بٹ خیلہ، آل ہوٹلزایسوسی ایشن درگئی کا محکمہ فوڈ کے رویہ کیخلاف مظاہرہ

بٹ خیلہ، آل ہوٹلزایسوسی ایشن درگئی کا محکمہ فوڈ کے رویہ کیخلاف مظاہرہ

بٹ خیلہ (بیورورپورٹ )آل ہوٹلزایسوسی ایشن درگئی ملاکنڈکامحکمہ فوڈکے نامناسب رویہ کیخلاف احتجاج، درجنوں ہوٹلزاورکھانہ مراکزبند،سینکڑوں مزدوربے روزگار،احتجاج کرنیوالوں کاموقف تھاکہ حکومت ہمیں حق حلال روزگارکرنے نہیں دیتے،مقامی انتظامیہ اورمحکمہ خوراک کے بھاری بھرجرمانوں کیساتھ ساتھ اب صوبائی محکمہ ہلال فوڈاتھارٹی کے اہلکاران عدم صفائی وستھرائی کے نام درجنوں ہوٹلوں اورکھانہ مراکزپر چھاپے مارکرسیل کردیاہے جوکہ ہوٹل مالکان اورسینکڑوں مزدوروں کے اجتماعی فاقہ کشی کے متراد ف ہیں ۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا،وزیرخوراک ،کمشنر ملاکنڈاورمحکمہ فوڈ کے اعلیٰ حکام سمیت چئیرمین تحریک انصاف عمران خان سے اصلاح احوال کی اپیل ۔بصورت دیگر پرتشدداحتجاجوں اورمین شاہراہ ملاکنڈکو بندکرنے پر مجبورہونگے ۔تفصیلات کے مطابق آل ہوٹلز ایسوسی ایشن تحصیل درگئی ملاکنڈنے گزشتہ روزہلا ل فوڈ اتھارٹی سیدوشریف سوات زون کے اہلکاروں کے نامناسب رویہ اورہوٹلوں کو سیل کرنے کیخلاف احتجاجاً ہڑتال کی اورہوٹلوں کو بندرکھا،ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل ہوٹلزایسوسی ایشن درگئی کے صدر پیر عمرخطاب ،نائب صدر طارق خان ،جنرل سیکرٹری شیر علی خان اوردیگر نے کہاکہ ملاکنڈپہاڑی سے لیکر طورپل سخاکوٹ کے حدودمیں 21ہوٹلزاورکھانہ مراکزہیں جن میں تقریباً 900سے ذاید غریب مزدورمختلف کام میں برسرروزگاراپنے بچوں کیلئے دووقت کی حق حلال روزی کمارہے ہیں جوکہ مین ملاکنڈشاہراہ پر گزرنے والے مسافرگاڑیوں کو معیاری کھانے اوربہترین سہولیات فراہم کررہے ہیں لیکن اب صوبائی محکمہ فوڈ کی جانب سے آئے روزبے جاجرمانوں اورطرح طرح کے من گھڑت الزامات کے ذریعے ٹراخانے کاعمل عرصہ درازسے جاری ہیں جس سے یہاں پر ہوٹلنگ سے وابستہ مقامی اورغیرمقامی حلقے اپنے حق حلال کاروبارچھوڑنے پر مجبورکیاجارہاہے ۔ایک جانب مقامی انتظامیہ اورضلعی فوڈاتھارٹی کے اہلکاروں کی جانب سے ہزاروں روپے کے جرمانے وگرفتاریوں کاسلسلہ جاری ہے جن سے ہوٹل مالکان بیزارہوچکے ہیں جبکہ رہی سہی کسر صوبائی محکمہ ہلال فوڈاتھارٹی سوات نے پوری کی ہے جنہوں نے گزشتہ کچھ عرصہ سے یہاں کے ہوٹلزمالکان کی زندگی اجیرن کی ہے ،حالیہ کاروائیوں میں درجنوں ہوٹلزکے کچن چیک کرکے ناقص نظام اورالودگی کو جوازبناکرہوٹلوں کوبندکرکے سیل پرچیاں ہاتھوں میں تھماکر وارننگ اورسیدوشریف سوات آفس میں پہنچنے کاعندیہ دیاہے،انہوں نے کہاکہ ہم نے ہوٹلوں میں گیس میٹرنصب کی ہیں جبکہ گیس سالہاسال آنے کانام تک نہیں لیتا اوراسکے باوجودہم ماہانہ ہزاروں روپے گیس بل بھی جمع کرتے ہیں ،جب کہ اب مقامی سی این جی اسٹیشنوں کو بھی مخصوص اوقات میں گیس دینے اورباقی ماندہ اوقات میں بندرکھنے کے احکامات صادر ہوئے ہیں جس کے باعث گیس عدم فراہمی کاسامناہے اسیلئے ہم لکڑیوں سے آگ جلانے اورکھانے تیارکرنے پر مجبورہیں جس کے باعث کچن کالے اورالودہ ہوتے ہیں اب انکو جوازبناکر ہمارے چلتے پھرتے روزگاروں کو چھیننے اوربے روزگاری پر مجبورکیاجارہاہے ۔انہوں نے کہاکہ اس اقدام کیخلاف آج تحصیل درگئی کے حدودات میں قائم تمام ہوٹلوں اورکھانہ مراکزکو احتجاج بندکررکھاہے جس سے ایک طرف مسافرگاڑیوں کو مشکلات کاسامناہے تو دوسری جانب درجنوں ہوٹل مالکان سمیت سینکڑوں غریب مزدورطبقہ بے روزگارہوکر شدیدمتاثرہواہے ۔انہوں نے اس ضمن میں پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی چئیرمین عمران خان ،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوامحمودخان ،صوبائی وزیرخوراک،کمشنر ملاکنڈ،ڈپٹی کمشنر ملاکنڈ،ایم این اے ملاکنڈجنیداکبرخان،ایم پی اے پی کے 19پیرمصورخان غازی اورمحکمہ فوڈ کے اعلیٰ حکام سے پرزورمطالبہ کیا کہ خداراپاکستان کے اس غریب عوام نے عمران خان کے ویژن کو آگے بڑھاتے ہوئے نئے پاکستان کے تعمیرکیلئے پاکستان تحریک انصاف سے امیدیں وابستہ کرکے ووٹ دیاہے اب انکو اس کی سزائیں نہ دی جائے کہ ہمارے بچوں کے منہ سے حق حلال کانوالہ چھین کر روزگاروں کو ختم اوراس سے وابستہ ہزاروں کی تعدادمین غریب مزدورں کے گردنوں پر چھریاں پھیرنے اورانہیں فاقہ کشیوں پر مجبورنہ کیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ اگر حکومت اورمحکمہ فوڈکے اہلکاروں نے ہماری دادرسی نہ کی تو آئیندہ کیلئے ہوٹل مالکان اورسینکڑوں مزدوردیہاڑی دار اپنے اہل وعیال سمیت سڑکوں پر دھرنے دینے اورپرتشدداحتجاجوں پر مجبورہونگے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر