ایف بی آر کے اہلکار اور افسر ٹیکس چوروں کے کنسلٹنٹ ، ایس آر او جاری کرنے کااختیار ختم کیا جائے

ایف بی آر کے اہلکار اور افسر ٹیکس چوروں کے کنسلٹنٹ ، ایس آر او جاری کرنے ...

  

لاہور (بزنس رپورٹر) جنوب ایشیائی ممالک میں پاکستان وہ ملک ہے، جس کی جی ڈی پی میں ٹیکس کولیکشن کی شرح سب سے کم ہے،خطے کے چھوٹے ممالک بھی ہم سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کرتے ہیں اس کی کیا وجوہات ہیں۔ اِس حوالے سے روزنامہ ’’پاکستان‘‘ نے لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر ریحان سرور سے گفتگو کی جس میں انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت ایف بی آر کے کرپٹ افسروں اور اہلکاروں کو نکیل نہیں ڈالتی اُس وقت تک ٹیکس ریکوری اور ٹیکس نیٹ میں اضافہ ممکن نہیں، ایف بی آر کے اہلکار اور افسر ٹیکس چوروں کے کنسلٹنٹ بنے ہوئے ہیں۔نائب قاصد سے لے کر افسر تک جتنا بڑا عہدہ ہو اُسی حساب سے کمیشن کے نام پر رشوت لی جاتی ہے۔حکومتی مشینری تاجروں کو ڈرا کر ٹیکس نہ لے، بلکہ ان میں اعتماد اور احساس ذمہ داری پیدا کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔انہیں یہ اعتماد دیا جائے کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ حکمرانوں کی عیاشیوں پر نہیں، بلکہ انہی کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے گا۔ روزنامہ ’’پاکستان‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے میاں ریحان سرور نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ دُنیا میں سب سے زیادہ خیرات دینے والی قوم اپنی ہی فلاح و بہبود کے کاموں کے لئے ٹیکس نہ دے۔ میری یہ تجویز ہے حکومت پاکستان کے لئے اگر ایف بی آر کے کرپٹ افسر و اہلکار اپنی حرکتوں سے باز نہ آئیں تو ٹیکس ریکوری بلدیاتی نمائندوں کے حوالے کر دی جائے، بلدیاتی نمائندے اپنے طبقے کے ہر گھر، گلی، محلے سے آگاہ ہوتے ہیں اور انہیں علم ہوتا ہے کہ کہاں چھوٹے چھوٹے کارخانے یا دیگر کاروبار چلائے جا رہے ہیں، وہ اپنے اخراجات بھی پورے کریں گے اور حکومت کو بھی ٹیکس اکٹھا کر کے دیں گے، جبکہ ایف بی آر کے نائب قاصد سے لے کر گریڈ17 تک کے افسران اور ملازمین جن کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ٹیکس نیٹ میں نئے لوگوں کو شامل کریں، وہ ان کارخانہ داروں سے رشوت لے لیتے ہیں اور انہیں ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہیں کرتے، ایسے بددیانت اور رشوت خور ملازمین کسی رعایت کے مستحق نہیں، انہیں ملازمت سے فارغ کر دینا چاہئے،ایسے میں دفتر میں ریجنل ٹیکس آفیسرز کو کیا پتہ کہ باہر کون سے گلی محلے میں کارخانہ ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ آج کل کے جدید دور میں جب تمام کاروباری افراد کا ڈیٹا کمپیوٹرائزڈ ہے، انہیں ان کی جائیدادوں، گھروں،اکاؤنٹس اور گاڑیوں تک ہر چیز کا علم ہے۔ایف بی آر افسران انہیں نہیں پکڑتے،بلکہ ایسے لوگوں کو پکڑتے ہیں جو رضا کارانہ طور پر ٹیکس دیتے ہیں،انہیں تنگ کیا جاتا ہے،جبکہ بڑے لوگوں کو کچھ نہیں کہا جاتا،اگر موجودہ حکومت اس سسٹم میں کچھ بہتری لے آئی تو ان کی بڑی کامیابی ہو گی۔ میاں محمد ریحان سرور نے کہا کہ پاکستان کی کل آبادی22 کروڑ سے زائد ہے اور اتنی بڑی آبادی میں سے صرف آٹھ لاکھ کے قریب لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔حکومت کی جانب سے فائلرز کو کاروباری و دیگر رعایتیں دی گئی ہیں، جبکہ اسی طرح نان فائلرز پر50لاکھ روپے سے زائد کی جائیداد اور ہزار سی سی سے زائد کی نئی گاڑی کی خریداری پر پابندی عائد ہے۔ دیگر معاملات میں بھی نان فائلرز زیادہ ٹیکس لگائے گئے ہیں۔ میاں ریحان سرور نے کہا کہ پارلیمینٹ اگر ٹیکس کی وصولی بڑھانا چاہتی ہے تو اسے ٹیکس قوانین میں موجود خامیوں کو دور کرنا ہو گا۔ اقربا پرروی کی بڑی مثال ایف بی آر کی جانب سے جاری کئے جانے والے ایس آر اوز ہیں، حکومتی شخصیات اور من پسند افراد کو نوازنے کے لئے امپورٹ کے لئے ایف بی آر وقتاً فوقتاً ایس آر اوز جاری کرتا رہتا ہے،جو آئین اور قانون کی روح کے منافی ہیں۔ حکومت اگر مخلص ہے تو اسے چاہئے کہ ایف بی آر کا ایس آر او جاری کرنے کا اختیار ختم کرے تاکہ کسی بھی شہری سے امتیازی سلوک نہ ہو۔

مزید :

کامرس -