کرشنگ سیزن میں تاخیر مختلف شہروں میں دھرنے مظاہرے ،ملزمالکان کو4دن کی ڈیڈلائن

کرشنگ سیزن میں تاخیر مختلف شہروں میں دھرنے مظاہرے ،ملزمالکان کو4دن کی ...

  

ملتان ‘ مظفر گڑھ ‘ صادق آباد ‘ خانپور ‘ بہاولپور ‘ کوٹ ادو ‘ فتح پور ‘ راجن پورکلاں‘ ڈیرہ (سٹاف رپورٹر ‘ نمائندگان پاکستان ) پاکستان عوامی راج (بقیہ 37نمبرصفحہ7پر )

کے چیئرمین جمشید احمد دستی نے شوگر ملز مافیاء کے خلاف کسان بچاؤ مزدور بچاؤ تحریک کا آغاز کرتے ہوئے کچہری چوک میں دھرنا دے دیاآج علامتی دھرنا دیا ہے چار دن مین شوگر ملیں نا چلیں تو پل چناب بند کرینگے،عمران خان ایماندار لیڈر ہین مگر انکی ٹیم کرپٹ چور ڈاکووں پر مشتمل ہے ان خیالات کا اظہار جمشید احمد دستی نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا حکمرانوں کے100دن پورے ہو گئے مگر بدقسمتی سے عوام کی حالت مزید خراب ہو گئی ہے عمران خان ایماندار اور قوم کا درد رکھنے والے لیڈر ہین مگر انکے ساتھ مشرف،زرداری اور نواز شریف کی بی ٹیم ہے‘ انہوں نے کہا سرکاری مشینری وزیراعظم کے کنڑول میں نہیں ہے پنجاب جیسے بڑے صوبے میں ایک نالائق وزیر اعلی عثمان بزدار کو لگا کر سرائیکی وسیب کو اندھیروں میں ڈالا گیا ہے اگر نئے پاکستان میں کوئی قابل وزیر اعلی بنایا جاتا تو آج شوگر مافیا جیلوں میں اور کسان خوشحال ہوتایہ کیسا نیا پاکستان ہے جہاں غریب مزدور موت کے دہانے پہنچ گیا ہے ۔قبل ازیں عوامی راج کے مرکزی رہنماء چوہدری عامر کرامت اور اجمل کالرو نے بھی دھرنے سے خطاب کیا۔ادھر کسان تنظیموں نے کرشنگ سیزن کی تاخیر کیخلاف دوسرے روز بھی احتجاجی مظاہرہ ،کسان بورڈ دیگر تنظیموں نے پریس کلب ماچھی گوٹھ شوگر ملز چوک کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور شوگر ملز مافیا اور حکومت کی ناانصافی کے خلاف شدید نعرے بازی کی احتجاجی مظاہرے کے دوران کسان بورڈ کے ضلعی اور صوبائی رہنماؤں حاجی ریاض احمد چیمہ ،جام احمد یار ولانہ ،شاہداقبال تریلی ،اکرم بلوچ ،خلیل الرحمن تریلی ،ودیگر نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ شوگر ملیں ایک ماہ لیٹ کرشنگ ہونے کیوجہ سے گندم کی فصلیں متاثر ہوچکی ہیں اور گنا بھی سوکھ رہا ہے شوگر میلیں نہ چلنے پر گنے کے کاشتکاروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہوچکیں ہیں۔ امیر جماعت اسلامی تحصیل خان پور خواجہ رفیق احمد نے کہا ہے کہ گنے کے کاشت کاروں کا استحصال ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شوگر ملز کی جانب سے کرشنگ سیزن شروع نہ ہونے سے زمینداروں کا گنا ٹکے ٹوکری ہو رہا ہے ۔ شوگر ملز مالکان حکومت اور حکومتی اداروں کے درمیان چپقلش سے نقصان گنے کے کاشت کاروں کا ہورہا ہے ۔ کاشت کاروں کا گنا ملز کے باہر خراب ہو رہا ہے ۔ شوگر ملز کا بروقت نا چلنا کسانوں کو تباہ کرنے کے مترادف ہے کمیشن خوری کے عادی سیاستدان عوام کے حقوق کی بات کرنے کی اخلاقی جرات نہیں رکھتے، ان خیالات کا اظہار عوام دوست گروپ کے رہنما امیدوار این اے 183میاں فیاض حسین چھجڑہ اور امیدوار پی پی277 سردار اقبال خان پتافی نے مشترکہ بیان میں کیا انہوں نے کہا کہ ہمارے حلقوں میں دھونس دھاندلی سے کامیاب ہونے والے سیاستدان کمیشن خوری کے عادی ہیں اس لئے وہ حکومت اور اپوزیشن کے مزے لوٹنے کے باوجود کسانوں مزدوروں کے حق میں بات کرنا توہین سمجھتے ہیں انہوں نے کہا علاقے کا کسان اپنی کماد کی فصل اپنی آنکھوں کے سامنے تباہ ہوتی دیکھ رہا ہے حکومت ہوش کے ناخن لے اور کسانوں کو مکمل تباہی سے بچانے کے لئے فوری طور پر شوگر ملز مالکان کو شوگر ملز چلانے کا پابند کرے ورنہ کسانوں کا ناقابل تلافی نقصان ہو جائے گا ۔انہوں نے کہا عوام دوست گروپ جمشید دستی کی جانب سے مزدور بچاؤ کسان بچاؤ تحریک میں انکے شانہ بشانہ جدوجہد کریگا،انہوں نے کہا اگر حکومت نے فوری طور پر شوگر ملین نا چلوائین تو عوام دوست گروپ ہزاروں کسانوں کے ہمراہ پھرپور احتجاج کریگا۔علاوہ ازیں بہاولپور سے بیورو رپورٹ ‘ نامہ نگارکے مطابق امیر جماعت اسلامی پنجاب (جنوبی) ڈاکٹر سید وسیم اختر نے کہاہے کہ گنے کے کاشتکاروں کا استحصال ہورہاہے۔ شوگر ملز کی جانب سے کرشنگ سیزن کا آغاز نہ ہونے سے کسانوں کا گنا ٹکے ٹوکری ہورہاہے۔ شوگر ملز مالکان، حکومت اور حکومتی اداروں کے درمیان چپقلش سے نقصان گنے کے کاشتکاروں کا ہورہاہے۔ جبکہ گنے کی خریداری میں تاخیر سے کسان معاشی ابتری کا شکا ر ہورہے ہیں،حکومتی کسان کش پالیسیوں سے زراعت کا تنزلی کا شکا ر ہو رہا ہے،گنے کی خریداری سو فیصد یقینی بنانے کے لئے موثر اقداما ت اٹھائے جائیں،ان خیالا ت کا اظہار معروف زمیندار،دھرالہ زرعی فارم کے مالک ملک ناہید عبا س جٹ دھرالہ نے گزشتہ روز دھرالہ فارم پر میڈیا نمائندگان سے ملاقات کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ گنے کی فوری خریداری نہ کئے جانے سے کسان گھمبیر مسائل کا شکا ر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں جب کہ شوگر ملوں کی منا پلی اور حکو متی بے حسی کسانوں کے معاشی قتل عام کا باعث بن رہی ہے ۔اس موقع پر ملک نوید عبا س دھرالہ مہر رضوان ہانسلہ، رمضان چندا، چوہدری ظفر اقبال کمبوہ، علی حیدر قریشی، اظہر علی بھنگو سمیت گروپ کے دیگر راہنماء بھی انکے ہمراہ مو جود تھے۔ یونین کونسل 98ایم ایل کے چےئر مین چوہدری پرویز اختر نے کیا ، انہوں نے کہا کہ شوگر ملوں کی کرشنگ نہ ہونے سے کسان طبقہ شدید پریشانی سے دو چار ہے ، گندم کی فصل کی بیجائی میں تاخیر ہو رہی ہے ۔کاشتکار طبقہ پہلے ہی حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے زبوں حالی کا شکار ہے۔ صھافیوں سے گفتگوں کرتے ھوے کیاانھوں نے کھاکہ کسانو کو سستی بجلی کھادیں اور ڈیزل فراھم کیا جاے پاکستان اس وقت پانی،بجلی کے بد ترین بھران سے دوچارھے،ھکومت کسانوں کو مکمل طور پر ریلیف دے۔ حکومت پنجاب کی طرف سے پنجاب بھرمیں گنے کے کاشتکاروں کے معاشی تحفظ اور ان کو فصل کے جائز معاوضہ کی ادائیگی کے حوالے سے دفعہ 144نافذ کر دیاگیاہے یہ حکم فوری طو رپر نافد العمل ہو چکا ہے جو 31مارچ 2019تک لاگو رہے گا . حکم کے مطابق شوگر ملز کی طرف سے گنے کی کم وزن پر خرید نہ ہو گی ، کین کمشنر کی اجازت کے بغیر وزن کے کنڈے قائم کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے او رحکم میں کہا گیا ہے کہ شوگر ملز کی طرف سے گنے کی قیمت کاشتکاروں کو کیش کی صورت میں ادا کی جائے . یہ با ت ڈپٹی کمشنر ڈیر ہ غازیخان کے دفتر سے جاری کردہ مراسلہ میں کہی گئی ہے . علاوہ ازیں بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر‘بیورو رپورٹ)پا کستان شو گر ملز ایسوسی ایشن کے تر جما ن وحید چو ہدر ی نے میڈ یا سے با ت چیت کرتے ہو ئے بتا یا کہ پا کستان کی شو گر انڈ سٹری اسوقت اس قا بل نہیں کہ وہ 180رو پے فی من گنے کی خر یداری کرکے 14رو پے فی کلو چینی کا خسارہ برداشت کر سکے انڈ سٹری پہلے ہی ستمبر 2018سے یہ مطا لبہ مو جو د ہ حکو مت سے کر چکی ہے کہ سبسڈ ی کے بغیر چینی ایکسپورٹ کر نے دے جس پر ابھی تک تا خیر سے کا م لیا جا ر ہا ہے جبکہ بھا رت نے اپنے چینی کے ایکسپورٹرز کو 150 ڈا لر فی ٹن سبسڈ ی دے دی ہے اگر کسا نو ں کو 180رو پے فی من کے حسا ب سے گنے کی ادا ئیگی کردی جا ئے تو پھر حکو مت کو چا ئیے کہ وہ ہر صورت شو گر اند سٹر ی کو کم از کم 9رو پے فی من کے حسا ب سے سبسڈ ی ادا کر ے جس سے انڈ سٹر ی کا پیداواری خسارہ کچھ حد تک کم ہو گاگو ر نمنٹ گنے کی خریداری کی سپورٹ قیمت کو چینی کی ما ر کیٹ قیمت کے مطا بق متعین کر ے تا کہ انڈسٹر ی بہتر انداز میں چل سکے دباؤ کے تحت انڈ سٹر ی نہیں چل سکتی حکو مت کو چا ئیے وہ پیداواری لا گت کے حساب سے چینی کی کم از کم قیمت کا تعین کر ے مو جو د ہ حا لا ت میں ملیں ایک دن بھی نہیں چل سکتیں180رو پے فی من گنے کی فصل خر ید کرکے 50روپے فی کلو چینی بیچنا بہت بڑا خسارہ ہے 14رو پے فی کلو چینی کا خسارہ برداشت کر نا ملو ں کے بس سے با ہر ہے حکو مت کو چینی کی قیمت بڑ ھنا ہو گی نہیں تو اربو ں رو پے کا نقصا ن ہو گا ۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -