘۔

مجھے یاد ہے پروفیسر نذیر انصاری یہ بتاتے ہوئے خاصے جذباتی ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ پروفیسر سوان سے اس موضوع پر میری خاصی گرما گرمی ہوئی تھی۔ مَیں نے اسے باور کرایا کہ کم از کم پاکستانی انگریز ذہنیت کے زیر اثر نہیں، تم ایک چھوٹی سی ایلیٹ کلاس کو بنیاد بنا کر پوری قوم کے بارے میں فیصلہ صادر نہیں کر سکتے۔ پروفیسر انصاری نے بتایا کہ میری یہ جوشیلی گفتگو سُن کر بھی پروفیسر سوان کے چہرے پر غصے کے کوئی آثار نظر نہ آئے، بلکہ اس نے سرد لہجے میں جواب دیتے ہوئے کہا: ’’ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اور اختلاف رائے کو بُرا نہیں سمجھتے،اِس لئے آپ کو اپنے خیالات کے اظہار کا حق حاصل ہے، مگر یہ بات نہ بھولو کہ جس قوم کے پاؤں میں غربت اور جہالت کی زنجیریں پڑی ہوں،اس پر ایک چھوٹی سی اقلیت ہی حکمران ہوتی ہے اور یہی اقلیت پوری قوم بن کر فیصلے کرتی ہے۔

پروفیسر نذیر انصاری کی یاد آج اس لئے آئی کہ ہم ایک طرف معاشی حالات کی وجہ سے آئی ایم ایف کے آگے غلامانہ کورنش بجا لا رہے ہیں اور دوسری طرف انگریزوں کی ہو بہو کاپی بیورو کریسی ہمیں غلام بنائے ہوئے ہے۔ جہاں مُلک کے وزیر اعظم کو یہ کہنا پڑے کہ بیورو کریسی کی سرد مہری کو برداشت نہیں کریں گے، وہاں اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ انگریزوں کے چھوڑے ہوئے نظام میں افسر شاہی کس قدر اس نظام پر حاوی ہے۔

مُلک کا چیف ایگزیکٹو بالواسطہ طور پر تسلیم کر رہا ہے کہ بیورو کریسی نے محاذ بنا رکھا ہے۔ انگریزوں نے دفتری ضابطے کچھ اس قسم کے بنائے کہ سیکرٹری وزیر پر حکمرانی کرے۔گویا انگریز جو جمہوری نظام ہمارے لئے چھوڑ کر گیا اُس میں ایسے خلا چھوڑ گیا،جو برطانیہ کی جمہوریت میں نظر نہیں آتے،لیکن ہمارے ہاں رائج جمہوریت میں اُن کے سوا نظر ہی کچھ نہیں آتا۔انگریزوں نے جو ’’کلوننگ‘‘ کی تھی وہ نسل در نسل بیورو کریسی میں آگے بڑھ رہی ہے۔

پروفیسر نذیر انصاری کی باتیں یاد آئیں تو بہت سی سوچیں بھی ذہن پر دستک دینے لگیں، اتنے میں محلے کی ایک عورت اپنے تین بچوں کے ساتھ گھر آ گئی اور میری اہلیہ کو دُنیا جہان کے دکھڑے سنانے لگی۔مَیں اس کی باتیں سننا نہیں چاہتا تھا، لیکن وہ ووٹ مانگنے والے امیدواروں کی طرح اونچی آواز میں بول رہی تھی۔ پھر اُسی کا ایک جملہ میرے کانوں میں پگھلے ہوئے سیسے کی طرح جم سا گیا:’’ بیگم صاحبہ اب تو موئے انگریز کی اُترن بھی ہم غریبوں کے لئے مہنگی ہو گئی ہے، سردیاں آئی نہیں اور لنڈا بازار میں پرانے کپڑوں کی قیمتوں کو پَر لگ گئے ہیں‘‘۔

’’انگریز کی اُترن‘‘۔۔۔یہ الفاظ تازیانہ بن کر میرے ذہن پر برسنے لگے۔ کیا انگریز کی اُترن صرف لنڈے میں ملتی ہے۔ کیا اُترن صرف وہ گرم کپڑے ہی ہیں جو غریب ممالک کی امداد کے لئے گندے اور غلیظ ڈسٹ بنوں میں انگریز پھینک جاتے ہیں۔کیا اُترن سے تن ڈھانپنے والی قومیں فکری آزادی اور خود داری کے معانی جان سکتی ہیں؟ سوالات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ عورت کے ایک جملے سے ذہن پر حملہ آور ہو گیا۔

مَیں سوچنے لگا،جس مُلک میں ڈپٹی کمشنر کی بلیو بُک انگریز کی ڈیزائن کردہ ہو، جس مُلک کا پولیس ایکٹ 1861ء سے آگے نہ بڑھ سکا ہو، جہاں سی ایس پی افسر بننے کے لئے انگریزی میں مہارت بنیادی شرط ہو اور جہاں انگریز کی جمہوریت کے سارے عیب تو اپنا لئے گئے ہوں، خوبیوں کو ہاتھ تک نہ لگایا جاتا ہو،وہاں اُترن کی سڑاند اور بو ہی ہر طرف نظر آئے گی۔

ہماری جمہوریت انگریز کی اُترن، ہماری بیورو کریسی کی کلوننگ، ہماری پولیس گورے کے بعد کالے انگریزوں کی آلہۂ کار اور پورا دفتری نظام صدیوں پرانے دورِ غلامی کی یاد گار گلی سڑی یاد ہے۔

یہ سب سوچ کر مجھے بہت عجیب لگا کہ پروفیسر نذیر احمد انصاری مرحوم جیسا عالم بندہ انگریز پروفیسر سوان کے سامنے ایک جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے بحث کرتا رہا۔جہاں قدم قدم پر کاٹھے انگریزوں کا راج ہو، وہاں سوان کی اس بات کو کیسے جھٹلایا جا سکتا ہے کہ انگریز یہاں اب اپنے فکری بیج بو گیا ہے۔ اُسے اب جغرافیائی طور پر اس علاقے پر قبضہ جمانے کی ضرورت نہیں۔ اس سے بہتر تھا کہ پروفیسر نذیر احمد انصاری پروفیسر سوان کی بات پر یہ کہتے:ہاں، تم نے ٹھیک کہا ہے، تم نے ہماری آستینوں میں ایسے سانپ چھوڑ دیئے ہیں، جو ہمیں اندر ہی اندر سے ڈس رہے ہیں،جو ہمارے اندر استحکام پیدا نہیں ہونے دیتے، جن کا کام یہ ہے کہ ادارے مضبوط نہ ہوں، جو خود کو اصل حکمران سمجھتے ہیں،جو حکمرانوں کا ذہن تک ماؤف کر دیتے ہیں،ان سے ایسے فیصلے کرواتے ہیں، جو انہیں عوام میں غیر مقبول کر دیں، کیونکہ مقبول حکمران انہیں گوارا نہیں ہوتے، مگر سوال یہ بھی ہے کہ بیورو کریسی تو ہے ہی انگریزوں کے بنائے ہوئے کوڈ آف کنڈکٹ کی پیرو کار، ہمارے عوامی نمائندوں اور حکمرانوں نے ایسی کون سی سنجیدہ کوشش کی ہے، جس سے لگے کہ وہ ملکی نظام میں انقلابی تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں؟ کیا کبھی اس بات پر غور کیا گیا کہ ہمارے ہاں کرپشن، بری گورننس اور جمہوریت کے نام پر انتشار کی وجہ کیا ہے؟ کیا ہمارے جیسے مُلک میں انگریزی جمہوریت کا جوں کا توں ماڈل نافذ کیا جا سکتا ہے؟ کیا اس طرح ہم نے قوم کو چند فیصد اشرافیہ کا غلام نہیں بنا دیا؟ کیا ہم نہیں جانتے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کیسے برسر اقتدار آ جاتی ہے؟ کیا اندرون سندھ میں سرداری اور وڈیرا کلچر عوام کو برطانوی جمہوریت جیسا آزادانہ ووٹ کا حق دے سکتا ہے؟

اس جمہوریت کے ذریعے تو ہم سو سال بھی لگے رہیں تبدیلی نہیں آ سکتی۔

جہاں شرح خواندگی 33 فیصد سے بھی کم ہو،وہاں انگریزی جمہوریت وہی گُل کھلائے گی جو کھلا رہی ہے۔ حالت تو یہ ہے کہ خود عمران خان، جنہوں نے بائیس سال تک تبدیلی لانے کی جدجہد کی، اسی غلام جمہوریت کے باعث مجبور ہو گئے کہ ایسے لوگوں کو ساتھ ملائیں،جن کے خلاف ان کی جدوجہد رہی ہے، کیونکہ وہ پہلے دیکھ چکے تھے کہ صرف اچھے اور نئے لوگوں کو ٹکٹ دے کر انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ اب بات صرف الیکشن ریفارمز کی ہوتی ہے، حالانکہ ضرورت طریقہ انتخاب کو بدلنے کی ہے۔

یہ جمہوریت تو ایسے انتخابات کا نتیجہ بن گئی ہے، جن میں عام آدمی حصہ ہی نہیں لے سکتا۔ جن انتخابات میں صرف دولت مند طبقہ حصہ لے سکتا ہو، وہ اصل جمہوریت نہیں، بلکہ بقول پروفیسر سوان انگریزوں کی کاپی ہے، جسے وہ یہاں چھوڑ گئے ہیں۔ بقول عصمت چغتائی: جہاں برہنہ ہونے اور سردی میں ٹھٹھر جانے کا ڈر ہو،وہاں اُترن جیسی لعنت بھی ایک نعمت بن جاتی ہے‘‘۔۔۔جب ہم نے اپنے حالات کے مطابق کوئی نظام ہی نہیں بنانا تو ہمیں انگریز کی دی ہوئی اُترن پر صبر شکر کرنا چاہئے۔

مزید : رائے /کالم