نوشہرہ میں صحافی نورالحسن کے قتل کیخلاف میڈیا کا احتجاجی مظاہرہ

نوشہرہ میں صحافی نورالحسن کے قتل کیخلاف میڈیا کا احتجاجی مظاہرہ

ٹوپی ،تورڈھیر ،الپوری ،پارا چنار ( نمائندگان پاکستان) شہیدصحافی نورالحسن کے قتل کے خلاف بدھ کے روزبھی صحافیوں کا احتجاجی مظاہرہ ہوا،ضلع صوابی، جہانگیرہ اورنوشہرہ کے صحافیوں نے ملکر جہانگیرہ کے بازاروں میں پلے کارڈزاٹھاتے ہوئے فلک شگاف نعرہ بازی کرکے احتجاجی ریلی نکالی، حکومت اورسیکورٹی اداروں کو بھی سخت تنقیدکانشانہ بنایا گیا، وقوعہ کے موقع محل کی جاری ویڈیوکلپ کی مددسے صحافی کے قاتلوں کو فوری گرفتار کرنے اورانہیں نشان عبرت بنانے سمیت شہید صحافی کے ورثاء کوشہدا پیکج دینے کا بھی پرزورمطالبہ کیاگیا،تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز ڈسٹرکٹ یونین آف جرنلسٹس صوابی ،تحصیل لاہور پریس کلب ، ٹوپی پریس کلب، تحصیل پریس کلب جہانگیرہ ،ڈسٹرکٹ یونین آف جرنلسٹس نوشہرہ،گندھارایونین آف جرنلسٹس صوابی سمیت دیگرصحافتی تنظیموں کے صحافیوں نے جہانگیرہ میں مشترکہ احتجاجی مظاہرہ کیاجہانگیرہ کے مختلف بازاروں میں احتجاجی ریلی کے بعدجی ٹی روڈ کے وسط میں کھڑے مظاہرین سے مقررین احسان الحق بام خیلوی، ندیم مشوانی،سیدعلی خٹک،ہارون اعوان،عارف شاہ،نائب ناظم امجد خاکساراوردیگرنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہیدصحافی نورالحسن کا قتل کوئی معمہ نہیں دہشت گردی کاکھلا وقوعہ ہے شہیدصحافی کو ملکی ناموس کی تحفظ پر دہشت گردی کی بھینٹ چڑھایا گیا مقررین نے حکومت اورسیکورٹی اداروں سے پرزورمطالبہ کیا کہ شہیدصحافی کے قاتلوں کو جلدگرفتارکرکے پھانسی پر لٹکایاجائے اورشہید صحافی کے لواحقین کی حکومت کامقررہ شہداپیکج سے معاونت کی جائے انکاکہنا تھاکہ جائے وقوعہ کے آس پاس لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے بنی وقوعہ کی مکمل ویڈیوکلپ پوری دنیا دیکھ چکی کہ ملزمان نے کوئی نقاب بھی نہیں پہنے ہیں اورشہیدصحافی کی گاڑی پر اندھادھندفائرنگ کرکے موٹرسائیکل پر فرارہورہے ہیں جس ویڈیوکلپ کی مددسے قاتلوں کی شناخت بھی مکمن ہوگئی ہے اس کے باوجود اگر ملزمان کی فوری گرفتاری عمل میں نہیں لائی جائیگی توہمارے احتجاجی مظاہروں کایہ سلسلہ کبھی نہیں رُکے گا اورصوبے کے بعد مرکزی حکومتی ایوانوں کے سامنے بھی تادم مرگ احتجاجی دھرنا دینے پر مجبور ہونگے*صحافی نورالحسن کے قتل کے خلاف صوابی امن چوک میں صوابی میڈیا کلب کا احتجاج شہیدصحافی نورالحسن کے بہیمانہ قتل کے خلاف ضلع صوابی بھر کے صحافیوں کا مشترکہ پلیٹ فارم صوابی میڈیا کلب کے زیر اہتمام صوابی امن چوک میں پرامن اجتجاجی مظاھرہوا مظاھرین جنرل بس سٹینڈ سے جلوس کی شکل میں ہوتا ہوا صوابی امن چوک میں جلسہ کی شکل اختیار کرگیااحتجاجی جلوس کی قیادت جلیل احمد اور سید عارف شاہ کی قیادت میں نکالا گیااحتجاجی جلسے سے تحصیل ناظم صوابی واحد شاہ،سابقہ امیدوارقومی اسمبلی وANPکے ضلعی راہنما محمد اسلام خان،پاکستان مسلم لیگ صوابی کے ضلعی راہنما ربنوازخان، پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی راہنما امتیازخان،اصلاحی جرگہ کے صدر نوراللہ غازی،انجمن تاجران صوابی کے جنرل سیکرٹری محمد علی،صوابی میڈیا کلب کے صدر جلیل احمد،جنرل سیکرٹری سیدعارف شا ہ ، سلیم علی زئی،.