23 اضلاع پر مشتمل صوبہ سرائیکستان کا قیام فوراً عمل میں لایا جائے ‘ نخبہ تاج لنگاہ

23 اضلاع پر مشتمل صوبہ سرائیکستان کا قیام فوراً عمل میں لایا جائے ‘ نخبہ تاج ...

  

عالیوالا(نامہ نگار‘نمائندہ خصوصی)پاکستان سرائیکی پارٹی کے مرکزی چیئرپرسن بی بی نخمہ تاج لنگاہ نے مرکزی نائب صدر حاجی (بقیہ نمبر19صفحہ12پر )

اللہ وسایا خان لنگاہ نے کی ڈیرہ غازیخان نے پارٹی وفد سمیت ملاقات کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ 23 اضلاع پر مشتمل صوبہ سرائیکستان کا قیام فوراً عمل میں لایا جائے کیونکہ اَپر پنجاب کی ظالم بیورو کریسی سرائیکی خطے کی عوام کے ساتھ اب پورے زور شور سے مخالفت کر رہی ہے۔ سرائیکی خطے کے فنڈز میں خردبرد اور سرائیکی خطے سے ریونیو اکٹھا کر کے اَپر پنجاب پر ہی خرچ کر رہی ہے جبکہ سرائیکی خطے کے نوجوانوں کو بے روز گار کیا جا رہا ہے ۔7کروڑ سرائیکی عوام صرف اور صرف صوبہ سرائیکستان کا قیام ہی عمل میں لانا چاہتی ہے ۔موجودہ حکومت کا فرض بنتا ہے کہ اپنے وعدے کے مطابق 23اضلاع پر مشتمل صوبہ سرائیکستان کا قیام عمل میں لائے پاکستان سرائیکی پارٹی موجودہ حالات کے مطابق آئندہ لائحہ عمل ترتیب دے رہی ہے ہم سرائیکی عوام کو کسی صورت بھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے اور انکے جائز مطالبات کی تکمیل تک چین سے نہیں بیٹھیں گے اس موقع پر حاجی اللہ وسایا لنگاہ نے کہا کہ رہبر سرائیکی بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ مرحوم سرائیکی قوم کے محسن ہیں۔ آج سرائیکی عوام کی آواز پوری دنیا میں سنی جاتی ہے اور پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں صوبہ سرائیکستان کے قیام کے حق میں ہیں اور تمام بڑی جماعتوں نے اپنے اپنے منشور کا حصہ بنایا ہوا ہے۔7 کروڑ سرائیکی عوام کی امنگوں کے مطابق 23 اضلاع پر مشتمل صوبہ سرائیکستان حکومت میگا پراجیکٹ کا اعلان کرے ۔سی پیک میں فری اقتصادی ژون قائم کیا جائے۔ سرائیکی خطے کے تعلیمی اداروں سے انٹری ٹیسٹ کا خاتمہ کیا جائے۔ پولیس، فوج،و اپڈا، پی آئی اے، گیس اور دوسرے سرکاری محکومں میں سرائیکی خطے کے لیے روز گار نوجوانوں کا خصوصی کوٹہ رکھا جائے اور انہیں ترجیحی بنیادوں پر نوکریاں فراہم کی جائیں۔ مانکہ کینال، ڈیرہ ایئر پورٹ بین الاقوامی طور پر ڈے اینڈ نائیٹ چالو کیا جائے۔ڈیرہ غازیخان ہائی کورٹ بنچ کا قیام فوری عمل میں لایا جائے اس موقع پر عبدالمجید لنگاہ، سید حماد شاہ، صابر لنگاہ، ملک جاوید چنڑ ایڈووکیٹ، احمد نوازسومرو، سردار حقنواز لنگاہ کے علاوہ کثیر تعداد میں کارکنان موجود تھے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -