سانحہ ماڈل ٹاؤن پر نئی جے آئی ٹی بنانے کا حکم ، اعظم سواتی کیس کا ٹرائل آرٹیکل 62ون ایف کے تحت عدالت خود کریگی دیکھنا ہے زلفی بخاری کا تقرر قانون کے تحت ہو ا یا نہیں : چیف جسٹس

سانحہ ماڈل ٹاؤن پر نئی جے آئی ٹی بنانے کا حکم ، اعظم سواتی کیس کا ٹرائل آرٹیکل ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) اسلام آباد: پنجاب حکومت کی جانب سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی بنانے کے فیصلے پر سپریم کورٹ نے عوامی تحریک کی درخواست نمٹا دی جب کہ دوران سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ طاہر القادری نے دھرنا دیا لیکن عدالتوں میں نہیں آئے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی دوبارہ تحقیقات اور نئی جے آئی ٹی بنانے کیلئے درخواست کی سماعت کی۔ پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب پیش ہوئے اور کہا کہ پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاون پر جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور حکومت چاہتی ہے واقعے کی شفاف تحقیقات ہوں۔ سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نئی جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹادی۔دوران سماعت عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور خود دلائل دیتے ہوئے عدالت کو واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کا مقدمہ درج نہ ہونے پر اسلام آباد میں دھرنا دیا۔طاہرالقادری نے واقعے کی جے آئی ٹی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی مظلوم کا بیان تفتیش میں ریکارڈ نہیں کیا گیا، کسی جے آئی ٹی نے زخمی کا بیان ریکارڈ نہیں کیا، ایسی تفتیش کو تفتیش کہا جا سکتا ہے؟ یتیم لوگ کہتے تھے ہمیں انصاف نہیں ملے گا، طاہر القادری عدالت میں آبدیدہ ہو گئے اور کہا کہ کیا ہم فلسطینی تھے جو ہم پر گولیاں چلائی گئیں۔طاہر القادری نے کہا کہ ٹرائل دوبارہ صفر کی سطح پر آگیا ہے، چار سال ہمارے ملزم اقتدار میں تھے، اس کیس میں تفتیش کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے، پولیس نے پہلی جے آئی ٹی میں اندراج مقدمہ کی درخواست تسلیم کی، دو ماہ دھرنا دینے کے بعد ایف آئی آر درج ہوئی، لیکن دوبارہ تفتیش میں ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کا ذکر نہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے بھی روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل کا حکم دیا تھا، اس سے زیادہ تیز انصاف کیا دے سکتے تھے؟۔ طاہر القادری نے کہا کہ یہ جاننا ضروری تھا کہ واقعہ کیوں پیش آیا، کڑیاں نہ ملائی جائیں تو تفتیش ہی نہیں ہوگی، ہمارے کیس کی آج تک تفتیش نہیں ہوئی ، ہم بنیادی طور پر ازسرنو تفتیش کروانا چاہتے ہیں۔چیف جسٹس نے طاہر القادری سے کہا کہ آپ نے دھرنا دے دیا لیکن عدالتوں میں نہیں آئے، عدالت سمیت ہر کام کو دھرنا دیکر مفلوج کیا گیا، آپ کو پہلے ہی اس عدالت میں آنا چاہیے تھا، جن لوگوں کے پاس آپ جاتے تھے وہ عدلیہ سے بڑے نہیں، آپ ان کے پاس گئے جن کا مقدمہ سے تعلق نہیں تھا، دھرنے والوں نے عدالت پر پھٹی پرانی قمیضیں لٹکائی، کیا یہ عدالت کی تکریم ہے؟، ججز کا بھی راستہ روکا گیا، آپ نے مناسب قانونی حکام سے رجوع نہیں کیا۔نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ عوامی تحریک جے آئی ٹی میں پیش نہیں ہوئی، جے آئی ٹی میں حساس اداروں کے لوگ بھی شامل تھے۔ طاہر القادری نے جواب دیا کہ گرفتاریاں ہو رہی تھی جے آئی ٹی میں کون اور کیسے جاتا؟ بار بار کہا پنجاب حکومت اور وزیر اعظم ہمارے ملزم ہیں، کیا ڈی ایس پی وزیر اعظم اور وزیراعلی کے خلاف تفتیش کر سکتا ہے، الزام چاہے غلط ثابت ہو جائیں لیکن تفتیش ہونی چاہیے، بیریئر ہٹانے کیلئے ہمیں کوئی نوٹس نہیں ملا تھا بلکہ اصل ایجنڈا لانگ مارچ کو روکنا تھا، نئی جے ا?ئی ٹی بنائی جائے، تمام لوگ نئی جے آئی ٹی میں پیش ہوں تو بہتر تفتیش ہو سکے گی۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے دیکھنا ہے جے آئی ٹی آزاد تھی یا نہیں اور آپ کا نکتہ ہے کہ تحقیقات شفاف نہیں ہوئیں، یہ بھی دیکھنا ہے کیا عدالت شفاف ٹرائل کے حکم کا اختیار نہیں رکھتی، ریاست مجرمانہ طور پر ملوث ہو تو کیا عدالت حکم نہیں دے سکتی۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں ہم ایسی جے آئی ٹی بنائیں جس کی رپورٹ بطور ثبوت پیش نہ ہو سکے۔دریں اثناآئی جی اسلام آباد تبادلہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ عدالت عظمیٰ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی کا خود ٹرائل کرے گی۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے آئی جی اسلام آباد تبادلہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 'اعظم سواتی کا جواب پڑھ لیا ہے'۔چیف جسٹس نے اعظم سواتی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'آپ حاکم وقت ہیں، کیا حاکم محکوم کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں؟ کیا حاکم بھینسوں کی وجہ سے عورتوں کو جیل میں بھیجتے ہیں'۔ساتھ ہی چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد سے استفسار کیا کہ 'آپ نے اس معاملے میں کوئی ایکشن نہیں لیا؟'جس پر آئی جی اسلام آباد نے جواب دیا کہ 'معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے اس لیے ایکشن نہیں لیا'۔اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 'کیوں نا اعظم سواتی کو ملک کے لیے ایک مثال بنائیں؟'چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ 'سپریم کورٹ خود بھی ٹرائل کرسکتی ہے، اب آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عدالت خود ٹرائل کرے گی'۔دوران سماعت چیف جسٹس نے صدر سپریم کورٹ بار امان اللہ کنرانی سے سوال کیا کہ 'آپ کس کی طرف سے پیش ہو رہے ہیں؟ اور آپ کا کیس سے کیا تعلق ہے؟'امان اللہ کنرانی نے جواب دیا کہ 'میں ذاتی طور پر اعظم سواتی کے سابق کولیگ کی حیثیت سے پیش ہوا ہوں'۔ساتھ ہی انہوں نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی کہ 'اعظم سواتی کے خلاف 62 ون ایف کے تحت کارروائی نہ کی جائے، عدالت درگزر کرے، اب شعور آگیا ہے'۔تاہم چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 'شعور تب آئے گا جب سزا ہوگی'۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ 'بتائیں 62 ون ایف کے تحت ٹرائل یہاں کرنا ہے یا مقدمہ کہیں اور بھجوائیں؟'جس پر اعظم سواتی کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ 'جے آئی ٹی رپورٹ الزامات پر مشتمل ہے، جس کی بنیاد پر 62 ون ایف کے تحت کارروائی نہیں ہوسکتی'۔وکیل کا مزید کہنا تھا کہ 'جے آئی ٹی رپورٹ کی بنیاد پر 62 ون ایف کے ٹرائل کی کوئی مثال موجود نہیں'۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 'اگر مثال نہیں ہے تو ہم قائم کردیتے ہیں'۔ساتھ ہی چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 'اعظم سواتی کو چاہیے تھا کہ جے آئی ٹی رپورٹ آنے کے بعد خود اخلاقیات کا مظاہرہ کرکے قربانی دیتے'۔جسٹس ثاقب نثار کا مزید کہنا تھا کہ 'ہمیں تو اعظم سواتی سے ڈیم فنڈز میں پیسے بھی نہیں چاہئیں، قومی مقصد کے لیے بھی اعظم سواتی کے پیسے نہیں لیں گے'۔اس موقع پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 'اعظم سواتی پر نیب قوانین کا اطلاق نہیں ہوسکتا'۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 'ہم آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت کارروائی کے لیے عدالتی معاونین مقرر کردیتے ہیں'۔اس کے ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے اعظم سواتی کے خلاف کارروائی کے حوالے سے ایڈووکیٹ خالد جاوید خان اور فیصل صدیقی کو عدالتی معاون مقرر کردیا اور سماعت 24 دسمبر تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔ وزیراعظم کے مشیر برائے اوور سیز زلفی بخاری کی نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم صرف یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا تقرر قانون کے تحت ہوا یا نہیں۔ کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ان کی جانب سے اعتزاز احسن بطور وکیل پیش ہوئے، اس موقع پر درخواست گزار عادل چھٹہ نے استدعا کی کہ میرے وکیل علاج کے لیے امریکا گئے ہیں اس لیے سماعت 15 دسمبر تک ملتوی کی جائے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا 'زلفی بخاری پاکستان میں کب متعارف ہوئے، لائم لائٹ میں کب آئے جس پر وکیل اعتزاز احسن نے مؤقف اختیار کیا کہ زلفی بخاری وزیراعظم کے معاون خصوصی ہیں رکن اسمبلی نہیں جن کا پروفائل عدالت میں پیش کر دیا ہے۔چیف جسٹس نے کہا 'شاید زلمی بخاری پہلی بار نظروں میں تب آئے جب ایک معاملہ ہوا اور وہ کسی کو لینے گئے تھے جب کہ درخواست گزار نے کہا طلاق کے بعد لندن میں ریحام سے ملاقات کے موقع پر وہ پہلی بار لوگوں کی نظروں میں آئے۔وکیل زلفی بخاری اعتزاز احسن نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا طلاق نجی معاملہ ہے اسے زیر بحث نہ لایا جائے، زلفی بخاری لندن میں پاکستانی کمیونٹی میں بہت متحرک رہے ہیں، حکومت کے پہلے 100 دن میں اس نوجوان نے بہترین کارکردگی دکھائی۔وکیل اعتزاز احسن نے یہ بھی کہا کہ زلفی بخاری نے تعیناتی سے اب تک ساری تنخواہ ڈیم فنڈ میں دی ہے جس پر چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہا یہ تو بہت اچھا کیا۔اس موقع پر درخواست گزار عادل چھٹہ نے کہا کہ کہنے کو یہ وزیراعظم کے مشیر برائے بیرون ملک پاکستانیز ہیں لیکن یہ ای او بی آئی کے بورڈ کی میٹنگز میں بھی بیٹھتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کل کو حکومت کو بھگتنا ہے کہ کتنے اچھے لوگ لگائے اور کتنے نہیں، ہمارا اس سے تعلق نہیں، ہم تو صرف یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا تقرر قانون کے تحت ہوا یا نہیں۔اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا اگر تقرری میں اقرباء پروری ہوگی تو ضرور عدالتی جائزہ لیں گے، ایک فیصلے میں لفظ اقرباء پروری استعمال کیا تو بہت لے دے ہوئی، کسی کو افسوس ہوا ہے تو اس کے لیے عدالتی نظام میں تبدیلی نہیں کر سکتے۔چیف جسٹس نے کہا ہمارا کام انتظامیہ کی تضحیک کرنا نہیں، غالباً کسی نے ان کو بتایا ہی نہیں کہ یہ مقدمہ کووارنٹو کا ہے، اقربا پروری تو ایک گراؤنڈ کے طور پر زیر بحث آیا تھا جب کہ درخواست گزار نے تو اقربا پروری کا ایشو اٹھایا ہی نہیں تھا۔یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں کے ایک پینل کو حالیہ انٹرویو کے دوران شکوہ کیا تھا کہ انہیں چیف جسٹس کی جانب سے اقربا پروری کے ریمارکس پر بے حد افسوس ہوا۔چینی کے 25 لاکھ تھیلے غائب ہونا مجرمانہ فعل ہے ، وکیل بینک نعیم بخاری یہ فراڈ ہوا ہے تو سول اور فوجداری فورم سے رجوع کریں، لگتا ہے بینک گارنٹی کے لیے ساری کارروائی کاغذی تھی ، چیف جسٹس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کرے گی اور عدالت کا یہی حکم ہے ،ملوث افرادکے خلاف کارروائی کی جائیگی ، ریمارکسچیف جسٹس ثاقب نثار نے جعلی بینک اکانٹس کیس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ اومنی گروپ کی دھمکیوں کی آڈیو ریکارڈنگ موجود ہے اس لیے مجید فیملی سے جیل میں موبائل فون اس لیے چھینے گئے ہیں۔ بدھ کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں بینچ نے مبینہ جعلی بینک اکاونٹس کیس کی سماعت کی ۔سماعت کے آغاز پر اومنی گروپ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بینکوں اور اومنی گروپ کو قرضوں کی ادائیگی پر سیٹلمنٹ معاہدے پیش کرنے ہیں ۔ بینک کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ چینی کے 25 لاکھ تھیلے غائب ہونا مجرمانہ فعل ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ یہ فراڈ ہوا ہے تو سول اور فوجداری فورم سے رجوع کریں، لگتا ہے بینک گارنٹی کے لیے ساری کارروائی کاغذی تھی، بینک کے جو لوگ ملوث ہیں ان کے خلاف بھی پرچہ درج کرائیں، قرضہ اور گارنٹی معاملے میں جو ملوث ہیں ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کرے گی اور عدالت کا یہی حکم ہے۔اومنی گروپ کے وکیل شاہد حامد نے کہا کہ گروپ کسی کا نادہندہ نہیں ہے، اس کی شوگر ملیں بند ہونے سے کسان پریشان ہیں۔اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ شوگر ملز کو عدالت ٹیک اوور کرے گی ،کسان کا نقصان نہیں ہونے دیں گے۔عدالت نے کہا کہ اومنی گروپ نے بینک کو رکھی گارنٹی میں بھی بدنیتی کی، گروپ کے خلاف فوجداری کارروائی کا بینک خواہش مند ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پرچہ درج ہو جس وقت سمجھوتہ ہونا ہوگا ہو جائے گا، اومنی گروپ صرف وقت حاصل کرنا چاہتا ہے، سمجھوتہ کرنا ہے تو 5 ارب روپے بینک کو ادا کر دیں۔اس موقع پر اومنی گروپ کے وکیل نے استدعا کی کہ عدالت تھوڑا وقت دے دے، مجھے موکل سے ہدایات لینا ہیں، عبدالغنی مجید سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کرنی ہے۔عدالت نے عبد الغنی مجید اور حسین لوائی کے وکلا کو ملاقات کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ اومنی گروپ کے وکلا اپنے موکلان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کرنا چاہتے ہیں، موکلان ملاقات کرکے عدالت کو آگاہ کریں۔اومنی گروپ کے وکیل نے عدالت سے کیس آج تک ملتوی کرنے کی درخواست کی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ رات تک بیٹھے ہیں، کینٹین کھلی ہے وہاں جائیں چائے پئیں، آپ نے مقدمے میں کتنی فیس لی، اگر بتا دوں تو لوگ حیران ہوجائیں گے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اومنی گروپ کی دھمکیوں کی آڈیو ریکارڈنگ موجود ہے، مجید فیملی سے جیل میں موبائل فون اس لیے چھینے گئے ہیں

سپریم کورٹ

مزید : صفحہ اول