دینی مدارس کے اساتذہ اور طلباء پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں، مولاناانوارالحق

دینی مدارس کے اساتذہ اور طلباء پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں، ...

  

نوشہرہ(بیورورپورٹ)وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نائب امیر ومہتمم جامعہ دارلعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک شیخ الحدیث مولانا انوارالحق نے کہا ہے کہ مدارس میں پڑھنے والے طلباء کرام اور ان کو پڑھانے والے اساتذہ کرام پاکستان کے نظریاتی سرحدوں کے محافظ، پاکستان اور دین اسلام کے تحفظ اور بقاء کے لئے برسرپیکار ہے اس ملک کے سیکولر حکمران ہوش کے ناخن لے اور مغربی استعماری قوتوں کے ایجنڈے کو پایاتکمیل تک پہنچانے سے باز رہ کر مدارس کو نام نہاد رجسٹریشن اور دیگر سازشوں سے تنگ نہ کریں امریکہ ، برطانیہ اور اقوام متحدہ نے خود یا اپنے کارندوں کے ذریعے میلی آنکھ سے دیکھا تو ان کو نشان عبرت بنادیں گے شہید تحفظ ناموس رسالت استاد المحدیثن مولانا سمیع الحق، شہادت کی آرزو لے کر پارلیمنٹ، پارلیمنٹ سے باہر درس وتدریس اور ملک کے کونے کونے میں اپنی خدمات سرانجام دے کر خدا نے ان کی آرزو پوری کرکے حضرت عثمان غنیؓ کی طرح اپنے ہی گھر میں اپنی ہی بستر پر شہادت کے رتبے سے نوازااور یہی مولانا سمیع الحق شہید کے درجات بلندی کی دلیل ہے ان خیالات کااظہارانہوں نے بابا کرم شاہ نوشہرہ کینٹ میں مولانا سمیع الحق کی یاد میں تعزیتی ریفرنس و پیغام امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر مہتمم جامعہ ابوہریرہ، وفاق المدارس العربیہ خیبرپختونخوا کے ناظم مولانا حسین احمد، مفتی حاکم علی حقانی، قاری محمداسلم، قاری عمر علی المدنی اور دیگر علماء کرام نے بھی خطاب کیا مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ وزیراعظم ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں یکساں نظام تعلیم کی وضاحت کریں اگر یکساں نظام تعلیم سے مراد ملک وملت کی یکجہتی تو ٹھیک اور اگر کوئی دوسرا ایجنڈا ہے تو وہ نامنظور سرکاری تعلیمی ادارے برباد ہوچکے ہیں وہاں نہ تعلیم ہے نہ تربیت اور جب دینی مدارس میں تعلیم بھی ہے اور تربیت بھی تو اس پر کبھی رجسٹریشن کے نام پر تو کبھی دوسرے حیلے بہانوں سے قدغن لگانے کی کوششیں کی جارہی ہے پاکستان میں دینی مدارس نہ ہوتے تو پاکستان بھی ثمرقند اور بخارا جیسا بن جاتا انہوں نے مزید کہا کہ مغربی استعماری قوتوں کے ایجنڈے پر قومی ایکشن پلان میں مدارس کو بھی شامل کیاگیا ہے جو ہمیں نامنظور انہوں نے مزید کہا کہ مولانا سمیع الحق نے ہمیشہ دین اسلام ، ملک میں شریعت محمدی کے نفاذ، مدارس کی تحفظ وبقاء اور حق کو حق کہنا اور باطل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا اور اسی اصولوں کی خاطر انہوں نے ضیاء الحق سمیت دیگر حکمرانوں کی پیشکشیں ٹکرا کر شریعت کے نفاذ کے مطالبہ پر ڈٹے رہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -