ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام شوریٰ ہمدرد پشاور کا ماہانہ اجلاس

ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام شوریٰ ہمدرد پشاور کا ماہانہ اجلاس

پشاور(سٹی رپورٹر)ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام شوریٰ ہمدرد پشاور کا ماہانہ اجلاس گزشتہ روز پشاور کے سروسز کلب میں منعقد ہوا۔ اجلاس کا موضوع’’قائداعظم کا تصور ریاست اور حال کا پاکستان‘‘ تھا۔اجلاس کی صدارت اسپیکر شوریٰ ہمدرد ڈاکٹر صلاح الدین نے کی جبکہ مہمان مقررملک لیاقت علی تبسم، مرکزی چےئرمین پاکستان تھنکرز و نظریہ پاکستان فورم و رکن شوریٰ ہمدرد تھے۔ملک لیاقت علی تبسم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہجہاں تک حضرت قائداعظم کا تعلق ہے ان کے نزدیک تصور پاکستان کے مقصد کا مطلب قرآنی احکامات کی بنیاد پر ایک ایسی ریاست کا وجود تھا جس کا آئین نہ صرف قرآنی احکامات پر مبنی ہو بلکہ وہ ایک مسلمان ریاست کے بجائے دینی ریاست کے طور پر کام کرے۔ ہمارے ہاں جو لوگ پاکستان کے وجود کی وجہ معاشیات بتاتے ہیں وہ حقیقت سے انحراف کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ ملک عزیز کے سیکولر طبقے پاکستان کو ایک ایسی ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں جو کسی بھی حوالے سے دینی احکامات کو اہمیت نہ دیتی ہو اور مذہب کو شخصی معاملہ کہہ کر بات ختم کر دے۔ پاکستان کا آئین پاکستان کے اندر قوانین کی بنیاد کو دین کی بنیاد پر پیش کرتا ہے۔ پاکستان کے آئین میں دستور مقاصد جہاں اس بات کی ضمانت دیتی ہے وہیں ہمیں بحیثیت مجموعی وہ کردار ادا کرنا ہے جو ملک عزیز کو اقوام عالم کی صفوں میں نمایاں مقام دے سکے ۔ جہاں تعلیم اور صحت کے ضمن میں بین الاقوامی سہولیات موجود ہوں ،جہاں ریاست مدینہ سے رہنمائی حاصل کی جاتی ہو۔ جہاں اقلیتوں کے حقوق 100 فیصد کی حد تک محفوظ ہوں اور جہاں مسلکی بنیاد پر تکفیر کے فتوے نہ دئیے جاتے ہوں۔ ہمیں اپنی نئی نسل تک وہ برداشت اور روا داری منتقل کرنی ہے جو پاکستان کو ایک ایسی ریاست بنا سکے جہاں امن، سکون اور برداشت کا معاشرہ تشکیل پا سکے۔اس موقع پر دیگر کے علاوہ پروفیسر ڈاکٹر ناصر الدین اعظم خان، سردار فاروق احمد جان بابر، پروفیسر روشن خٹک، مشتاق حسین بخاری نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر