شرح سود میں اضافہ سے معاشی سرگرمیاں محدود ہونگی، ڈاکٹر محمد ارشد

شرح سود میں اضافہ سے معاشی سرگرمیاں محدود ہونگی، ڈاکٹر محمد ارشد

لاہور(نیوزرپورٹر)تاجر رہنما و چیئرمین قائمہ کمیٹی ایگروبیس انڈسٹریز و ایگزیکٹو ممبر لاہور چیمبرآف کامرس ڈاکٹر محمد ارشد نے معاشی صورتحال پر خدشات کے باعث مرکزی بینک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے مانیٹرنگ پالیسی میں شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شرح سود میں اضافہ سے معاشی سرگرمیاں محدود ہونگی۔ کیونکہ شرح سود میں اضافہ سے نئی انویسٹمنٹ متاثر ہوگی اور سرمایہ تجارتی سرگرمیوں کی بجائے محفوظ منافع کیلئے بینکوں میں رکھنے کو ترجیح دی جائے گی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے صنعتکاروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

ڈاکٹر محمدارشدنے کہا کہ شرح سود میں مسلسل اضافہ کے باعث اس کی شرح10فیصد ہوگئی ہے جو خطہ میں سب سے زیادہ ہے۔شرح سود میں اضافہ سے بنکوں کے ڈیپازٹ میں تو اضافہ ہورہا ہے لیکن اس کے باعث صنعتی ترقی میں کمی واقع ہو گی کیونکہ شرح سود میں اضافہ سے صنعتی مقاصد کے لیے قرضوں میں خودبخود اضافہ ہوگیا ہے جس سے صنعتکار پریشانی کا شکار ہیں اور ان کے قرضوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔صنعتی شعبہ کے قرضوں میں اضافہ سے صنعتی برادری متاثر ہوگی اضافہ واپس لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شرح سود میں اضافہ سے عوام نئی سرمایہ کاری کی بجائے بنکوں میں رقم رکھنا زیادہ محفوظ سمجھ رہے ہیں اگر یہی رقم نئی صنعتوں کے قیام میں استعمال ہوگی تو اس سے ملکی صنعتی ترقی میں اضافہ ہوگااورملک میں روزگار کے نئے مواقع میسر آتے بے روزگاری میں کمی واقع ہوتی اورصنعتی ترقی کے باعث حکومت کے ریونیو میں بھی اضافہ ہوتا۔اس لیے شرح سود میں اضافہ واپس لیا جائے اور صنعتی شعبہ میں سرمایہ کاری کو فرو غ دیا جائے۔

مزید : کامرس