جان محمد انجم اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافی نورالحسن کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا واقعہ کوصحافیوں کے قتل کا سلسلہ قرار دیتے ہوئے صوبائی اورمرکزی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ صحافیوں کو تحفظ فراھم کریں اس موقع پر صحافیوں نے احتجاجی طور پر سیاں پٹیاں باندھی ھوئی تھی اور نعرے لگائے کہ صحافیوں کا قتل عام بند کی جائے،صحافیوں کو تحفظ دو،ھم نہیں مانتے ظلم کے ضابطے،نورالحسن کے قاتلوں کو گرفتارکیا جائے نعرہ تکبیر اللہ اکبرکے نعروں سے فضا گونج اٹھی اس موقع پر صوابی میڈیا کلب کے قائدین نے حکومت پر زور دیا کہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کریں کبھی صوابی کبھی نوشہرہ کبھی ہری پور اور کبھی کے پشاور کے صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید کیا جاتا ہے لیکن ایک بھی صحافی کے قاتلان کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا گیا ہے اور یہی وجہ کہ ریاست کی چوتھی اہم ستون کو ریاستی جبر اور استبداد سے ناکارہ بنایا جارہاہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں صحافیوں کو تحفظ فراہم کریں اور تکنیکی بنیادوں پر تحقیقات کرکے آئندہ وقتوں میں صحافیوں کو محفوظ کریں ساتھ ہی انہوں نے شہید نورالحسن کے ورثاء کو شہداء پیکج دینے کا عملی مظاہرہ کریں انہوںینے واضح کیا کہ جب تک شہید صحافی نورالحسن کو انصاف نہیں ملتا اور ان کے خوان کا حساب نہیں لیا جاتا صوابی میڈیا کلب بھرپوراحتجاج جاری رکھے گی*نو شہر ہ صحافی نورا لحسن کے دن دیہاڑے قتل پر شانگلہ کے صحافتی برادری سراپا احتجاج بن گئے، صوبائی حکومت شہید صحافی نورا لحسن کے ورثاء کو مالی پیکج دینے کی اپیل۔ ریاست صحافیوں کی تحفظ میں ناکام ہے ، صحافی نورا لحسن نڈر اور بے باک صحافی تھے انھوں نے ہمیشہ اپنا قلم کے زریعے علاقے کی خدمت کی ہے ، حکومت صحافی نورا لحسن کی قاتلوں کو فوری طور پرگرفتار کیا جائے۔ صحافیوں کا مطالبہ۔ صحافی شہید نورا لحسن کی قتل کی مزمت کرتے ہیں، ملزمان کی تاحال عدم گرفتاری پولیس کیلئے کسی چیلینج سے کم نہیں، حکومت صحافیوں کو تحفظ فراہم کریں،حق اور سچ کی اواز کو دبانے کیلئے شرپسند عناصر اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں ،شہیدصحافی نورا لحسن کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہیں،انھوں نے ہمیشہ اپنے قلم سے اپنے علاقے کی بے پناہ خدمت کی اور حق ، سچ کیلئے اپنا جان بھی نچھاور کیا*

مزید : پشاورصفحہ آخر