ڈالر1.26روپے مہنگا، سٹاک مارکیٹ میں مندا ، سرمایہ کاروں کے 51ارب ڈوب گئے

ڈالر1.26روپے مہنگا، سٹاک مارکیٹ میں مندا ، سرمایہ کاروں کے 51ارب ڈوب گئے

کراچی ،لاہور (اکنامک رپورٹر ،نیوزرپورٹر) انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کے نرخ ایک روپیہ 26پیسے بڑھ گئے جس کے بعد ڈالر کی 139روپے پر ٹریڈنگ ہوتی رہی۔ سٹاک مارکیٹ میں بھی کاروبار کے آغاز پر 115پوائنٹس کی کمی دیکھنے میں آئی۔ڈالر کے نرخ ایک مرتبہ پھر بڑھ گئے، گزشتہ روز ڈالر کی قیمت 5پیسے گری تھی جو بدھ کو ایک روپیہ 26پیسے بڑھ گئی اور انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کا 139 روپے پر لین دین ہوا۔ ڈالر بڑھنے سے بیرونی قرضوں کے حجم میں 120ارب روپے کا اضافہ ہو گیا ہے، تجزیہ کاروں کے مطابق ڈالر کے ریٹ میں اتار چڑھاؤ حکومت کی جانب سے ٹھوس پالیسی فیصلے نہ لینے تک یونہی متوقع رہے گا جو معیشت کیلئے کوئی مثبت شگون نہیں۔تفصیلات کے مطابق پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ایک روزہ تیزی کے بعد کاروباری ہفتے کے تیسرے روزبدھ کواتارچڑھاؤ کے بعدمندی رہی اور کے ایس ای100انڈیکس 39600،39500اور39400کی نفسیاتی حدوں سے گرگیا،مندی کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کے50ارب99 کروڑ روپے سے زائدڈوب گئے جبکہ کاروباری حجم گذشتہ روز کی نسبت29.48فیصدکم اور59.49فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔حکومتی مالیاتی اداروں اور مقامی بروکریج ہاؤسز سمیت دیگرانسٹی ٹیوشنز کی جانب بینکنگ،توانائی،کیمیکلز،سیمنٹ اوردیگرسیکٹرمیں خریداری کے باعث کاروبارکاآغازمثبت زون میں ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر کے ایس ای100انڈیکس39607پوائنٹس کی سطح پر بھی ریکارڈ کیاگیاتاہم ملکی کرنسی مارکیٹوں میں ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافے کے باعث مقامی سرمایہ کار تذبذب کا شکار نظرآئے اور اپنے حصص فروخت کرنے کو ترجیح دی جس کے نتیجے میں تیزی کے اثرات زائل ہوگئے اور کے ایس ای100انڈیکس38718پوائنٹس کی نچلی سطح پر آگیا تاہم ایک بار پھر غیرملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے منافق بخش سیکٹر میں خریداری کے باعث مارکیٹ میں ریکوری آئی جس کے نتیجے میں کے ایس ای100انڈیکس کی39300کی نفسیاتی حد بحال ہوگئی تاہم اتارچڑھاؤ کا سلسلہ سارا دن جاری رہا۔مارکیٹ کے اختتام پر کے ایس ای100انڈیکس299.76پوائنٹس کمی سے39303.11پوائنٹس پر بندہوا۔مجموعی طور پر358کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا،جن میں سے103کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں اضافہ،231کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں کمی جبکہ24کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں استحکام رہا۔سرمایہ کاری مالیت میں50ارب99 کروڑ51لاکھ94ہزار615روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت گھٹ کر78کھرب75 ارب15 کروڑ50لاکھ48ہزار199روپے ہوگئی ۔بدھ کومجموعی طور پر13کروڑ81لاکھ4ہزار150شیئرزکا کاروبارہوا،جومنگل کی نسبت5کروڑ77لاکھ48ہزار550 شیئرزکم ہیں۔قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے حساب سے فلپس موریس کے حصص سرفہرست رہے ،جس کے حصص کی قیمت131.70روپے اضافے سے3284.88روپے اورہینوپاک موٹرزکے حصص کی قیمت27.48روپے اضافے سے577.11روپے پر بند ہوئی۔نمایاں کمی نیسلے پاک کے حصص میں ریکارڈکی گئی،جس کے حصص کی قیمت341.00روپے کمی سے8700.00روپے اورباٹاپاک کے حصص کی قیمت38.00روپے کمی سے1542.00روپے پر بند ہوئی ۔بدھ کو لوٹے کیمیکلزکی سرگرمیاں1کروڑ6لاکھ25ہزارشیئرز کے ساتھ سرفہرست رہیں،جس کے شیئرز کی قیمت10پیسے کمی سے18.85روپے اوربینک آف پنجاب کی سرگرمیاں99لاکھ1ہزارشیئرز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی،جس کے شیئرز کی قیمت11پیسے اضافے سے13.11روپے ہو گئی۔بدھ کوکے ایس ای30انڈیکس162.09پوائنٹس کمی سے18812.00پوائنٹس،کے ایم آئی30انڈیکس338.16 پوائنٹس کمی سے66303.31پوائنٹس جبکہ کے ایس ای آل شیئر انڈیکس188.22پوائنٹس کمی سے28678.83پوائنٹس پر بند ہوا ۔دوسری طرف امریکہ اور چین میں تجارتی تنازعے پر غیر یقینی صورتحال کے باعث امریکی اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان رہا۔نیویارک سٹاک ایکس چینج میں کاروبار کے اختتام پر ڈا جونز انڈیکس میں799پوائنٹس کمی واقع ہوئی۔اسی طرح نیسڈیک میں ڈھائی اور ایس اینڈ پی فائیو ہنڈرڈ میں2فیصد کمی دیکھی گئی۔سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ امریکا اور چین میں تجارتی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی،محصولات اپنی جگہ پر بدستور عائد ہیں اور پیش رفت نہ ہونے پر نئے محصولات عائد ہونے کا امکان ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چین پر دوبارہ ٹیرف لگانے کی ٹویٹ نے بھی سرمایہ کاروں کو مزید پریشان کردیا جبکہ بانڈ مارکیٹ میں ہونے والے اتار چڑھا کے سبب بھی اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان دیکھا گیا۔

سٹاک مارکیٹ

مزید : صفحہ اول