صوبائی دارالحکومت میں تھانہ کلچر تبدیل نہ ہوسکا ،اندراج مقدمہ اور ملزموں کی گرفتاری کے ریٹ مقرر

صوبائی دارالحکومت میں تھانہ کلچر تبدیل نہ ہوسکا ،اندراج مقدمہ اور ملزموں کی ...

لاہور(رپورٹ ،یونس با ٹھ) تھانہ کلچر تبدیل نہ ہو سکا ،پنجاب بھر بالخصوص صو با ئی دارالحکو مت کے تھا نو ں میں ہر مقد مے کے اند را ج اور ملزمان کی گرفتاری کے علیحدہ سے ر یٹ مقر ر ہیں ۔ چو ر ی ، چیک ڈس آنر ، فرا ڈ، اما نت میں خیا نت سمیت دیگر مقد ما ت کے 5ہزار سے لیکر 3 لا کھ رو پے تک وصو ل کے جا تے ہیں۔نیا ڈی آئی جی بھی ڈی ایس پی اور ایس ایچ اوز کے مزا ج کوتبد یل نہیں کر سکا ، سی سی پی او اور ڈی آئی جی آفس سے جا ر ی ہو نے وا لے روزا نہ کے احکا ما ت کسی خا طر میں نہیں لا ئے جا تے تما م درخوا ستو ں پر قا نو ن کے مطا بق فو ر ی کا رروائی کا حکم ملنے کے با وجود ما تحت عملہ اسے نظر اندا ز کر دیتا ہے۔سا ئلین ہا تھو ں میں درخواستیں لئے روزانہ افسران کے دفا تر کے دھکے کھا نے پر مجبور ہیں ۔ جبکہ ماتحت افسرا ن ان سے روا یتی بر تاؤ کرتے ہو ئے انھیں 2دن بعد آنے کی ہدایت کر تے ہیں،تھک ہا ر کر سا ئلین کو با لاآخر مقد ما ت کے اندرا ج کے لئے مبینہ طور پر رشو ت ہی دینا پڑتی ہے،ایس پی سا ئل کی با ت کو جھو ٹ اور ما تحت کی با ت سچ گردا نتے ہیں ۔ روز نا مہ پاکستان کے سروے کے مطابق افسران کے دفاتر میں آئے ہو ئے سا ئلین نے شکا یا ت کے انبا ر لگا دیے ،معلو م ہو ا کہ سی سی پی او آفس میں روزا نہ درجنو ں سا ئلین کی آمدہو تی ہے اور دفتر بھی بلا روک ٹو ک 8گھنٹے تک کھلا رہتا ہے ، آفس پہنچنے وا لے ہر شہر ی کیلئے سی سی پی او لا ہور بی اے ناصر کی عملے کو سختی سے ہدا یت ہے کہ اسے روکا نہ جا ئے اور انھیں ملنے دیا جا ئے یو ں جو بھی شہر ی آفس پہنچتا ہے اس کی ملا قا ت سی سی پی او سے کروا دی جا تی ہے ۔سی سی پی او سا ئل کی درخواست پر ما تحت ایس پی کو قا نو ن کے مطا بق کارروائی کی ہدا یت لکھتے ہیں کچھ درخواستیں سی سی پی او افس کے عملے کے ذریعے اور بعض افراد درخواستو ں کو با ئی ہینڈ لے جا تے ہیں ایس پی کا عملہ ان درخواستو ں کو ایس ڈی پی او آفس بھیج دیتا ہے ۔ جو ڈی ایس پی پا رٹیو ں سے خود پیسے حا صل کر نا چا ہتا ہے ۔ اس کا ریڈر درخوست کو تھا نے نہیں بھیجتا اور پا رٹی کو وہا ں ہی کا ل کر لیا جا تا اور یو ں اس وقت تک سلسلہ جا ری رہتا جب تک پو لیس افسر مر ضی کا رزلٹ حا صل نہیں کر لیتا ۔ درخو استیں زیا دہ ہو نے یا رشوت نظر نہ آنے کی صورت میں ایس ڈی پی اوز ان درخواستو ں کو تھا نے ریفر کر دیتے ہیں ۔جس درخواست سے رقم نظر آتی ہو اسے ایس ایچ اوز خود سن لیتے ہیں اور بعض درخواستیں ایس ایچ اوز بیٹ افسرا ن کو مار ک کر دیتے ہیں بعض ایس ڈی پی اوز ایس ایچ اوزسے اور بعض ایس ایچ اوز یہ سا را کا م خو د کر نے کی بجا ئے بیٹ افسران کے ذریعے مبینہ رشوت وصو ل کر تے ہیں اسی طر ح انو یسٹی گیشن کا بھی با لکل یہ ہی حا ل ہے ۔انصا ف لینے کیلئے پہلے پو لیس کو خر ید نا پڑتاہے۔سی سی پی او آفس میں آئے کسی نے چوری ، کسی نے چیک ڈس آنر ، کسی نے اما نت میں خیا نت ، کسی نے فراڈاور کسی نے قبضے کی درخوا ستیں اٹھا رکھی تھیں اور سب ایک ہی رونا رو رہے تھے ۔ سی سی پی او تو بہت اچھے نیک اور ایما ندار افسر ہیں ملا قا ت بھی ان سے مشکل نہیں ہے۔مگر ما تحت کا م کرنے کا طر یقہ وہ ہی پرا نااور روایتی ہے ۔ایس پیز ،ایس ڈی پی اوز اور تھا نو ں میں مبینہ طور پر رشوت کا با زار گر م ہے ۔

تھانہ کلچر

مزید : صفحہ آخر